0
Sunday 18 Sep 2011 19:33

سیاسی میدان میں قدم رکھا تو چاغی جیسا دھماکہ ہو جائے گا، ڈاکٹر قدیر خان

سیاسی میدان میں قدم رکھا تو چاغی جیسا دھماکہ ہو جائے گا، ڈاکٹر قدیر خان
لاہور:اسلام ٹائمز۔ محسن پاکستان اور معروف ایٹمی سائنسدان کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی بھی قدم ہر قسم کی مکمل تیاری کے ساتھ ہوتا ہے اور اللہ کے فضل و کرم سے اس کی ناکامی کا کوئی امکان نہیں ہوتا، ہمارے حکمران بے حس ہیں انہیں عوام کی مشکلات سے کوئی سروکار نہیں، یہی وجہ ہے کہ عوام میں ان کی مقبولیت کا گراف نیچے جا رہا ہے، اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام کے ہاتھ ان کے گریبان تک پہنچ جائیں گے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظام تبدیل نہ کیا گیا تو ایک مرتبہ پھر وہی لوگ آ جائیں گے جنہوں نے ملک کو لوٹ مار اور عوام کو مسائل کے سوا کچھ نہیں دیا، فی الحال میں میدان سیاست میں نہیں کود رہا بلکہ میں اور میرے دوست چاہتے ہیں کہ محب وطن اور نئے لوگ کھڑے ہو جائیں اور اپنی پارٹی بنا لیں، میرا تجربہ اور میرے دوست پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لئے ان کے ساتھ مل کر جان کی بازی لگا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرا ماضی سب کے سامنے ہے وہ ملک جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ایک سوئی نہیں بنا سکتا، چھ سات سال کے عرصے میں، میں نے اسے ایٹمی قوت بنا دیا اور میزائل ٹیکنالوجی دی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مجھ سے میدان سیاست میں آنے اور قائدانہ کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تاہم میں نے ابھی سیاست میں آنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ تمام طبقوں میں میری عزت و احترام ہے، جس پر میں ہر دم اللہ کا شکر گزار رہتا ہوں، سیاست ایسا میدان ہے جس میں عزت والوں کی پگڑیاں اچھالنا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے جبکہ میں اس کا عادی نہیں ہوں، میرے لئے عوام کے سروں پر حکومت کرنے سے زیادہ ان کے دلوں میں رہنا اہم ہے، اس لئے ابھی میں میدان سیاست سے دور ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے میدان سیاست میں قدم رکھا تو پھر آپ یقین کریں کہ جس طرح چاغی میں میرے بنائے ہوئے پانچوں ایٹمی بم نہایت کامیابی سے چلے تھے میرا ’’سیاسی بم‘‘ بھی اسی طرح کامیابی سے چلے گا۔ 
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے پاکستان بنتے اور پاکستان کے لئے خون بہتے دیکھا ہے، ہمارے لئے پاکستان ہی سب کچھ ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے جب کہا ایٹم بم بنانا ہے تو میں سب کچھ چھوڑ کر اپنی بیگم کے ساتھ پاکستان چلا آیا اور ذوالفقار علی بھٹو سے کہا کہ میں ایٹم بم اور میزائل بنا سکتا ہوں مگر آپ کو مجھ پر اعتماد کرنا اور فری ہینڈ دینا ہو گا، البتہ جانچ پڑتال کا کام اپنے پاس رکھیں، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ جس پاکستان کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ایک سوئی نہیں بنا سکتا محض چھ سات سال میں، میں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور پاکستان کو دنیا کی پہلی اسلامی ایٹمی ریاست بنا دیا۔
ڈاکٹر قدیر خان نے کہا کہ آپ کو شاید معلوم نہ ہو کہ میری تنخواہ تین ہزار (3000) روپے لگائی گئی اور پنشن چار ہزار چار سو ستاسٹھ (4,467) روپے ملتی رہی، مگر میں نے ایک پیسہ مزید نہیں مانگا، مشرف حکومت ختم ہونے کے بعد حکومت نے مجھے میری قومی خدمات کے پیش نظر کہا کہ آپ کے گریڈ کے لوگوں کو جو پنشن ملتی ہے وہ پیش کرتے ہیں، یوں تین سال سے مجھے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ پنشن مل رہی ہے، میرے پاس 26 سال پرانی مرسیڈیز گاڑی ہے جو میں نے ایک لاکھ 60 ہزار روپے میں خریدی تھی اور ایک پرانی پجارو ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پندرہ برس یورپ میں رہا ہوں وہاں سے اپنی کمائی بنکوں کے ذریعے لایا تھا جس کا ریکارڈ موجود ہے، میری بیگم کو اکلوتی اولاد ہونے کے باعث جو ورثہ ملا وہ پاکستان لائیں، لیکن نواز شریف دور میں فارن کرنسی اکاؤنٹس منجمند کر لئے گئے اور اس کے بدلے پاکستانی روپے ملے، جنہیں ہم نے بنک میں ڈال دیا اور اس سے ملنے والے پیسوں سے اپنے بچوں کو پڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خرچے میں نہ ہم عیاشی کرتے ہیں جبکہ یہاں لٹیروں کا راج رہا ہے، جن کا پیٹ پہلے بھرا ہے نہ اب بھرے گا، ان کے غیر ملکی ڈالرز اکاؤنٹس سے بھی ان کی بھوک نہیں مٹتی۔ ڈاکٹر قدیر خان نے بتایا کہ انہوں نے میاں سعید کھوکھر کو اپنا ترجمان مقرر کر دیا ہے جو ان کی جانب سے شفاف کردار کے حامل لوگوں سے ملیں گے اور ان کے درمیان کوآرڈینیشن کا فریضہ بھی سرانجام دیں گے۔ 

خبر کا کوڈ : 99602
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب