0
Tuesday 3 Jun 2014 21:25

پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان میڈیا سیل نے تنظیم کے اوپر عائد الزامات پر تردیدی بیان جاری کر دی

پاکستان مسلم لیگ  (ن) گلگت بلتستان میڈیا سیل نے تنظیم کے اوپر عائد الزامات پر تردیدی بیان جاری کر دی
اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے مرکزی میڈیا سیل نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے کبھی ذاتیات کی سیاست نہیں کی بلکہ یہ گلگت بلتستان کی واحد عوامی جماعت ہے جس نے عوامی مفادات کیلئے ہمیشہ آواز بلند کی۔ میڈیا سیل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ پانچ سال گواہ ہے کہ مسلم لیگ نون نے علاقے میں گڈ گورننس، شفّاف نظام اور میرٹ و احتساب کی بات کی ہے جس کے عوض مسلم لیگ (ن) کی عوامی قیادت کو ذاتی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اس حد تک کردار کشی کرنے کی کوشش کی گئی کہ آج تنقید کرنے والے خود عوام کی نظروں میں گر گئے ہیں۔ میڈیا سیل نے کہا کہ حفیظ الرحمٰن پر تنقید سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے، ان کے بھائی پرمن گھڑت ٹھیکوں کے الزامات محض اس لوٹ کھسوٹ سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے جو اس صوبائی حکومت اور وزیراعلٰی نے کی ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ حفیظ الرحمٰن کے بھائی کے نام کوئی بھی ٹھیکہ ثابت ہو جائے تو مسلم لیگ نون عوامی و عدالتی کٹہرے میں کھڑے ہونے کو تیار ہے بصورت دیگر الزام لگانے والوں کو احتسابی عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ میڈیا سیل نے کہا کہ بطور جماعت مسلم لیگ نون کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مفادات، ترقی اور منصوبوں کا تحفظ کرے کیوں کہ قومی خزانے کو جعلی منصوبوں کے نام پر لوٹنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔ میڈیا سیل نے کہا کہ ذوالفقار آباد برج کیا گلگت بلتستان کا عوامی منصوبہ نہیں جسے گزشتہ 9 سال سے صرف لوٹ کھسوٹ کیلئے مکمل نہیں کیا جا رہا ہے اور وزیراعلٰی ایسے ہی منصوبوں میں اپنے حواریوں کے ساتھ عوامی خزانے کو لوٹ رہے ہیں۔

میڈیا سیل نے کہا کہ ذوالفقار آباد برج 2006ء میں شروع ہوا اس کی لمبائی 115 سے 153 میٹر صرف اس لئے کی گئی تاکہ مال بنایا جائے 3 لاکھ 88 ہزار روپے فی میٹر سے بڑھا کر وزیراعلٰی نے 6 لاکھ 52 ہزار روپے فی میٹر کر دی اور تمام ضابطوں کو نظر انداز کیا گیا۔ موبالائزیشن کی مد میں 89 لاکھ روپے جبکہ 3 کروڑ 8 لاکھ روپے اندھے انداز میں ٹھیکیدار نے وصول کئے۔ ٹھیکیدار کے معاہدے اور انڈر ٹیکنگ کے باوجود اس منصوبے کو ایسکلیشن موبالائزیشن نرخوں میں ڈال کر 4 کروڑ روپے کے منصوبے کو آج 10 کروڑ کا منصوبہ بنا دیا گیا ہے لیکن پل آج بھی نامکمل ہے۔ اسی طرح سیکرٹریٹ بلڈنگ جوٹیال میں بھی بے ضابطگیوں کا یہ عالم ہے کہ صرف اس کے ٹھیکیدار کو ڈھائی کروڑ روپے کی جنرل ایسکلیشن دی گئی ہے جبکہ تعمیراتی تاریخ میں سٹیل کے علاوہ ایسی ایسکلیشن کسی دوسرے ٹھیکیدار کو نہیں دی گئی۔ یہاں یہ ثابت کرتا ہے کہ وزیراعلٰی مہدی شاہ ذوالفقار آباد برج اورسیکرٹریٹ بلڈنگ جوٹیال کی تعمیراتی کمپنی کے لوٹ کھسوٹ میں پارٹنر ہیں۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ قومی خزانے کو لوٹنے والوں اور مفاد عامہ کے منصوبوں کو تاخیری حربوں میں ڈال کر مال بنانے والوں کا احتساب کون کرے گا۔ مسلم لیگ نون گلگت بلتستان عوامی خزانے کو لوٹنے والوں کو بے نقاب کرے گی اور واضع کرنا چاہتی ہے کہ وزیراعلٰی سید مہدی شاہ اور ان کی ٹیم قومی احتساب کے شکنجے کی طرف بڑھ رہے ہیں گلگت بلتستان کی عوام موجودہ چیف سیکرٹری اور سیکرٹری ورکس سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ایسی میگا کرپشن کے منصوبوں کا نوٹس لیں وہاں ان کی تکمیل کو بھی ممکن بنوائیں۔

میڈیا سیل نے کہا کہ یہ سفید جھوٹ ہے کہ ہمارا ترجمان یونیورسٹی میں لیکچرار ہے جبکہ الزام لگانے والوں کو لوٹ کھسوٹ سے فرصت ملے تو انہیں معلوم ہو کہ مسلم لیگ نون کا ترجمان فاروق میر ہے جو سرکاری و عوامی سطح پر معروف ہیں جن موصوف یعنی شمس میر کے بارے میں یہ ہرزہ سرائی کی گئی ہے۔ وہ قراقرم یونیورسٹی ہی کے نہیں بلکہ معروف یورپ کی یونیورسٹی کے اعلٰی گریجویٹ اور ٹاپر ہیں جنہیں یونیورسٹی نے آفر دے کر فیکلٹی میں شامل کیا ہے، نیز وہ معروف کالم نویس، گورننس کے ماہر اور مشیر مانے جاتے ہیں۔ میڈیا سیل نے کہا کہ مسلم لیگ نون علاقے کی ترقی، گڈگورننس اور بہترین احتسابی نظام کیلئے بہترین دماغوں کا ایک تھینک ٹینک رکھتی ہے جس میں معاشرے کے اعلٰی تعلیم یافتہ شصخیات سے بہترین اصلاحات کیلئے استعفادہ کیا جاتا ہے۔ میڈیا سیل نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت سابقہ چیف سیکرٹری کو بھی مسلم لیگ نون کا عہدیدار سمجھتی تھی کیوں کہ اس نے احتساب اور ان کی لوٹ کھسوٹ کو عوام کے سامنے کھول کر رکھ دیا تھا۔ میڈیا سیل نے کہا کہ مہدی شاہ اور اس کے چالیس چور بہت جلد اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں جس کے خوف سے آج وہ کھسانی بلی کھمبا نوچے کی نفسیاتی بیماری کا شکار ہو چکے ہیں دوسری طرف ان کے اخباری بیان انہیں خود عوام کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 388673
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب