1
0
Friday 3 Jul 2015 16:35
سیرت امام حسنؑ سے الہام حاصل کرتے ہوئے ہم نے ملک میں اتحاد و وحدت کی جدوجہد کو آگے بڑھایا

قومی ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوا تو مجبوراً اپنی دفاعی پالیسی خود ترتیب دینگے، علامہ ساجد نقوی

ہماری پالیسی کی وجہ سے دہشتگرد تکفیری عناصر کو گندگی کے ڈھیر پر بھی جگہ نہیں مل رہی
قومی ایکشن پلان پر عمل نہیں ہوا تو مجبوراً اپنی دفاعی پالیسی خود ترتیب دینگے، علامہ ساجد نقوی
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل کراچی ڈویژن ملیر زون کے زیرِ اہتمام جشن ولادت باسعادت نواسہ رسول اکرم (ص) حضرت امام حسن (ع) کی مناسبت سے منعقدہ پانچ روزہ سالانہ پیام نور سیمینار کا اختتامی پروگرام 14 رمضان کو مرکزی امام بارگاہ جعفریہ طیار سوسائٹی ملیر میں منعقد کیا گیا، سیمینار میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے خطاب کیا۔ اس موقع پر ایس یو سی سندھ کے صدر علامہ ناظر عباس تقوی سمیت علماء کرام اور مومنین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ موجودہ حالات میں امام حسن علیہ السلام کی سیرت پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے، امام حسن (ع) کی صلح عالم اسلام کیلئے نقطہ آغاز کا مقام رکھتی ہے، جس سے سبق حاصل کرکے مسلمان انتشار و افتراق، جنگ و جدال اور قتل و غارت گری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امام حسن (ع) کی سیرت و کردار سے الہام حاصل کرتے ہوئے ہم نے بھی پاکستان میں اتحاد و وحدت کی جدوجہد کو آگے بڑھایا، جس سے نہ صرف ارض پاک انتشار و افتراق سے محفوظ رہا، بلکہ پاکستانی عوام بھی اخوت کی لڑی میں پروے جا چکے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ اتحاد بین المسلمین کا فروغ اور اخوت و وحدت ہمارا دینی و اسلامی فریضہ ہے۔

علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ اسلام کی بقاء اور امت کی وحدت کیلئے ہم ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں، لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، قومی ایکشن پلان بننے کے بعد سب سے زیادہ حملے تشیع پر ہوئے، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایکشن پلان کی ناکامی اور ملکی بقاء و سلامتی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز حکومت قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنائے، تاکہ ملک و ملت کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے، اگر قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، تو ہم مجبور ہوں کہ اپنی دفاعی پالیسی خود ترتیب دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے بانی ہیں، متحدہ مجلس عمل ہو یا ملی یکجہتی کونسل، سارے پلیٹ فارم ہماری کوششوں اور جدوجہد سے بنے، اور ہماری اسی پالیسی کی وجہ سے آج پاکستان میں دہشتگرد تکفیری عناصر کو گندگی کے ڈھیر پر بھی جگہ نہیں مل رہی ہے۔ گلگت بلتستان انتخابات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے مولانا آغا راحت حسین الحسینی کے فارمولے کو دل و جان سے قبول کرتے ہوئے عمل کیا، لیکن دوسرے گروہوں کی جانب سے اس پر عمل نہیں کیا گیا، لیکن میں ان گروہوں کے اعمال کا جوابدہ نہیں ہوں، ہماری حکمت عملی و بصیرت کی بدولت نظریاتی افراد گلگت بلتستان اسمبلی میں پہنچے، اور قومی پلیٹ فارم اسلامی تحریک گلگت بلتستان میں دوسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔
خبر کا کوڈ : 471277
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Romania
agar is bayan ke takrar ki tedad ko ginna pare to calculater ki zrt pare gi
منتخب