0
Tuesday 11 May 2021 13:58

فلسطین میں جھڑپیں جاری، 24 شہید 788 زخمی؛ اسرائیل کیساتھ مذاکرات سے مزاحمتی محاذ کا انکار

فلسطین میں جھڑپیں جاری، 24 شہید 788 زخمی؛ اسرائیل کیساتھ مذاکرات سے مزاحمتی محاذ کا انکار
اسلام ٹائمز۔ فلسطینی مزاحمتی محاذ کی جانب سے غاصب صیہونی رژیم کو دی جانے والی مہلت کے خاتمے پر گذشتہ روز فلسطینی مزاحمتکاروں کی جانب سے غاصب صیہونیوں کی طرف راکٹ فائر کئے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے بعد شروع ہونے والی جھڑپیں بڑھتے بڑھتے غزہ کی پٹی پر مسلط صیہونی جنگ کی سی صورتحال اختیار کر گئی ہیں جبکہ غزہ کی پٹی پر غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے توپخانے اور مارٹر کے ساتھ ساتھ ہوائی حملے بھی جاری ہیں۔ فلسطینی میڈیا کی جانب سے آج صبح اعلان کیا گیا ہے کہ غاصب صیہونی رژیم نے فلسطینی مہاجر کیمپ "الشاطی" کے ایک گھر پر حملہ کر کے 1 فلسطینی خاتون کو شہید کر دیا ہے۔ غزہ کے شہری دفاع نے بھی اپنی رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ غاصب صیہونیوں کے حملے میں آج صبح 3 فلسطینی شہری شہید ہو گئے ہیں جن میں 1 خاتون بھی شامل ہے۔

فلسطینی خبررساں ایجنسی سماء کے مطابق 1948ء کی مقبوضہ اراضیوں میں شامل شہر "اللد" میں غاصب یہودی آبادکاروں نے سیدھی فائرنگ کر کے "موسی حسونہ" نامی ایک فلسطینی نوجوان کو شہید اور ایک دوسرے فلسطینی کو زخمی کر دیا ہے جبکہ گذشتہ شب 1948ء کی مقبوضہ سرزمینوں پر وسیع احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ دوسری طرف غاصب صیہونی رژیم کے ترجمان آویخای ادرعی نے دعوی کیا ہے کہ (غاصب) صیہونی رژیم کی جانب سے غزہ کی پٹی میں 300 مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جن میں فوجی اطلاعات سے متعلق حماس کی 1 عمارت بھی شامل ہے۔

فلسطینی خبررساں ایجنسی وفا کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے پر غاصب صیہونی رژیم کے وسیع حملوں میں کل 21 فلسطینی شہید اور 788 زخمی ہوئے ہیں جبکہ فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ غاصب صیہونیوں کے حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 24 ہو گئی ہے جن میں 9 بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف عرب چینل المیادین کے مطابق آج صبح ہزاروں فلسطینی شہریوں نے نماز فجر کی ادائیگی کے لئے مسجد اقصی کے صحن میں عظیم الشان اجتماع کیا۔ اس حوالے سے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سیکرٹری سیاسیات کا کہنا ہے کہ قدس نے اندرون و بیرون ملک کی سطح پر سیاسی، عوامی اور میدانی حساب سے "طاقت کا ایک نیا توازن" برقرار کیا ہے جبکہ یہ فسلطینی قوم کا ارادہ ہی جو کامیاب ہوا ہے۔

فلسطینی خبررساں ایجنسی صفا کے مطابق اسمعیل ہنیہ نے اپنے بیان میں تاکید کی ہے کہ قدس کے دفاع میں غزہ کی شرکت حسب سابق حتمی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی درحالیکہ قدس شریف جب بھی مدد کے لئے پکارے گا، غزہ لبیک کہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ جب تک غاصب صیہونی رژیم قدس شریف اور مسجد اقصی سے اپنی جارحیت اور دہشتگردی کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دے گی، ہم اپنی مزاحمتی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ رپورٹ کے مطابق حماس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈ" کے ترجمان ابوعبیدہ نے بھی اپنے ایک الگ بیان میں قدس کے رہائشیوں کو مخاطب کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ آپ مطمئن رہیں، آپ کی پشت پر ایک بیدار مزاحمتی محاذ، لبلبی پر انگلی رکھے کھڑا۔ دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی محاذ کے مشترکہ کمانڈ سنٹر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بھی تاکید کی گئی ہے کہ "سیف القدس" کے نام سے اب تک جاری رہنے والی جدوجہد میں غاصب صیہونیوں کے خلاف 100 سے زائد راکٹ فائر کئے گئے ہیں۔ سماء کے مطابق اس بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ راکٹ، قدس شریف، مسجد اقصی اور محلہ شیخ جراح کے خلاف غاصب صیہونی رژیم کی جارحیت کے جواب میں فائر کئے گئے ہیں۔

دوسری طرف غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ منسلک میڈیا نے بھی آج صبح اعلان کیا ہے کہ (غیر قانونی و غاصب) یہودی بستی "عسقلان" پر دسیوں راکٹ آ گرے ہیں جس کے باعث خطرے کے الارم بج اٹھے اور وہاں رہائش پذیر (غاصب) یہودیوں کو فی الفور زیرزمین پناگاہوں میں جا چھپنا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق القسام بریگیڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے غزہ کی آبادی پر مسلسل حملوں کے جواب میں عسقلان نامی غیر قانونی و غاصب یہودی بستی کو اپنے راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے۔ القسام بریگیڈ نے تاکید کی کہ اگر دشمن نے مزید حملے کئے تو اس کے جواب میں مزاحمتی محاذ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر راکٹ فائر کر کے عسقلان کو جہنم میں بدل دیا جائے گا۔ القسام بریگیڈ کا کہنا تھا کہ عسقلان سمیت غاصب صیہونی دشمن کے بہت سے علاقوں میں بجلی کٹ چکی ہے جبکہ غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے تاحال اپنی 7 غیرقانونی یہودی بستیوں میں بجلی کے منقطع ہو جانے کا اعتراف کیا گیا ہے۔

عرب نیوز چینل الجزیرہ نے اس حوالے سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مزاحمتی محاذ کے جوابی راکٹ حملے کے نتیجے میں "عسقلان" میں 6 غاصب یہودی آبادکار زخمی ہو گئے ہیں جبکہ بہت سی صیہونی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس حوالے سے غاصب صیہونی رژیم نے دعوی کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے اس کی جانب کم از کم 200 راکٹ فائر کئے گئے ہیں۔
 

فلسطینی اخبار "العربی الجدید" نے اپنے مصری ذرائع سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حماس نے مصری انٹیلیجنس ایجنسی کے اعلی افسران تک پیغام پہنچا دیا ہے کہ جب تک غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے فلسطینی مطالبات پر عملدرآمد نہیں کر لیا جاتا، مزاحمتی محاذ، اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات انجام نہیں دے گا۔ واضح رہے کہ مزاحمتی محاذ کے مطالبات میں؛ مسجد اقصی سے تمام صیہونی فوجیوں کا مکمل انخلاء، "شیخ جراح" مسئلے کے آغاز سے قبل سے گرفتار کئے گئے تمام فلسطینی قیدیوں کی فوری رہائی اور شیخ جراح سے متعلق تمام اسرائیلی فیصلوں کی مکمل واپسی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق حماس نے مصری انٹیلیجنس کو کہہ دیا ہے کہ سابقہ تمام مفاہمتیں ختم ہو چکی ہیں اور اب راتوں کے احتجاجی مظاہروں اور غاصب صیہونیوں کے خلاف آتشزا غباروں و پتنگوں کی ترسیل کا سلسلہ دوبارہ سے شروع کر دیا جائے گا۔

العربی الجدید نے اپنے ذرائع سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ موجودہ حالات میں مصر کا ماننا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی محاذ "اسرائیل کی جغرافیائی گہرائیوں" میں ایک خاص کارروائی کے لئے تیاری کر رہا ہے جبکہ مصر نے اس بحران کو حل کرنے کی خاطر "اسرائیلی فریق کو راضی کرنے کے لئے" مہلت طلب کر لی ہے۔ دوسری طرف حماس نے مصری ثالثوں کے ذریعے غاصب صیہونیوں کو یہ پیغام ارسال کر دیا ہے کہ مزاحمتی محاذ کے پاس مقبوضہ فلسطین کے اہداف کی طویل فہرست موجود ہے جبکہ مزاحمتی محاذ اس فہرست میں موجود ہر ہدف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 931995
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش