0
Friday 23 Nov 2012 10:08

قیام امام حسین ع سیاسی سوشیالوجی کے تناظر میں

قیام امام حسین ع سیاسی سوشیالوجی کے تناظر میں
اسلام ٹائمز- سیاسی سوشیالوجی درحقیقت ایسے انسانی اجتماعی موضوعات پر ایک بیرونی نگاہ ہے جو ماضی، حال یا مستقبل میں وقوع پذیر ہوئے ہیں یا ہوں گے۔ سیاسی سوشیالوجی میں طاقت کی مختلف سطوح کی جانب بھی اشارہ کیا جاتا ہے۔ جب بھی اسٹبلشمنٹ (پاور اسٹرکچرز) اور عوام کے درمیان انجام پانے والے عمل اور عکس العمل کا علمی انداز میں قابل تکرار فارمولوں کے ذریعے گہرا جائزہ لیا جائے تو سیاسی سوشیالوجی کا علم معرض وجود میں آتا ہے۔

اس مقالے میں ہماری کوشش ہو گی کہ قیام امام حسین علیہ السلام کے بارے میں تین سوالات کا مختصر انداز میں جواب دیا جائے۔ پہلا سوال یہ کہ اس وقت کے معاشرے میں کیا تبدیلی آئی جو کربلا جیسے المناک حادثے کا باعث بن گئی؟ دوسرا یہ کہ امام حسین علیہ السلام نے کس طرح اور کن معاشرتی نظریات کی بنیاد پر اپنے معاشرے کو مخاطب قرار دیا؟ اور تیسرا سوال یہ کہ قیام امام حسین علیہ السلام کس بنیاد کی بنا پر اپنے وقت اور جگہ تک محدود نہ رہا بلکہ تمام زمانوں پر حاوی ہو گیا؟ ہم ان تین سوالوں کا جواب سیاسی سوشیالوجی کے تناظر میں علمی اور بیرونی نگاہ کے نقطہ نظر سے دینے کی کوشش کریں گے۔

1. معاشرے کی "تحریک" سے "علامتی دکھاوے" کی جانب حرکت:
جب امام حسین علیہ السلام نے قیام کیا اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کو فقط چند عشرے ہی گزرے تھے لیکن عربی معاشرہ اپنے دوران جاہلیت کے اصولوں اور اعتقادات کی جانب پلٹ چکا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تقوا اور دینی اعتقادات کو قبائلی روایات اور جنگی غنیمت کی جگہ دے کر ایک ذلت کا شکار وہمی اور خرافاتی جاہل عرب معاشرے کو ایسے افتخارآمیز اور عظیم مقام پر لا کھڑا کیا تھا جس نے جدید اور عظیم اسلامی تہذیب و تمدن کی بنیاد ڈال کر دنیا کو ایک نئی راہ سے متعارف کروایا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرب معاشرے کو خدای واحد کی پرستش کی صورت میں اسلامی ایمان کے دائرے میں رہتے ہوئے مشورت، شورا، بیعت، عقلمندی، اجتماعی زندگی پر توجہ دینے اور مصلحتی عقل جیسے گراں قیمت اور باارزش تحفوں سے نوازا۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے فورا بعد ہی انکی ایجاد کردہ تحریک علامتی دکھاوے کی حد تک محصور ہونے لگی اور ایک ایسے بدن میں تبدیل ہونے لگی جسکی روح پرواز کر چکی ہو۔ نسل پرستی کے آثار ظاہر ہونے لگے اور عرب قوم اور قبیلہ قریش کی افصلیت کی باتیں شروع ہو گئیں۔ جنگی غنائم کی تقسیم میں جھگڑے ہونے لگے اور اصحاب پیغمبر ص خلافت کے حصول اور حکومتی عہدوں کی خاطر ایکدوسرے کے مدمقابل آ کھڑے ہوئے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارمانوں کو بھلا دیا گیا اور وہ عظیم تحریک جسکا آغاز نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا روزمرہ زندگی اور محض دکھاوے تک محدود ہونے لگی۔

یہ تبدیلی خلفای راشدین کے دور میں بہت آہستہ آہستہ آگے بڑھی۔ خاص طور پر امام علی علیہ السلام نے اپنی تمامتر توانائیاں اس معاشرے میں عدالت، آزادی اور دین اسلام کی عقلانیت کے احیاء میں صرف کر دیں لیکن ایسے اصحاب پیغمبر ص کے مقابلے میں بے بس نظر آئے جو دین کو غلط انداز میں پیش کرتے تھے۔ امام علی علیہ السلام کی نظر میں تمام مسلمان برابر تھے اور وہ سب کو بیت المال میں سے مساوی حصہ عطا کیا کرتے تھے۔ اسی طرح امام علی علیہ السلام حکومتی عہدوں کی تقسیم میں تقوا اور مہارت کو بنیادی اہمیت دیتے تھے۔

امام علی علیہ السلام کا سیاسی رویہ انتہائی آزاد منشانہ تھا جو ایسے افراد کے مزاج سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا تھا جنہیں راحت طلبی اور شان و شوکت سے زندگی گزارنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد اسلامی معاشرے میں ان منفی تبدیلیوں کی شدت میں اضافہ ہو گیا اور نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ معاویہ اور اسکے بعد یزید کے برسراقتدار آنے کے بعد مسلمانوں پر حکمفرما سیاسی نظام ایک ایسے سلطنتی نظام میں تبدیل ہو گیا جسں میں تجمل پرستی اور قبیلہ گرایی کا دور دورہ تھا۔

2. معاشرے کی بیداری کیلئے سیاسی جدوجہد کا آغاز:
یزید کے دور میں انسانی معاشرہ ایسے افراد پر مشتمل تھا جنکے تمامتر حقوق سلب کئے جا چکے تھے اور انکی حیثیت صرف کٹھ پتلیوں جیسی رہ گئی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عطا کردہ عزت نفس اور عقلمندی کے کوئی آثار دکھائی نہ دیتے تھے۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے والد امام علی علیہ السلام اور اپنے بھائی امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بعد کچھ عرصے تک خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ لیکن معاویہ کی موت کے بعد جب یزید نے اقتدار سنبھالا تو صورتحال بالکل تبدیل ہو گئی۔

یزید حتی ظاہری حد تک بھی اسلامی قوانین کی رعایت نہیں کرتا تھا اور کھلم کھلا دینی اصولوں کی دھجیاں اڑایا کرتا تھا۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا اور انہیں عوام کے خلاف اپنے حکومتی مفادات کی خاطر استعمال کیا جاتا۔ یزید جو بنی امیہ کا بادشاہ بن چکا تھا خود کو خدا کا نمائندہ کہلواتا تھا اور لوگوں کی زندگی میں مداخلت کرتے ہوئے انکا انداز زندگی تبدیل کرنے کا خواہاں تھا۔

عوام سے ٹیکس کا وصول، مردوں اور خواتین کو اپنا غلام اور کنیز بنانا، انتہائی درجہ کی جاہ طلبی اور جنسی بے راہروی اور عوام کی کھلی توہین اور تحقیر معمول کی بات بن چکی تھی۔ عوام کی دلی خواہش یہ تھی کہ وہ امام حسین علیہ السلام کی سرپرستی میں آ جائیں لیکن بنی امیہ کی حکومت نے لوگوں کے دلوں میں خوف اور دہشت بٹھا رکھی تھی جو اس راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی۔ آخرکار لوگوں نے امام حسین علیہ السلام کو خط لکھے اور انہیں دعوت دی کہ حکومت کے خلاف قیام کریں۔

یزید کی حکومت نے تمام راستے بند کر دیئے اور امام حسین علیہ السلام کے حامی افراد کو گرفتار کر کے قتل کرنا شروع کر دیا۔ یزید نے اسی طرح امام حسین علیہ السلام سے بیعت کا مطالبہ کر دیا۔ امام حسین علیہ السلام نے اس ذلت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے مخلص اور باوفا ساتھیوں کے ہمراہ ظلم و ستم، بے انصافی اور دین الہی کی تحریف کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے۔ امام حسین علیہ السلام اپنے اس قیام کے ذریعے معاشرے میں سیاسی بیداری پیدا کرنا چاہتے تھے تاکہ عوام اپنی حیثیت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بے بسی اور بیچارگی کی حالت سے باہر آ سکیں۔

3. بنی امیہ کے تفکر کی نابودی:
اگرچہ ظاہری طور پر امام حسین علیہ السلام کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور انکے انتہائی کم باوفا ساتھیوں میں یزید کی بڑی فوجی طاقت اور پراپیگنڈہ مشینری کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہ تھی لیکن امام حسین علیہ السلام اور انکے مخلص ساتھیوں کو دو بڑی کامیابیاں نصیب ہوئیں جو اس وقت سے لے کر آج اکیسویں صدی تک آزادمنش انسانوں کی زبانوں پر جاری ہیں۔

امام حسین علیہ السلام نے اس وقت کے انسانوں کو پکار کر کہا کہ اگر تم لوگ دیندار نہیں تو کم از کم آزادمنش بنو۔ آپ کی یہ پکار درحقیقت تمام ایسے افراد کو ایک وارننگ تھی جو اپنی تمامتر زندگی مادی اہداف کے حصول کیلئے صرف کر دیتے ہیں اور اخلاقی اقدار کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔

امام حسین علیہ السلام کی دوسری بڑی کامیابی یہ تھی کہ آپ نے اپنے زمانے کے معاشرے میں بیداری کی روح پھونک ڈالی۔ امام حسین علیہ السلام نے بنی امیہ کی سوچ اور تفکر کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا اور اسلامی تاریخ میں رونما ہونے والی تمام آزادی بخش تحریکوں کی بنیاد ڈال دی۔
خبر کا کوڈ : 214300
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب