0
Thursday 19 Apr 2012 19:46

بلوچستان ميں تمام سياسی جماعتوں کے حکمران صرف اقتدار کے لئے موجود ہيں، جاوید ہاشمی

بلوچستان ميں تمام سياسی جماعتوں کے حکمران صرف اقتدار کے لئے موجود ہيں، جاوید ہاشمی
اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحريک انصاف کے مرکزی رہنماء مخدوم جاويد ہاشمی نے کہا ہے کہ بلوچستان ميں تمام سياسی جماعتوں کے حکمران صرف اقتدار کے لئے موجود ہيں، وہاں بہنے والے خون کو روکنے کے لئے کوئی نہيں ہے، بلوچستان کا مسئلہ 50 سال پرانا ہے۔ ہر حکومت نے اس مسئلہ کی آگ پر پانی ڈالنے کی بجائے پٹرول ڈالا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان اپنی رہائش گاہ پر پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مخدوم جاويد ہاشمی نے کہا کہ بلوچستان آگ کے سمندر سے گزر رہا ہے، وہاں کے عوام کو تنہاء نہيں چھوڑنا چاہيے، سپريم کورٹ بھی بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کے لئے پورا زور لگا چکی ہے کوئی حل نہيں نکلا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ انگريزوں کے خلاف تمام جنگيں بلوچوں نے لڑيں، سارے نشان حيدر بلوچوں کے لئے ہونے چاہيں ليکن ايوب دور ہو يا ذوالفقار بھٹو کا دور بلوچوں کا قتل عام اور جيلوں ميں ڈالنے کا سلسلہ جاری رہا. ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں کے دکھ ميں اب عملی طور پر شريک ہونا ہو گا، نواب لشکر رئيسانی کے تحريک انصاف ميں شموليت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ فی الحال ان کی شموليت کے حوالے سے کچھ نہيں کہا جا سکتا۔ صدر کے حاليہ دورہ ملتان اور سرائيکی بينک کے قيام پر مخدوم جاويد ہاشمی نے کہا کہ لوگ مہران بينک، پنجاب بينک کا حال تو ديکھ ہی چکے ہيں اب صدر کے سرائيکی بينک کے لٹنے کی داستان بھی ديکھ ليں گے۔

 انہوں نے کہا کہ سرائيکی صوبہ سرائيکی زبان اور عوام کی توہين ہے۔ سرائيکی صوبہ ايک نہيں چار اور پانچ بننے چاہيں۔ سرائيکی بہت بڑی زبان ہے جو کوہاٹ، سبی، جعفرآباد، نصير آباد، لاڑکانہ، ڈيرہ اسماعيل خان سميت نواب شاہ ميں بھی بولی جاتی ہے۔ کيا صدر سرائيکی صوبہ کو نواب شاہ تک لے کر جائيں گے؟ انہوں نے کہا کہ مياں شہباز شريف کون ہوتے ہيں يہ کہنے والے کہ پہلے کراچی ميں صوبہ بناو تب سرائيکي صوبہ بنے گا۔ جو صوبہ مانگ رہا ہے اسے صوبہ دينا چاہيے، کراچی ايک اور صوبہ نہيں مانگ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مياں شہباز شريف ليپ ٹاپس تقسيم کرتے ہوئے کبھی اسے کھول کر اس ميں کچھ پڑھ بھی ليں۔
 
جاوید ہاشمی نے کہا کہ ملک کو جتنے صوبوں ميں تقسيم کيا جائے گا ملک اتنا مضبوط ہو گا۔ انڈيا ميں جتنے صوبے بنے لاء اينڈ آرڈر کی صورتحال اتنی ہی بہتر ہوئ۔ مخدوم جاويد ہاشمي نے پريس کانفرنس ميں مياں نواز شريف کو پيغام ديا کہ وہ اکثر ميری گاڑی کا ذکر کرتے ہيں جو انہوں نے مجھے دی تھی انہيں بتا دينا چاہتا ہوں کہ آپ کی جلا وطنی کے دوران ميں نے پارٹی کو 6 سال چلايا اور کبھي اس دوران آپ کی طرف سے کوئی فنڈ نہيں ملا۔ لاہور مسلم ٹاون ميں مسلم ليگ (ن) کا مرکزی دفتر ان کے دوست ممتاز خالد کا ہے، ميرے پارٹی چھوڑنے کے بعد 2 کينال کا مکان خالی کروانے کا تقاضا کر رہا ہے اسے اب خالی کر ديں۔
خبر کا کوڈ : 154821
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب