0
Saturday 2 Oct 2010 12:56

وضاحت تک ساتھ نہیں دیں گے،جنرل اشفاق پرویز کیانی،آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے،جنرل ڈیوڈ پیٹریاس

وضاحت تک ساتھ نہیں دیں گے،جنرل اشفاق پرویز کیانی،آئندہ ایسے واقعات نہیں ہوں گے،جنرل ڈیوڈ پیٹریاس
 برسلز،راولپنڈی،واشنگٹن:اسلام ٹائمز-وقت نیوز کے مطابق پاکستانی سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان نے نیٹو ہیڈ کوارٹرز میں باضابطہ طور پر احتجاج کیا ہے۔دوسری جانب آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پینٹاگون سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے نیٹو کے حملے پر شدید برہمی کا اظہار کا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق آرمی چیف نے جنرل مائیک مولن اور جنرل ڈیوڈ پیٹریاس سے فون پر بات کی اور دوٹوک الفاظ میں کرم ایجنسی میں نیٹو کی کارروائی کی وضاحت طلب کی۔انہوں نے کہا کہ جب تک وضاحت نہیں ملتی نیٹو کا ساتھ نہیں دیں گے۔اس سلسلے میں افغان سرحد سے اہلکاروں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔آرمی چیف نے قبائلی علاقوں میں نیٹو کی کارروائی کو پاکستان پر حملہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ملوث افسروں اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے،آرمی چیف نے اس سلسلے میں سہ فریقی کمشن کا ہنگامی اجلاس بلانے پر بھی زور دیا۔
وقت نیوز کے مطابق امریکی سینٹ کام کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے جنرل کیانی کو فون کر کے کرم ایجنسی میں ایساف ہیلی کاپٹروں کے حملے پر تبادلہ خیال کیا۔انہوں نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ ایساف کی کمان میں ہوا ہے،جو افسوسناک ہے۔پیٹریاس نے آئندہ ایسے واقعات نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی۔پاکستانی کمانڈر کے مطابق ایسے واقعات سے دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہوئی ہے۔
برسلز میں پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان کے مطابق یورپی یونین اور بیلجیئم کے لئے پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے نیٹو کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی اور نیٹو و ایساف ہیلی کاپٹرز کی طرف سے پاکستانی سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے انہیں احتجاجی مراسلہ دیا۔جلیل عباس جیلانی نے ان واقعات کی سختی سے مذمت کی اور کہا کہ یہ واقعات نیٹو اور پاکستان کے درمیان تعاون کی نفی کرتے ہیں۔ایسے واقعات نہ صرف سنگین غلطیوں کا باعث بنیں گے،بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔انہوں نے نیٹو سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ان واقعات کی مکمل تحقیقات کرائے۔ نیٹو کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کے واقعات پر اظہار افسوس اور معذرت کی کہ یہ واقعات بہت بڑی بدقسمتی ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ نیٹو پاکستان کو اپنا ایک اہم اتحادی سمجھتا ہے،ان واقعات کی تفصیلی تحقیقات کرائی جائیں گی،تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں۔جلیل عباس نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ نیٹو نے کرم ایجنسی کی چیک پوسٹ پر ایساف فورسز کی جانب سے فائرنگ پر پاکستان سے معذرت کر لی ہے۔نیٹو نے حملے کی غلطی تسلیم کرتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سے سرحد پار تعاون کو مزید بہتر بنانے کے لئے مذاکرات کر رہے ہیں۔ وزیراعظم،جنرل کیانی،وزیر خارجہ سب سے رابطہ رہتا ہے،پاکستان میں جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں،امریکہ کا پاکستان سے تعاون مثالی رہا ہے۔ 
دریں اثناء میڈیا اطلاعات کے مطابق امریکہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد پار سے افغانستان پر حملوں کا سلسلہ بند کرائے ورنہ امریکی فوج خود پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارورائی کرے گی۔ان میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو امریکہ کی جانب سے یہ پیغام سینیٹر جان کیری،کارل لیوین اور رکن کانگریس ہاروڈ ہرمان کی طرف سے دیا گیا،تینوں امریکی رہنماﺅں نے مطالبہ کیا کہ حقانی نیٹ ورک اور دیگر دہشت گرد گروپ افغانستان میں نیٹو فورسز پر حملوں کے لئے پاکستانی بیسز استعمال کرتے ہیں،پاکستان کو چاہئے کہ وہ ان حملوں کو رکوانے کے لیے ٹھوس حکمت عملی اپنائے،ورنہ نیٹو اور امریکی فورسز کو پاکستان میں موجود ان دہشت گردوں کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 
دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کول ڈیو لیپان نے امریکی فوج کے ہاتھوں تین پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں نیٹو کے اس دعوے کا بھرپور دفاع کیا کہ یہ ہلاکتیں اتفاقیہ ہوئی ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سرزمین میں نیٹو فورسز کی مداخلت ناقابل قبول ہے۔امریکی حکام کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں بھی اس معاملے کو اٹھایا ہے۔نیٹو فورسز کی مداخلت ان کو دئیے گئے مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہے۔ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے چاہئیں۔پاکستان میں مداخلت کے معاملے کو سنیٹر جان کیری اور امریکی نیشنل ایڈوائزر جیمز جونز کے ساتھ اٹھایا گیا۔امریکی دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا نیٹو سپلائی کا روٹ بہت اہم ہے،نیٹو سپلائی کے اور بھی راستے ہو سکتے ہیں،پاکستانی حکومت کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے کوشاں رہیں گے۔پاکستانی عوام نے ثابت کیا ہے کہ وہ آمریت کی بجائے جمہوریت چاہتے ہیں،کون اقتدار کرے گا اس کا فیصلہ پاکستانی عوام کرے گی۔
خبر کا کوڈ : 38953
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب