1
0
Saturday 30 Apr 2011 11:57

عالمی طاقتیں اور میڈیا بحرین کے مسئلہ پر اپنی دوغلی پالیسی ترک اور بحرین کے مظلوم عوام کی حمایت کریں، راحت حسین الحسینی

عالمی طاقتیں اور میڈیا بحرین کے مسئلہ پر اپنی دوغلی پالیسی ترک اور بحرین کے مظلوم عوام کی حمایت کریں، راحت حسین الحسینی
گلگت:اسلام ٹائمز۔ امام جمعہ واجماعت آقا سید راحت حسین الحسینی نے نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارا چنار گزشتہ چار پانچ سالوں سے محاصرے میں ہے۔  بچے، بوڑھے، خواتین اور بیمار سخت اذیت کا شکار ہیں۔ دہشت گرد روزانہ مظلوم لوگوں کا قتل عوام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور راہ چلتے مسافروں کو اغوا کرتے ہیں اور کئی کئی ہفتوں تک قید میں رکھ کر پھر ان کی سربریدہ لاشوں کو ویرانوں میں پھینکتے ہیں۔ حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ وہاں قومی میڈیا خواہ وہ الیکٹرانک ہو یا پرنٹ میڈیا ان معلومات و مظلوم لوگوں کے ساتھ ہونے والی ظلم و بربریت کو دکھانے یا لکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا جبکہ ملک میں دیگر ایشوز کے حوالے سے کوئی چھوٹا واقع رونما ہوتا ہے تو سارے چینلز اور اخبارات واویلا مچا دیتے ہیں۔ جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی طاقتیں اور عالمی میڈیا یمن، عراق، مصر اور لیبیا میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت اور پشت پناہی کرتے ہیں۔ لیکن بحرین میں ظلم و بربریت کے خلاف ہونے والے پرامن مظاہروں کو جائز نہیں سمجھتے بلکہ امریکی ایما پر آل سعود کے ذریعے طاقت سے ختم کرنے کے درپے ہیں جس کی وجہ صرف اور صرف بحرین میں شیعہ اکثریت کا ہونا ہے۔ ہم اس دوغلی پالیسی اپنانے پر امریکہ اور اس کے حواریوں کے خلاف بھرپور احتجاج کرتے ہیں اور تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اگر لیبیا، مصر، عراق، افغانستان کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہیں تو بحرین کے مسلمانوں کی بھی حمایت کریں۔
نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ غذر حلقہ ایک کے انتخابات میں عوام کی طرف سے تمام تر سازشوں کے باوجود نواز خان ناجی کو کامیاب کرانا ان کی دور اندیشی اور زندہ دلی کی مثال ہے، اور تمام گلگت بلتستان کے باسیوں کے لئے ایک درس ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے حامی امیدار اور کل کی حاکم جماعت کے امیدوار کا شکست دراصل ان سے عدم اعتماد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق حکمران جماعت کی طرف سے موجودہ سیٹ اپ اور اسمبلی کو توڑنے کا اعلان بغل میں چھری منہ میں رام رام کا مصداق ہے، جو کہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز خان ناجی ایک قابل اور اہل سیاستدان ہیں، اس لئے لوگوں نے اہلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں کامیاب کرایا ہے۔ لہٰذا دیگر وزراء اور ممبران اور سیاسی قیادت بھی اپنے اندر وہ اہلیت پیدا کریں، اور کرپشن رشوت، دباﺅ کے تحت عہدوں پر براجمان رہنے کی روش ترک کرتے ہوئے علاقے میں تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل کے حل کیلئے کام کریں، تاکہ کل ان کو بھی شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔
خبر کا کوڈ : 68817
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Pakistan
شکر ہے علامہ صاحب کو مسجد سے باہر کے حالات کا بھی کچھ خیال آیا
منتخب