0
Sunday 27 May 2012 21:17

بلوچستان کی طویل سرحدی پٹی اسمگلروں کی جنت بن گئی

بلوچستان کی طویل سرحدی پٹی اسمگلروں کی جنت بن گئی
اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کی جفرافیائی ساخت اور محل وقوع جہاں تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ وہیں جرائم پیشہ افراد ہمسایہ ممالک سے منسلک طویل سرحدی پٹی پر منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے گھناؤنے کاروبار میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ 

منشیات اور انسانی اسمگلنگ ایک منظم نیٹ ورک، غیرقانونی اور منافع بخش کاروبار ہے۔ اقتصادی بدحالی کی وجہ سے سینکڑوں پاکستانی اور افغان پاشندے سہانے مستقبل کے خواب سجائے اور بہتر ذریعہ معاش کی تلاش میں مختلف انسانی اسمگلروں کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں جن میں سے بیشتر افراد ایران، ترکی اور دیگر یورپی ممالک میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں یا سمندر میں ڈوب کر زندگی کی بازی ہار جارتے ہیں۔ اسمگلرز پاکستان کی ایران کے ساتھ 900 کلومیڑ طویل سرحد اور سندھ اور بلوچستان کی 814 کلومیڑ طویل ساحلی پٹی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑےجہازوں اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے خواتین، بچوں اور منشیات کو عرب اور یورپی ممالک کے ذریعے اسمگل کرتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 166112
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے