1
2
Thursday 24 Nov 2022 09:37

ایام فاطمیہ آج کے دور کا چراغ 

ایام فاطمیہ آج کے دور کا چراغ 
تحریر: معظمہ مظھر

آج کے دور میں ہر شخص روشنی کی تلاش میں ہے، اندھیرے سے نفرت کرتا ہے۔ اس چراغ کی تلاش میں سرکرداں ہے کہ جو اس کو روشنی دکھائے، روشنیوں میں لے کر جائے۔ لہذا یہ چراغ اپنی روشنی اور نور کے ذریعے ہدایت کا کام کرتا ہے۔ روشنیوں میں لے کر جانے والا ایک چراغ سیدہ فاطمہ کی ذات گرامی ہے، جو آج کے دور میں اندھیرے راستوں پر ہمارے لئے شمع ہدایت ہے۔ جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا وہ ہستی ہیں، جن کی عظمت کا پتہ عام انسان کے بس میں نہیں۔ علماء و فقہاء حتی کہ غیر مسلم دانشور بھی یہی کہتے ہیں کہ جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کی حقیقت تک پہنچنا عام بشر کے بس میں نہیں۔ ان ایام میں ہمیں موقعہ مل رہا ہے کہ ہم جناب زہراء سلام اللہ علیہا کی سیرت سے کچھ سیکھیں۔ کچھ معرفت حاصل کر لیں۔ ایام فاطمیہ جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت سے منسوب دنوں کا نام ہے، جنابِ زہراء سلام اللہ علیھا کی ذات مقدسہ نور مطلقہ سے بھری ہوئی ہے۔

جب شبِ معراج رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت کی سیر کو تشریف لے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی کی کہ اس شجر کے پاس جاؤ اور اس کا پھل توڑ کر کھاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کا نور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں منتقل فرما دیا۔ پھر وہ نور جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کی والدہ گرامی کے رحم میں منتقل ہوا اور جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کی ولادت ہوئی۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کے نو نام منتخب فرمائے۔ فاطمہ، صدیقہ، مبارکہ، طاہرہ، زکیہ، مرضیہ، راضیہ، محدثہ، زہراء۔ جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا کہ خدا نے ان کے محبوں کو دورخ کی آگ سے آزاد کر دیا۔

جابر نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ آپ کی جدہ ماجدہ جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کا نام زہراء کیوں رکھا گیا۔؟ آپ (ع) نے ارشاد فرمایا، خدا نے ان معظمہ کو اپنے نور کی عظمت سے خلق فرمایا۔ جب ان کے نور کی ضیاء آسمانوں اور زمینوں میں پھلی تو ملائکہ کی آنکھیں خیرہ ہونے لگیں اور وہ سربسجود ہو کر کہنے لگے "اے پروردگار! اے ہمارے مالک یہ نور کیسا ہے؟ خدا نے ان پر وحی فرمائی کہ یہ نور میرے ہی نور کی عظمت سے پیدا ہوا ہے، اس کو میں نے اپنے ہی آسمان میں رکھا، جس کو میں نے اپنے انبیاء میں سب سے باعظمت نبی کے صلب میں ودیعت فرما کر ظاہر کروں گا، پھر اس سے ایسے انوار پیدا ہوں گے، جو میرے دین حق کی طرف لوگوں کی ہدایت کریں گے۔

جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کی سیرت ایک نمونہ عمل ہے، جو خواتین کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک بار رسول خدا نے جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا سے دریافت کیا کہ عورت کیلئے سب سے بہتر بات کیا ہے؟ آپ (س) نے عرض کی کہ عورت کیلئے سب سے بہتر یہ ہے کہ وہ نہ کسی غیر مرد کو دیکھے اور نہ کوئی غیر مرد اسکو دیکھے۔ اسلام میں عورت کا جہاد مردوں سے الگ ہے، اس لئے جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کبھی میدانِ جنگ میں قدم نہیں رکھا، مگر اپنے والد اور ہم سفر کا ہمیشہ خیال کیا۔ جب رسول خدا اور مولا علی علیہ السلام جنگ سے واپس آتے تو ان کے زخموں کو صاف کرنا، ان کی خدمت کرنا، یہ سب جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کرتی تھیں۔ آپ گھر کا تمام کام، جھاڑو دینا، کھانا پکانا، چرخہ چلانا، چکی پیسنا اور بچوں کی تربیت خود کرتیں تھیں۔ آپ نے کبھی شوہر سے اپنے لئے مددگار یا خادمہ کی فرمائش نہیں کی۔ آپ ایک بہترین دختر، ایک بہترین مادر اور ایک بہترین شریک حیات تھیں۔ جو آج کے دور میں ہم سب کے لئے ایک بہترین مثال ہے۔

ایام فاطمیہ ایسا چراغ ہے، جس کو ہم لوگوں نے روشن کرنا ہے۔ آج کے یزید کے خلاف اس چراغ کو روشن کرنا بہت ضروری ہے، ہمیں فاطمی کردار اپنانا ہے، سیرت جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا پر چل کر بتانا ہے کہ آج کے یزید کا مسئلہ حجاب ہے۔ دشمن اور فرعونی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مکتب فاطمی کو حجاب سے دور کر دیا جائے، تاکہ بے حیائی کو عام کیا جاسکے۔ لہذا حجاب وہ چیز ہے، جس نے وقت کے یزید کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وہ ڈرتے صرف اس چیز سے ہیں کہ کہیں فاطمی کردار ان پر غالب نہ آجائے۔ کہیں یہ لوگ سیدہ زہراء کی طرح وقت کی ظالم حکومتوں کے سامنے آواز حق بلند نہ کر دیں۔ لہذا دشمن حجاب سے دور کرکے مکتب فاطمی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ لیکن وہ نہیں جانتے کہ ہمارے پاس ایام فاطمیہ ہیں، ان ایام کا میسر ہونا خدا کی رحمت ہے۔ اس چراغ کو روشن کریں، اپنے کردار سے اپنے لہجے سے، فاطمی کردار اپناکر اندھیروں سے نکلیں۔

شیخ بشیر حسین نجفی کا کہنا ہے کہ ایام فاطمیہ کے جو تینوں دن ہیں، 8 ربیع الثانی، 13 جمادی الاول اور 3 جمادی الثانی یہ تینوں تاریخیں عاشورہ کی طرح منائی جائیں۔ شیخ بشیر حسین نجفی خود اپنے گھر سے لیکر مولا علی علیہ السلام کے حرم تک ایک قافلہ مسیرائے فاطمہ کبری نکالتے ہیں، جن میں وہ خود بھی شریک ہوتے ہیں، اس میں جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کی پیدل حرم تک عزاء کرتے ہیں، اس کارواں کو دیکھنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ میں عاشورہ منا رہی ہوں۔ آیت اللہ وحید خراسانی 3 جمادی الثانی اپنے گھر سے لیکر بی بی سیدہ فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم تک کارواں نکالتے ہیں۔ مرحوم آغا جواد طبرسی بھی بی بی فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم تک پیدل قافلہ نکالتے ہیں۔ آج سے اگر دس سال پیچھے جائیں تو جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا کا ذکر بالکل کم ہوتا تھا۔ یہ چراغ جو ہم جلا رہے ہیں، یہ سب اس کا نتیجہ ہے کہ ہمیں معرفت ملی ہے، جو اب ہم منا رہے ہیں۔ 

ایام فاطمیہ ہمیں یہی درس دیتے ہیں کہ ظالم کے سامنے ڈٹ جاؤ۔ ہمارے جوان شہداء نے اپنی جانیں دی ہیں، صرف اس چراغ کو روشن کرنے کے لئے۔ جو علم جنابِ زہراء سلام اللہ علیہا نے دیا ہے۔ اب ہم پر ہے کہ ہم اس پر کیسے عمل کرکے ایام فاطمیہ کے چراغ کو روشن کرتے ہیں۔ ہمیں کیا کرنا چاہیئے اس چراغ کو روشن کرنے کے لئے، بہادری یہ نہیں کہ جسمانی طاقت یا تخت و تاج کے سہارے کسی کا مقابلہ کیا جائے بلکہ حقیقت میں بہادری یہ ہے کہ عقل و منطق اور فہم و فراست سے میدان مقابلہ میں اترے۔ اس چراغ کو اپنی طاقت، تخت و تاج سے روشن نہیں ہونا، بلکہ یہ چراغ آپ کے کردار، آپ کے علم اور اس پر عمل کرنے سے روشن ہوگا۔ جیسے حاج قاسم سلیمانی کی وصیت ہے: "اپنے شہید کو اپنے اندر ظاہر کرو، تاکہ جو بھی تمہیں دیکھے، وہ اپنے اندر شہید کی موجودگی کو محسوس کرے اور وہی روحانیت، پختگی اور تمام صفات کو محسوس کرے۔" ایام فاطمیہ کو بھی اپنے اندر ظاہر کرو، تاکہ جو بھی دیکھے، وہ سمجھ جاہے کہ یہ فاطمی کردار والا ہے۔ اس کے اندر چراغ فاطمی روشن ہے، جیسے جیسے یہ چراغ روشن ہوگا، ہماری معرفت میں اضافہ ہوگا اور ہمارا کردار بلند ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 1026541
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

غلام شبیر
Pakistan
سبحان اللہ
ہماری پیشکش