0
Monday 25 Mar 2013 12:34

رہبر کے خطاب کی روشنی

رہبر کے خطاب کی روشنی
تحریر: محمد علی نقوی

رھبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے ہجری شمسی سال 1392 کے آغاز کی مناسبت سے یکم فروردین مطابق 21 مارچ کو مقدس شہر مشہد میں فرزند رسول حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کے روضہ اقدس میں زائرین کے عظیم الشان اجتماع سے انتہائی اہم خطاب میں گذشتہ سال 1391 ہجری شمسی کے دوران دشمنوں کی جانب سے وسیع پروپیگنڈے اور خلل اندازی کے باوجود ملت ایران کو حاصل ہونے والی عظیم بنیادی کامیابیوں اور پیشرفت کا جائزہ لیا۔ رھبر انقلاب اسلامی نے امریکا سے مذاکرات کے مسئلے میں کلیدی نکات بیان کئے اور اقتصادی جہاد بالخصوص تیل کی آمدنی پر انحصار ختم کرنے، دراز مدتی اقتصادی پالیسیوں پر سنجیدگی سے توجہ دینے اور دشمن کی سازش کے اجراء سے پہلے ہی دانشمندانہ تدارک کرنے کے لوازمات اور شرائط بیان کیں۔ رھبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اقتصاد کے علاوہ امن و امان، عوام کی حفاظت، علمی ترقی، قومی خود مختاری و قومی وقار بھی ملک کے اہم ترین مسائل میں شامل ہیں اور ملت ایران نے گذشتہ سال کے اندر اپنی کامیابیوں سے ثابت کر دیا کہ امریکا اور بڑی طاقتوں سے وابستہ نہ ہونا پسماندگی کا باعث نہیں بلکہ ترقی کا راستہ ہے۔ 

رھبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے اس آخری نکتے کی روشنی میں ہم ایران کی کامیابیوں کا ایک مختصر جائزہ پیش کر رہے ہیں۔
اسلامی انقلاب جس طرح سے علاقائی اور عالمی سطح پر بنیادی سیاسی تبدیلیوں کا سبب بنا ہے، ایران کی داخلی سطح پر بھی بڑی بڑی کامیابیوں اور تبدیلیوں کا باعث بنا۔ ان کامیابیوں میں سب سے اہم کامیابی یہ ہے کہ علاقے اور دنیا میں ملت ایران کو نمونہ عمل کے طور پر قبول کرلیا گيا ہے اور تمام قومیں ایرانی قوم کی جدوجہد کو قابل عمل سمجھتی ہیں۔ ایران نے دنیا کے سامنے خود اعتمادی اور توکل علی اللہ کے سہارے ترقی کا نیا ماڈل پیش کیا ہے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے تک دنیا کے ممالک امریکہ کی سربراہی میں مغربی بلاک یا سابق سوویت یونین کی قیادت میں مشرقی بلاک میں شامل تھے اور اپنی سکیورٹی نیز ترقی کے لئے ان وابستہ تھے۔ ایسی صورتحال میں اسلامی جمہوریہ ایران نے ستم دیدہ قوموں اور حریت پسند تحریکوں کو نیا راستہ دکھایا۔ 

اسلامی جمہوریہ ایران کی سرگرمیاں داخلی سطح پر اقتصادیات، سیاست، ثقافت، علم و سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نہایت وسیع پیمانے پر جاری ہیں، البتہ آپ کسی بھی ملک کی سرگرمیوں کو محض انہی میدانوں میں محصور نہیں کرسکتے، یہ باتیں اختصار کو دھیان میں رکھ کر پیش کی جا رہی ہیں۔ اسلامی انقلاب کا سب سے بڑا ثمرہ سیاسی لحاظ سے قابل غور ہے۔ اسلامی انقلاب نے ڈھائی ہزار سالہ بادشاہت کا تختہ الٹ کر اسلامی حکومت قائم کی۔ اسلامی انقلاب سے پہلے جمہوری حکومت سازی کا واحد معیار مغرب کی لبرل ڈیموکریسی تھی۔ مغربی حکومتوں نے لبرل ڈیموکریسی کو معیار اور بنیاد بنا کر قوموں کے استحصال اور استعمار کا طریقہ ڈھونڈ نکالا اور اسی بہانے انہوں نے دین سے سیاست کی جدائی کا سوانگ خوب خوب رچایا اور رچا رہے ہیں جبکہ ادیان الھی کا بنیادی اور اصلی ھدف انسان کو کمال تک پہنچانا اور توحید کی بنیادوں پر کفر و شرک کے خلاف جدوجہد کرنے کی ترغیب دلانا ہے۔ سامراجی طاقتوں نے ستم رسیدہ قوموں کے سرمائے لوٹنےکے لئے دین سے سیاست کی جدائي کا نظریہ پیش کیا اور دینی تعلیمات کو عملی زندگي سے نکال کر اسلامی ملکوں کو فکری، ثقافتی، دینی اور قومی لحاظ سے غلام بنانے میں کامیابی حاصل کرلی اور ان کے ذخائر کو لوٹنے لگے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے دین سے سیاست کی جدائی کا نظریے پر خط بطلان کھنچ گیا اور اس نے اسلامی تحریک کو عالمی اور متحدہ تحریک کے طور پر پیش کیا۔
 
حضرت امام خمینی قدس سرہ عوام کو آگاہ کرتے رہتے تھے اور ان پر اعتماد کیا کرتے تھے، اسی بنا پر آپ نے انہیں اپنی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا اختیار سونپا اور حق رائے دہی بھی عطا کیا۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد دو مہینوں سے کم مدت میں حکومت کی نوعیت کے بارے میں ریفرنڈم ہوا، آئين کے بارے میں ریفرنڈم ہوا، صدارتی انتخابات ہوئے، پارلیمانی انتخابات ہوئے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے آئين کے بارے میں ہونے والا ریفرنڈم اسلامی انقلاب کی کامیابی کے پہلے برس ہوا اور یہ سیاسی لحاظ سے اسلامی انقلاب کی ایک بڑی کامیابی تھی۔ گذشتہ چونتیس برسوں میں ایرانی عوام نے اپنے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے ہر اقدام میں بھرپور طرح سے شرکت کی ہے اور یہ شرکت آج بھی جاری ہے۔ اس مشارکت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملت ایران نے اوسطاً ہر سال ایک بڑے انتخابات میں ووٹ ڈالے ہیں۔ ملت ایران اب آئندہ جون میں گيارھوین صدارتی انتخابات میں شرکت کرے گی۔ 

سماجی اور ثقافتی میدان میں بھی اسلامی انقلاب نے عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اصولاً اسلامی انقلاب ایک ثقافتی انقلاب ہے اور ایران میں سماجی اور ثقافتی سطح پر آنے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہی دوسرے شعبوں میں تبدیلیاں آئيں اور انقلاب کامیاب ہوا۔ جدید سامراج نے پسماندہ ملکوں کے ذخائر اور سرمائے کی لوٹ کھسوٹ جاری رکھنے کے لئے ثقافتی ہتھکنڈے ہی استعمال کئے ہیں اور کر رہا ہے۔ مسلمانوں کو اپنی حقیقی اسلامی ثقافت سے دور کرنا مسلمان ملکوں پر قبضہ جمائے رکھنے کا سامراج کا ایک اہم ہتھکنڈا ہے۔ حضرت امام خمینی قدس سرہ نے مسلمانوں کی پسماندگی کی وجوہات کا ادراک کرنےکے بعد ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ"مغرب نے اس قوم کے ایک طبقے کو کچھ اسطرح یہ باور کرایا ہے کہ اب ہمیں مغرب کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا ہے، مغرب سے یہ فکری اور عقلی وابستگی اکثر قوموں کی بدبختی اور ہماری قوم کی بدبختی کی علت ہے۔
 
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلامی اقدار اور ثقافت کے احیاء پر توجہ دی گئی اور زندگی کے ہر شعبے میں جیسے تعلیمی مراکز، اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں نیو ذرا‏ئع ابلاغ، تھیئٹر اور سینما اور علوم و فنون نیز آرٹ و ہنر کے شعبوں میں اسلامی اقدار پر تاکید کی گئی، تاکہ معاشرہ صحیح معنوں میں ترقی کرسکے۔ ناخواندہ لوگوں کی تعلیم کے لئے ادارہ انسداد ناخواندگی قائم کیا گيا۔ اعلٰی تعلیمی اداروں نے تیزی سے ترقی کی اور عام تعلیمی مراکز کو معیاری بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ ایران ناخواندگی سے مقابلے اور تعلیم کو فروغ دینے والے اہم ملکوں میں شمار ہوگيا۔ انقلاب کے بعد سارے ایران میں ہزاروں اسکول تعمیر کئے گئے۔ آج ایران میں تقریباً چالیس لاکھ طالب علم ہیں اور ہر سال دس لاکھ طلباء یونیورسٹیوں میں داخلہ لیتے ہیں۔ یونیورسٹیوں کی گنجائش میں اس قدر اضافہ کیا جانا جتنا یہ یونیورسٹی میں داخلے کے خواہشمند ہیں، اس بات کا باعث ہوا ہے کہ یونیورسٹیوں کے انٹرنس امتحان ختم کرنے کے مسئلے کو زیر غور لایا جائے، البتہ بہت سے موضوعات کے لئے اب انٹرنس اگزام ختم کر دیا گيا ہے۔ 

اقتصادیات میں اسلامی انقلاب کی کامیابیاں دیگر شعبوں سے زیادہ واضح ہیں۔ اسلامی انقلاب سے پہلے ایران صرف اور صرف تیل سے وابستہ تھا اور اس کی معیشت محض تیل کی آمدنی پر منحصر تھی۔ تیل سے وابستگی اس بات کا باعث بنی تھی کہ ایران کا معیشتی ڈھانچہ معیوب ہوجائے اور ملک کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کی صنعت مونٹیج اور اسمبل کی حد تک ہی رہی اور مغرب سے وابستہ تھی۔ زراعت کی بڑی افسوس ناک صورتحال تھی، جس کی وجہ سے لوگ بڑی تعداد میں دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف کوچ کر رہے تھے۔ تہران جیسے بڑے شہروں کے اطراف جھونپڑیاں وجود میں آچکی تھیں، جن میں دیہی علاقوں سے آنے والے غریب لوگ بسا کرتے تھے اور ان کے پاس زندگی کے وسائل و ذرائع بھی بہت کی کم تھے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد صنعت اور زراعت میں انقلاب برپا ہوگيا۔ ایران کے انقلابی جوانوں نے ابتدا ہی سے وابستگی کو ختم کرنے کے لئے قدم اٹھانا شروع کیا اور یہ کام صنعت تیل سے کیا جو کہ ملک کی سب سے بڑی اور بنیادی صنعت تھی۔
 
تیل صنعت میں سب سے زیادہ محسوس تبدیلیاں آئيں اور اب ایرانی ماہرین نے اس صنعت کے تمام شعبوں کا انتظام ‎سنبھال لیا ہے۔ ان شعبوں میں تیل کی تلاش، کھدائی، تیل کا استخراج، برآمد کرنا، اور صفائی اور منتقلی شامل ہے۔ ایرانی ماہرین نے ایسے عالم میں تیل صنعت کی باگ ڈور سنبھالی ہے کہ یہ صنعت پوری طرح سے مغربی ماہرین کے زیر تسلط تھی۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران میں تیل کی کھوج کا کام بڑی تیزی سے انجام پایا ہے۔ گذشتہ تین دھائيوں میں ایران میں پچاس ارب بیرل تیل دریافت کیا گیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران تیل کے سب سے زیادہ ذخائر کے حامل پانچ ملکوں میں سے ایک ہے۔ ایران میں گيس کا استخراج اور اس سے روز مرہ زندگي میں استفادہ کرنا بھی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ آج ایران کے نوے فیصد دیہی علاقے گيس کی نعمت سے بہرہ مند ہیں، جبکہ اسلامی انقلاب سے پہلے بڑے شہروں کے بہت ہی کم علاقے میں گيس موجود تھی۔ گھر گھر میں گيس پائپ لائين پہنچانے سے ملت ایران کا معیار زندگی کافی بڑھا ہے۔ 

ایران کی پٹروکمیکل صنعت بھی ایک بنیادی صنعت شمار ہوتی ہے، ساری دنیا میں آج پٹروکمیکل صنعت کی بےحد اہمیت ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے اس شعبے میں بے حد سرمایہ کاری کی ہے۔ ایران اپنی پٹروکمیکل صنعتوں کے سہارے پٹرولیم کی فروخت ختم کرنا چاہتا ہے۔ ایران کی پٹروکمیکل صنعت کی برآمدات کی مالیت اس وقت بیس ارب ڈالر سالانہ ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے زرعی ماہرین نے گذشتہ تیس برسوں کی تحقیقات سے زرعی شعبے میں بھی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان ماہرین کی محنت سے فصل کی مقدار اور زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران سالانہ چودہ ملین ٹن گندم کی پیداوار سے اب گندم درامد کرنے سے بےنیاز ہوچکا ہے۔ ایران اسی طرح سے دیگر زرعی مصنوعات بالخصوص پھلوں کی پیداوار میں دنیا کے اہم ملکوں میں شامل ہوگيا ہے۔ 

اسلامی انقلاب کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران میں سائنسی اور ٹیکنالوجیکل میدانوں میں ترقی خیرہ کرنے والی ہے۔ ایران نے یورینییم کی افزودگی کی ٹیکنالوجی حاصل کرکے ساری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی ایٹمی ٹکنالوجی کو صرف پرامن مقاصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ ایران نے نیوکلئر فیول سائيکل حاصل کرکے اس ٹیکنالوجی پر دوسروں کی اجارہ داری ختم کر دی اور اب ان معدودے چند ملکون میں شامل ہوچکا ہے، جن کے پاس یہ اعلٰی ٹکنالوجی ہے۔ ایران پر دباو ڈالنے کی وجہ ایٹمی فیلڈ میں اس کی بے پناہ ترقی ہی ہے بلکہ یہ دباو اس کی مجموعی ترقی کو روکنے کے ھدف سے جاری ہے۔ ایران کی بھرپور ترقی صرف ایٹمی میدان میں ہی محدود نہیں ہے بلکہ ایران نے نینو ٹیکنالوجی اور اس ٹیکنالوجی کے کمرشیل استعمال میں بھی کافی ترقی کرلی ہے اور ایران نینو ٹکنالوجی میں دنیا کا ایک ترقی یافتہ ملک شمار ہوتا ہے۔
 
ایران نے اسٹم سلز ٹیکنالوجی میں بھی کافی ترقی کی ہے، کلوننگ اور بعض دواوں کی تیاری میں بھی بہت سے ملکوں سے آگے ہے۔ خلا میں بھیجے جانے والے مصنوعی سیارچے اور بایو کپسول کے ساتھ بھیجا جانے والا راکٹ کیا مغرب کی تمام پابندیوں کو بے اثڑ بنانے کی دلیل نہیں ہے۔ گرچہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پابندیاں ملت ایران کے خلاف عائد ہيں، لیکن اس سے ملت ایران کے ارادے میں مزید استحکام ہی آیا ہے اور وہ اپنے راستے پر گامزن ہے اور اس نے چونتیس برسوں پہلے جو امریکہ اور اسکے یورپی اتحادیوں کی پٹھو حکومت کو گراکر آزادی اور خود مختاری حاصل کی تھی، اسی حفاظت میں دل و جان سے لگی ہوئی ہے۔
خبر کا کوڈ : 248945
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے