0
Thursday 6 Dec 2012 10:07

پاراچنار، خرلاچی بارڈر پر ایف سی کا چھاپہ، طوری قبیلے کے 2 افراد کو گرفتار کرلیا گیا

پاراچنار، خرلاچی بارڈر پر ایف سی کا چھاپہ، طوری قبیلے کے 2 افراد کو گرفتار کرلیا گیا
اسلام ٹائم۔ آج صبح خرلاچی بارڈر پر چھاپہ مارکر ایف سی کی بھاری نفری نے دو جوانوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آج علی الصبح سید کاظم حسین احمدزئی، سید مبین حسین، سید جمشید حسین خرلاچی، ممتاز حسین کراخیلہ اور رضا حسین آف بیلیامین پاک افغان بارڈر کے قریب اپنی دکانوں میں بیٹھے تھے کہ اسی اثناء میں ایف سی کی بھاری نفری نے انکو محاصرے میں لے لیا۔ کاظم حسین، جمشید حسین اور ممتاز حسین تو بچ کر نکل گئے جبکہ انکے دو ساتھیوں سید مبین حسین اور رضا حسین موقع پر ہی گرفتار کرلیا گیا۔ 

حکومتی کارروائی کے ردعمل میں خرلاچی والوں نے ایف سی کی پوری نفری کو محاصرے میں لیا۔ مگر اس دوران انجمن حسینیہ نے مداخلت کرکے ان میں مصالحت کروائی اور عوام کا محاصرہ ہٹا کر رضا حسین اور سید مبین حسین کو ملیشیا کے حوالے کردیا اور لوگوں کو تسلی دی کہ گرفتار ہونے والوں کو رہا کروانے میں ہم تعاؤن کریں گے اور انکی رہائی میں کوئی دیر نہیں لگے گی۔ علاقے کی عوام اور مختلف سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے حکومت کی اس کارروائی کی مذمت کی اور کہا ہے کہ حکومت سے ہم نے بار بار کہا ہے کہ کسی بھی مطلوب شخص کی گرفتاری کے سلسلے میں انکے گھر کے نزدیک جانے سے گریز کیا جائے۔ بلکہ بازار یا کسی سرکاری پھاٹک سے اسے آسانی سے گرفتار کیا جاسکتا ہے، جبکہ اس سلسلے میں حکومت نے بھی یقین دھانی کرائی تھی کہ آئندہ ایسا نہیں کیا جائے گا۔ مگر ایک بار پھر حکومت نے اس سے کہیں بڑی غلطی کی۔ انہوں نے بے گناہ عوام کو تنگ کرنے کی حکومتی پالیسی کی مذمت کی۔
واضح رہے کہ مذکورہ تمام افراد پر یہ الزام ہے کہ انکے افغان حکومت کے ساتھ روابط ہیں۔ اسکے علاوہ مزکورہ افراد پر مختلف قسم کے دیگر الزامات بھی ہیں مثلا یہ کہ انکے طالبان کے ساتھ گہرے روابط ہیں اسکے علاو ہ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انکے امریکی افواج کے ساتھ بھی روابط ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے خلاف بہلے بھکی کاروائیاں کی جاچکی ہیں۔ کاظم حسین کو گرفتار کرکے کئی ماہ تک ان سے تفتیش کی گئی۔ اسکے علاوہ رضا حسین پر اس سے پہلے بھی دو مرتبہ چھاپہ ڈالا گیا تھا۔ مگر وہ بچ کر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ اس سلسلے میں عوام کی ان سے کوئی دلچسپی بھی نہیں تاہم عوام کو حکومت سے یہ شکایت ہے کہ وہ ان لوگوں کو بازار میں گرفتار کرنے  کی بجائے چادر اور چاردیواری کی حرمت کو پامال کرتے ہوئے گھروں سے کیوں گرفتار کرتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 218338
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب