0
Friday 22 Mar 2013 15:41
امریکہ کیطرف سے ایک بار پھر اسرائیل کی حمایت پر زور

جب تک امریکہ موجود ہے اسرائیل کو تنہا نہیں چھوڑیگا، باراک اوباما

جب تک امریکہ موجود ہے اسرائیل کو تنہا نہیں چھوڑیگا، باراک اوباما
اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے ملک کی طرف سے اسرائیلی حکومت کی مکمل حمایت پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن ہرگز تل ابیب کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ جمعرات کے روز مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جب تک امریکہ موجود ہے آپ تنہا نہیں ہیں۔ باراک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ اسرائیل کا بہترین دوست اور اہم ترین اتحادی ہے۔ امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کی حفاظت کے سلسلے میں امریکہ اپنے وعدوں کی پابندی کرے گا۔

باراک اوباما نے دنیا کی دیگر حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان کی تحریک مزاحمت حزب اللہ کا نام ایک دہشتگرد گروہ کی حیثیت سے اپنی بلیک لسٹ میں شامل کریں۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہر وہ ملک جو عدل و انصاف کو اہمیت دیتا ہے، اسے چاہیئے کہ حزب اللہ کو اسی نام سے پکارے، جس کا وہ حق دار ہے یعنی ایک دہشتگرد گروہ۔ اسی طرح امریکی صدر نے ایک بار پھر شام کے صدر بشار الاسد سے اپنا عہدہ چھوڑنے اور حکومت سے علیحدگی کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے تاکید کی کہ شام کے بہتر مستقبل کے لئے بشارالاسد کو حکومت سے الگ ہو جانا چاہیئے۔

 قبل ازیں مقبوضہ بیت المقدس میں صدر اوباما نے اسرائیلی صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایران کے جوہری تنازعے پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اس بات کی بہت قدر کرتے ہیں کہ امریکی صدر نے اپنی دوسری مدتِ صدارت کے بعد پہلا بیرونی دورہ اسرائیل کا کیا ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ ان کے اور اسرائیل کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
 
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ صدر اوباما ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے کلی طور پر پرعزم ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ وہ اور صدر اوباما دونوں شام کو پرامن اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ شام کے کیمیائی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن کے متمنی ہیں۔ ہم فلسطینی عوام کی طرف امن اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر کے دورے سے فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات کا نیا باب شروع ہوگا۔ 

صدر اوباما نے کہا کہ اسرائیلی کی سلامتی ایک سنجیدہ فرض ہے۔ اسرائیل کو فوجی امداد دینے پر بات چیت کی جائے گی اور امریکہ آہنی گنبد دفاعی، میزائل سسٹم کے لئے مزید 20 کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطی میں پائیدار امن کے لئے ایک مضبوط اور محفوظ یہودی ریاست ضروری ہے، جس کے ساتھ ایک خود مختار فلسطینی ریاست بھی موجود ہو۔ ایران کے بارے میں انہوں نے کہا ہم اپنے اہداف پر متفق ہیں، یعنی ایران کو جوہری اسلحہ حاصل نہ کرنے دینا۔ اس تنازعے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا چاہتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 248449
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب