0
Wednesday 16 May 2012 14:58

بلوچستان میں امریکی و بھارتی مداخلت پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کیوں خاموش ہے، فضل کریم

بلوچستان میں امریکی و بھارتی مداخلت پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کیوں خاموش ہے، فضل کریم
اسلام ٹائمز۔ سنی اتحاد کونسل کے مرکزی دفتر میں مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے کہا ہے کہ 98 فیصد عوام نیٹو سپلائی کی بحالی کے مخالف اور 2 فیصد حکمران طبقہ بحالی کے حق میں ہے، عالمی برادری نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی بجائے امریکہ کو ڈرون حملے بند کرنے اور سانحہ سلالہ پر معافی مانگنے پر مجبور کرے، قومی مفاد نیٹو سپلائی کی مستقل بندش ہے، سیاسی قائدین کے منفی رویہ کی وجہ سے سیاسی انتہاپسندی پروان چڑھ رہی ہے جو ملک و قوم کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

صاحبزادہ فضل کریم نے مزید کہا کہ اگر سیاسی قائدین نے اپنے رویے میں لچک پیدا نہ کی تو سیاسی خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ ملک بدحال اور حکمران خوشحال ہو گئے ہیں، 66 سال سے عوام قربانی دیتے آ رہے ہیں، اب حکمران اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو سپلائی کی بحالی کے لیے بے تاب حکمرانوں کو عوامی ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں،وہ امریکی خوشنودی کے لیے ہر قومی مفاد کو قربان کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ سنی اتحاد کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پر حکمرانی کرنے والے اپوزیشن نہیں حکمران ہیں اور ملکی مسائل میں برابر کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امریکی و بھارتی مداخلت پر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کیوں خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ امریکہ کی باندی ہے جہاں امریکی مفادات متاثر ہو رہے ہوں تو وہاں اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں شور مچا دیتی ہیں لیکن جہاں امریکی بربریت ہو وہاں یہ جان بوجھ کر آنکھیں موند لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ فوری طور پر اس مداخلت کا نوٹس لے۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے کسی بھی شرط پر نیٹو سپلائی بحال نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور بے لگام لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے ہنگامی اور عملی اقدامات کرنے پر زور دیا گیا۔
خبر کا کوڈ : 162465
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب