0
Wednesday 30 Jul 2014 08:44

پاراچنار، نماز عید کے بعد احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا

پاراچنار، نماز عید کے بعد احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا
اسلام ٹائمز۔ ملک بھر کی طرح پاراچنار میں بھی عیدالفطر منگل 29 جولائی کو بڑے عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ مرکزی عیدگاہ پاراچنار سمیت پاراچنار کے ملحقہ اکثر دیہاتوں کی مساجد اور امام بارگاہوں میں نماز عیدالفطر ادا کی گئی۔ عیدالفطر کی نماز زیڑان میں علامہ سید عابد حسین الحسینی جبکہ پاراچنار میں مولانا خیال حسین کی اقتداء میں ادا کی گئی۔ نماز عید میں نماز گزاروں نے بھرپور شرکت کی۔ عید کے خطبوں میں پاراچنار سمیت پاکستان بھر میں دہشت گردی سے نجات پانے کیلئے بارگاہ الٰہی میں خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ 

دوسری جانب نماز عید کے بعد مشتعل افراد نے پاراچنار سے جلا وطن کئے جانے والے بعض افراد سے پابندی ہٹانے کے حق میں مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر مشتعل افراد نے شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے احتجاجی ریلی بھی نکالی۔ احتجاجی ریلی عیدگاہ سے ہوتی ہوئی جب پی اے دفتر کے مین گیٹ کے سامنے پہنچی تو سرکاری اہلکاروں نے انہیں روکنے کی خاطر ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ تاہم مشتعل افراد کو روکا نہ جاسکا۔ احتجاجی ریلی نے پی اے دفتر کے سامنے پہنچ کر دھرنے کی شکل اختیار کرلی۔ مشتعل افراد نے اپنے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر پاراچنار کی طرف آنے والے تمام راستوں پر سکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور کسی بھی گاڑی حتی کہ پیدل جانے والے افراد کو بھی پاراچنار جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ 

دھرنا تاحال جاری ہے، مطالبات کے حوالے سے حکومت نے قیدیوں کی رہائی کا وعدہ تو کرلیا، تاہم علاقہ بدر عالم پر سے پابندی ہٹانے کو کور کمانڈر کا کام قرار دیکر خود کو اس حوالے سے بری الذمہ قرار دیا۔ حکومت نے آج بدھ کو صبح دس بجے تک کا الٹی میٹم دیا ہے، ورنہ اسکے بعد آرمی ایکشن لے گی۔ واضح رہے کہ گذشتہ الیکشن کے دوران متعدد افراد میں سے ایک مخصوص نمائندے کے اعلان پر دوسرے امیدواروں اور انکے حمایتیوں کے شدید احتجاج کی بنا پر مرکزی امام بارگاہ کے ایک نان لوکل خطیب کو علاقہ بدر کیا گیا تھا۔
خبر کا کوڈ : 402107
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب