0
Tuesday 6 Mar 2012 21:45

روس کے صدارتی انتخابات

روس کے صدارتی انتخابات
 تحریر: جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم 
  
روس رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔ تقریباً 15 کروڑ نفوس کی آبادی پر مشتمل اور گلوب کے تقریباً آٹھویں حصے پر قابض یوریشاء کے اس اہم ترین ملک کا ایک بازو اگر مشرقی یورپ میں پولینڈ کی سرحدوں کو چھوتا ہے تو دوسرے بازو کی رسائی براعظم امریکہ کے شمال میں Alaska تک ہے۔ 17 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے اس ملک کا 60 فیصدی رقبہ ایشاء میں اور 40 فیصدی یورپ میں ہے، اس لئے روس کو Eurasia کا ملک کہا جاتا ہے۔ طول و عرض کی اس کشادگی کے سبب اس ملک کے نو ٹائم زون ہیں۔ اس کے علاوہ اس دیو قامت ملک نے اپنے بطن میں دنیا کے سب سے بڑے معدنی اور انرجی کے خزانے بھی لپیٹے ہوئے ہیں۔ روس دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا اور دوسرا بڑا گیس پیدا کرنے والا ملک بھی ہے۔ اس کی زمینیں دنیا کے سب سے بڑے اور گھنے جنگلات کے انمول خزانوں سے مزین ہی نہیں بلکہ روس کی خوبصورت جھیلیں اپنی گود میں دنیا کے کل تازہ پانی کا چوتھا حصہ بھی لئے بیٹھی ہیں۔
 
روس اٹھارویں صدی کے Russion Revolution کے بعد سابقہ سویٹ یونین کا حصہ بنا۔ یہ سویٹ یونین کا سب سے بڑا ملک تھا۔ جس نے دوسری جنگ عظیم میں اہم کردار ادا کیا۔ سویٹ یونین کے ٹوٹنے کے بعد یہ ملک 1991ء میں Russian فیڈریشن کے طور پر وجود میں آیا اور تقریباً بیس سالوں میں دنیا کی گیارویں بڑی معیشت بن گیا۔ اس کا دنیا کا پانچواں بڑا ملٹری بجٹ ہے اور روس کے پاس اس وقت دنیا کا سب سے بڑا ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے۔
 
روس میں ایک طرح کا صدارتی نظام ہے۔ روس کا صدر خارجہ پالیسی بناتا ہے اور وزارت خارجہ اس پر دنیا میں موجود 144 روسی سفارت خانوں کے ذریعے عمل کرواتی ہے۔ Vladimir Putin جدید روس کا یک اہم ترین لیڈ رہے۔ جو یلسن کے بعد روس کا دوسرا صدر بنا اور آٹھ سال کی صدارت کے بعد روس کا وزیراعظم منتخب ہو گیا۔ اب KGB کا یہ سابقہ سربراہ اگلے چھ سالوں کے لئے روس کا چوتھا صدر منتخب ہو چکا ہے۔ Putin کے پچھلے بارہ سالہ دور صدارت اور وزارتِ عظمیٰ میں روس نے سیاسی اور معاشی میدانوں میں قابل رشک ترقی کی۔ Putin ایک بہت ہی جرات مند، اہل بصیرت اور موثر قسم کا قائد ہے، جس نے چیچنیا سمیت روس کے بہت سے گھمبیر معاملات کو کافی حد تک موثر طریقے سے سدھارا۔ 

Putin نے 1975ء میں KGB میں ملازمت اختیار کی اور 1985ء سے 1990ء تک مشرقی جرمنی میں متعین رہا۔ سویٹ یونین کے ٹوٹنے کے بعد جون 1991ء میں Putin کی پوسٹنگ Leningrad میں کر دی گئی۔ جہاں سے 1992ء میں Putin نے سکیورٹی سروس سے استعفٰی دے دیا۔ 26 مارچ 1997ء کو روسی صدر بورس یلسن نے Putin کو ڈپٹی چیف آف پریزیڈنٹ سٹاف لگا دیا۔ اگست 1999ء میں Vladimir Putin ڈپٹی پرائم منسٹر بن گیا۔ اور بعدآزاں صدر یلسن کی مدد سے Putin روس کا پانچواں وزیراعظم منتخب ہو گیا۔ 31 دسمبر 1999ء کو جب یلسن مستعفی ہوا تو Putin ملک کا عبوری صدر بن گیا اور اس کے بعد سال 2000ء میں Vladimir Putin روس کا صدر منتخب ہو گیا۔ صدارت کی دو چار چار سال کی دو ٹرمز گزارنے کے بعد Putin کو اس لئے ملک کا وزیراعظم بننا پڑا چونکہ روسی آئین کے مطابق وہ آٹھ سال سے زیادہ صدر نہیں رہ سکتا تھا۔ Putin نے نہائت خوبصورتی سے ناصرف ملک کے آئین کی تکریم کو بحال رکھا بلکہ ملک کے مفاد کے لئے ضروری قیادت کے تسلسل کو بھی نہیں ٹوٹنے دیا اور اگلے چھ سال کے لئے ملک کا تیسری بار صدر منتخب ہو گیا۔
 
قارئین، پاکستان اور روس نے باہمی سفارتی تعلقات کی ابتداء یکم مئی 1948ء کو کی۔ لیکن پچھلے 64 سالوں میں پاکستان کی ناقص خارجہ پالیسی اور ہندوستان کی بہترین سفارت کاری کی بدولت سابقہ سویٹ یونین اور بعد میں Russian فیڈریشن کا جھکاؤ لگاتار پاکستان کے حریف بھارت کی طرف ہی رہا۔ پاک روس تعلقات میں سب سے زیادہ تناؤ 1959ء میں اُس وقت اُبھرا، جب پشاور کے قریب پاکستان کے ایک ہوائی اڈے سے اُڑ کر روس کے اندر جاسوسی کرنے والا امریکی جاسوس جہاز U-2روس میں گرا لیا گیا اور اس کا امریکی ہوا باز Captian Francis Gray Powers روس کا قیدی بن گیا۔ اس کے بعد طیش میں آ کر روس نے 1965ء اور 1971ء کی دونوں پاک بھارت جنگوں میں نہ صرف ہندوستان کا زبردست ساتھ دیا بلکہ اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کے مختلف اجلاس میں مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی ہر کوشش کے سامنے موثر طریقے سے اپنی ویٹو پاور کھڑی کر دی۔
 
قارئین کرام یہ بات نہائت افسوس سے کہنا پڑتی ہے کہ پچھلے 64 سالوں میں جہاں ہم اندرونی سیاسی اور معاشی مسائل کو بطریق احسن حل کرنے میں ناکام رہے وہاں ہم اپنی خارجہ پالیسی میں بھی وہ توازن برقرار نہ رکھ سکے۔ جس کی ملک کو ضرورت تھی۔ ہم امریکہ کی گود میں ایسے گھسے کہ پھر ہم نے دائیں بائیں نہیں دیکھا۔ خوش قسمتی سے حسین شہید سہر وردی اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں چین کے ساتھ مضبوط تعلقات کی بنیاد رکھی گئی، جس کی ہر فوجی اور سیاسی حکومت نے آبیاری کی۔ لیکن ہماری اندرونی کمزوریوں اور کچھ مذہبی انتہاء پسند تنظیموں کی چین میں مداخلت کی بدولت پاک چائنہ تعلقات بھی زیادہ تر چین کی مہربانیوں کی بدولت ہی چل رہے ہیں۔ 

روس جیسے خطے کے اہم ترین ملک کے ساتھ تعلقات کو تو شروع سے ہی ہم نے وہ اہمیت نہیں دی جو دینی چاہیے تھی۔ اب جب کہ امریکی منافقت کا پردہ مکمل چاک ہو چکا ہے ہمیں نہائت احتیاط کے ساتھ پاک امریکہ تعلقات کی مرمت کرتے ہوئے۔ پاک روس اور پاک چین تعلقات کی طرف بھی دھیان دینا چاہیے، چونکہ پاکستان کے روس، چین ،یورپی یونین اور مسلم اُمہ کے ساتھ بہترین تعلقات امریکی بلیک میلنگ کو کم کر سکتے ہیں، جس سے پاک امریکہ تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے۔
 
اب جبکہ روس اور چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت سے خائف ہو کر امریکہ نے ہندوستان کو اپنی گود میں لے لیا ہے۔ اور اس کی عسکری اور معاشی قوت بڑھانے کے لئے معاشی، فوجی اور ایٹمی انرجی کے معاہدے کر رہا ہے۔ تو یہ موزوں وقت ہے کہ پاکستان چین کے علاوہ اب روس کے ساتھ بھی دوستی کا ہاتھ بڑھائے۔ یہ روس اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب ہندوستان کی امریکہ نواز پالیسیوں پر روس بھی کچھ حد تک اضطراب کا شکار ہے۔ 

پیوٹن ایک منجھا ہوا سمجھ دار بین الاقوامی لیڈر ہے، جو امریکی رعونت کے آگے لیٹنے پر تیار نظر نہیں آتا۔ اس لئے پیوٹن کے چھ سالہ دور صدارت میں نہ صرف پاک روس تجارت بڑھنی چاہیے بلکہ روس کی پاکستان میں تیل اور گیس کے کنوؤں کی کھدائی، سٹیل کی صنعت کے فروغ، زراعت کے فیلڈ میں سائنسی بنیادوں پر ارتقاء، بندر گاہوں، ہوائی اڈوں اور ذرائع رسل و رسائل کی تعمیر میں بیرونی سرمایہ کاری میں روسی دلچسپی میں اضافہ یقیناً پاکستان کے مفاد میں ہو گا۔ اس کے علاوہ انرجی کے شعبے میں بھی روسی تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے۔
 
ولاڈی میر پیوٹن جیسے مضبوط روسی صدر کی موجودگی میں امریکہ اپنی بین الاقوامی قتل و غارت کی پالیسی پر شائد اس طرح عمل پیرا نہ رہ سکے، جیسے وہ پچھلے کئی برسوں سے کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں اُمید کی جاتی ہے کہ امریکہ اور روس کی پہلی ٹکر شام اور دوسری ایران میں ہو گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی شکست اور موجودہ بین الاقوامی اور خصوصاً یورو امریکن معاشی بدحالی کے بعد بدلتی ہوئی گلوبل فضا میں کیا پاکستان کچھ اور بین الاقوامی اتحادیوں کی تلاش میں بھی نکلے گا یا صرف امریکہ سرکار کے آگے ہی لیٹا رہے گا۔ 

قارئین، وہ دن دور نہیں جب معدنی دولت سے مالا مال اور اللہ کے نام پر حاصل کیا گیا یہ ملک دنیا کے اُفق پر ایک درخشاں ستارہ بن کے چمکے گا، لیکن یہ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہماری پارلیمنٹ کے اُوپر اُن جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اور مافیا کا قبضہ ہے جو مال حرام کے کروڑوں روپوں سے اسمبلیوں اور سینٹ کی سیٹیں خریدتے ہیں، یہ قبضہ چھڑانے کے لئے پاکستانی قوم کو اپنی سوچ تبدیل کرنی پڑے گی چونکہ:۔
جہاںِ تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
خبر کا کوڈ : 143507
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے