1
Monday 26 Jul 2010 12:56

حکومت مہدی عج اور اسلامی تہذیب کا عروج

حکومت مہدی عج اور اسلامی تہذیب کا عروج
حضرت مہدی عج کی حکومت میں لوگ بے سابقہ طور پر اسلام کی طرف مائل ہوں گے، نیز اضطراب، گھٹن، دینداروں کے کچلے جانے اور مظاہر اسلامی پر پابندی لگانے کا دور ختم ہو چکا ہو گا۔ ہر جگہ اسلام کا بول بالا ہو گا اور دینی آثار جلوہ فگن ہوں گے۔ بعض روایات کی تعبیر کے مطابق اسلام ہر گھر، خیمے اور محلے میں پہنچ چکا ہو گا جس طرح سردی اور گرمی نفوذ کرتی ہے، اس لئے کہ سردی و گرمی کا نفوذ اختیاری نہیں ہے اگرچہ اس سے بچاؤ کے باوجود نفوذ کر کے اپنا اثر دکھا ہی دیتی ہے۔ اسلام اس زمانے میں بعض لوگوں کی مخالفت کے باوجود شہر، دیہات، دشت و صحرا بلکہ دنیا کے چپہ چپہ میں نفوذ کر کے سب کو اپنے زیر اثر لے لے گا۔
ایسے ماحول میں فطری طور پر شعائر دینی اور مظاہر اسلامی سے لوگوں کی دلچسپی انتہائی زیادہ ہو گی۔ لوگوں کا قرآنی تعلیمات، نماز جماعت اور نماز جمعہ میں شریک ہونا قابل دید ہو گا، نیز موجودہ مساجد یا جو بعد میں بنائی جائیں گی، لوگوں کی ضرورتیں برطرف نہیں کر پائیں گی۔ جو روایت ہے وہ یہ کہ ایک مسجد میں بارہ ١٢ دفعہ نماز جماعت ہو گی۔ یہ خود ہی مظاہر اسلامی کے حد درجہ قبول کرنے کی واضح و آشکار دلیل ہے۔
ان حالات میں دینی اور مذہبی ذمہ داری کے حامل اداروں کا بہت بڑا کردار ہے اور آبادی کے لحاظ سے مسجدیں بنائی جائیں گی۔ روایات میں ہے کہ اُس زمانے میں سب سے چھوٹی مسجد آج کی مسجد کوفہ جتنی ہو گی جبکہ یہ مسجد آج دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔
یہاں پر ہم روایت کی روشنی میں امام مہدی عج کے دوران حکومت میں قرآن کی تعلیم، معارف دینی، مساجد، روحانی ترقی اور کریمانہ اخلاق پر روشنی ڈالیں گے۔
١۔ قرآن اور دینی معارف کی تعلیم:
امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "گویا ہم اپنے شیعوں کو مسجد کوفہ میں اکٹھا دیکھ رہے ہیں کہ وہ (چادریں بچھا کر) چادروں پر لوگوں کو قرآن کی تنزیل کے اعتبار سے تعلیم دے رہے ہیں"۔(١)
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "گویا میں علی کے شیعوں کو دیکھ رہا ہوں کہ قرآن ہاتھ میں لئے لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں"۔(٢)
اصبغ بن نباتہ روایت کرتے ہیں: میں نے حضرت علی علیہ السلام کو کہتے ہوئے سنا: "گویا غیر عرب (عجم) کو دیکھ رہا ہوں کہ مسجد کوفہ میں اپنی چادریں بچھائے تنزیل کے اعتبار سے لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں"۔(٣)
یہ روایت تعلیم دینے والوں کا نقشہ کھینچ رہی ہے کہ وہ سب عجم (غیر عرب) ہوں گے۔ لغت دان حضرات کے مطابق یہاں عجم سے مراد اہل فارس و ایرانی ہیں۔
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: "حضرت مہدی عج کے زمانے میں تمہیں اتنی حکمت و فراست عطا ہو گی کہ ایک عورت اپنے گھر میں کتاب خدا و سنت پیغمبر ص کے مطابق فیصلہ کرے گی"۔(٤)
٢۔ مساجد کی تعمیر:
حبہ عربی کہتے ہیں کہ جب امیر المومنین علی علیہ السلام سرزمین "حیرہ" (٥) کی طرف روانہ ہوئے تو کہا: "یقینا حیرہ شہر میں ایک مسجد بنائی جائے گی جس کے 500 دروازے ہوں گے اور بارہ عادل امام جماعت اس میں نماز پڑھائیں گے"۔ میں نے کہا: یا امیر المومنین، جس طرح آپ بیان فرما رہے ہیں کیا مسجد کوفہ میں لوگوں کی اتنی گنجائش ہو گی؟ تو آپ نے فرمایا: "وہاں چار مسجدیں بنائی جائیں گی۔ موجودہ مسجد کوفہ ان سب سے چھوٹی ہو گی اور یہ مسجد (مسجد حیرہ جو پانچ سو دروازوں والی ہے) اور دو ایسی مسجدیں جو شہر کوفہ کے دو طرف میں واقع ہوں گی بنائی جائیں گی"۔ اس وقت حضرت ع نے بصرہ اور مغرب والوں کے دریا کی طرف اشارہ کیا۔(٦)
نیز آپ ع فرماتے ہیں: ''حضرت مہدی عج اپنی تحریک جاری رکھیں گے تاکہ قسطنطنیہ یا اس سے نزدیک مسجدیں بنا دی جائیں"۔(٧)
مفضل کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "حضرت قائم عج قیام کے وقت شہر کوفہ سے باہر ایک ہزار دروازوں والی مسجد بنائیں گے"۔(٨)
شاید روایت میں "ظہر الکوفہ" سے مراد نجف اشرف ہو، چونکہ دانشمندوں نے نجف اشرف کو "ظہر الکوفہ" سے تعبیر کیا ہے۔ جناب طوسی رح کی روایت جو امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کا ظاہر بھی ایسا ہی ہے۔(٩)
٣۔ اخلاق و معنویت میں رشد اور ترقی:
امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "لوگ حضرت مہدی عج کے زمانے میں عبادت اور دین کی طرف مائل ہوں گے اور نماز جماعت سے ادا کریں گے"۔(١٠)
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "کوفہ کے گھر کربلا و حیرہ سے متصل ہو جائیں گے، اس طرح سے کہ ایک نماز گذار جمعہ میں شرکت کے لئے تیز رفتار سواری پر سوار ہو گا، لیکن وہاں تک نہیں پہنچ سکے گا"۔(١١)
یہ کنایہ شاید آبادی کے اضافے اور لوگوں کے ہجوم کی جانب ہو جو نماز جمعہ میں شرکت کیلئے آئے ہوں اور دوسروں کیلئے شرکت کو مشکل بنا دیں اور جو یہ کہا گیا ہے کہ تمام نماز گذار یکجا ہو جائیں گے اور ایک نماز جمعہ ہو گی شاید اس کی وجہ تین شہروں کا ایک ہو جانا ہو، اس لئے کہ شرعی لحاظ سے ایک شہر میں ایک ہی نماز جمعہ ہو سکتی ہے۔
فیض کاشانی نے ابن عربی کی بات نقل کی ہے جس کے بارے میں احتمال ہے کہ شاید کسی معصوم سے ہو: "حضرت قائم عج کے قیام کے وقت ایک شخص اپنی رات نادانی، بزدلی اور کنجوسی میں گذارے گا لیکن صبح ہوتے ہی سب سے زیادہ عاقل، شجاع اور سخی انسان ہو جائے گا اور کامیابی حضرت کے آگے آگے قدم چومے گی"۔(١٢)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: "حضرت قائم عج کے قیام کے وقت لوگوں کے دلوں سے کینے ختم ہو جائیں گے"۔(١٣)
نیز پیغمبر اکرم ص اس سلسلے میں فرماتے ہیں: "اس زمانے میں کینے اور دشمنی دلوں سے ختم ہو جائے گی"۔(١٤)
امام حسن علیہ السلام اخلاقی فساد اور انحراف کے بارے میں فرماتے ہیں: "خداوند عالم آخری زمانے میں ایک شخص کو مبعوث کرے گا اور کوئی فاسد اور منحرف نہیں رہ جائے گا مگر یہ کہ اس کی اصلاح ہو جائے"۔(١٥)
امام مہدی عج کے دوران ظہور کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ لوگوں میں حرص اور طمع کا خاتمہ ہو جائے گا اور ان میں بے نیازی پیدا ہو جائے گی۔
رسول خدا ص فرماتے ہیں: "جس وقت حضرت قائم قیام کریں گے خداوند عالم لوگوں کے دلوں کو غنی اور بے نیاز کر دے گا۔ حتی کہ حضرت اعلان کریں گے جسے مال اور دولت چاہئے وہ میرے پاس آئے لیکن کوئی آگے نہیں بڑھے گا"۔(١٦)
اس روایت میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ اس حدیث میں لفظ ''عباد'' کا استعمال ہوا ہے، یعنی روحانی تبدیلی کسی گروہ سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام انسانوں کے لئے ہے۔
اسی روایت میں آنحضرت ص فرماتے ہیں: "تم کو مہدی عج کی خوشخبری دے رہا ہوں، جو لوگوں کے درمیان مبعوث ہوں گے، جبکہ لوگ آپس کی کشمکش اور اختلاف و تزلزل میں مبتلا ہوں گے۔ پھر اس وقت زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری ہو گی نیز زمین و آسمان کے رہنے والے اس سے راضی و خوشنود ہوں گے۔ خداوند عالم امت محمد ص کے دل بے نیازی سے بھر دے گا اس طرح سے کہ منادی ندا دے گا جسے بھی مال کی ضرورت ہے آ جائے (تاکہ اس کی ضرورت برطرف ہو) لیکن ایک شخص کے علاوہ کوئی نہیں آئے گا۔ اس وقت حضرت مہدی عج کہیں گے: خزانہ دار کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ مہدی نے حکم دیا ہے کہ مجھے مال و ثروت دے دو۔ خزانہ دار کہے گا: دونوں ہاتھوں سے پیسہ جمع کرو، وہ بھی پیسے اپنے دامن میں بھرے گا لیکن ابھی وہاں سے باہر نہیں نکلے گا کہ پشیمان ہو گا اور خود سے کہے گا کیا ہوا کہ میں محمد ص کی امت کا سب سے لالچی انسان ٹھہرا! کیا جو سب کی بے نیازی و غنا کا باعث بنا ہے وہ ہمیں بے نیاز کرنے سے ناتواں ہے؟۔ پھر اس وقت واپس آ کر تمام مال لوٹا دے گا، لیکن خزانہ دار قبول نہیں کرے گا اور کہے گا ہم جو چیز دے دیتے ہیں وہ واپس نہیں لیتے"۔(١٧) روایت میں (یملئ قلوب امۃ محمد) کا جملہ استعمال ہوا ہے لہذا شایان توجہ ہے، اس لئے کہ غناء و بے نیازی کا ذکر نہیں ہے بلکہ روح کی بے نیازی مذکور ہے۔ ممکن ہے کہ ایک انسان فقیر ہو لیکن اس کی روح بے نیاز و مطمئن ہو گی۔ اس روایت میں (یملاء قلوب امۃ محمد) کے جملے کا استعمال یہ بتاتا ہے کہ ان کے دل بے نیاز و مطمئن ہیں۔ اس کے علاوہ مالی اعتبار سے بھی بہتر حالت ہو گی۔
حضرت مہدی عج کے زمانے میں اخلاقی کمال، قوت قلب اور عقلی ترقی کے بارے میں چند روایت کے ذکر پر اکتفاء کرتے ہیں۔
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: "جب قائم عج قیام کریں گے تو اپنا ہاتھ بندگان خدا کے سروں پر پھیریں گے، ان کی عقلوں کو جمع کریں گے (رشد عطا کریں گے اور ایک مرکز پر لگا دیں گے) اور ان کے اخلاق کو کامل کریں گے"۔(١٨)
بحار الانوار میں "احلامھم" کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی ان کی آرزؤں کو پورا کریں گے۔(١٩)
امام زمانہ عج جب اسلامی قوانین کو بطور کامل اجراء کریں گے تو لوگوں کے رشد فکری میں اضافہ کا باعث ہوگا نیز رسول خدا ص کا ہدف کہ آپ کہتے تھے: "میں لوگوں کے اخلاق کامل کرنے کے لئے مبعوث ہوا ہوں"۔ (عملی ہوجائے گا)
رسول خدا ص حضرت فاطمہ س سے فرماتے ہیں: "خداوند عالم ان دونوں (حسن و حسین علھم السلام) کی نسل سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا جو گمراہی کے قلعوں کو فتح اور سیاہ دل، کور باطن اور مردہ ضمیروں کو تسخیر کرے گا"۔(٢٠)
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا: "میری نسل سے ایک شخص ظہور کرے گا اور اپنے ہاتھ بندگان خدا کے سر پر رکھے گا۔ اس وقت ہر مومن کا دل لوہے سے زیادہ مضبوط اور سندان (جس پر لوہار لوہا کوٹتے ہیں) سے زیادہ مستحکم ہو جائے گا اور ہر شخص چالیس مردوں کی قوت کا مالک ہو گا"۔(٢١)
رسول خدا ص فرماتے ہیں: "زمین اپنے سینے میں محفوظ بہتر سے بہتر چیزوں کو باہر نکال دے گی جیسے سونے چاندی کے ٹکڑے، اس وقت قاتل آئے گا اور کہے گا ہم نے ان چیزوں کے لئے قتل کیا ہے، جس نے قطع رحم کیا ہے کہے گا یہ قطع رحم کا باعث ہوا ہے، چور کہے گا اس کے لئے میرا ہاتھ قطع ہوا ہے پھر سب سونے کو پھینک دیں گے اور کوئی بھی اس سے کچھ نہیں لے گا"۔(٢٢)
زید زراء کہتے ہیں میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کی: مجھے خوف ہے کہ کہیں میں مومنین میں نہ رہوں۔ آپ ع نے پوچھا کہ کیوں؟۔ میں نے کہا: چونکہ میں کوئی ایسا شخص نہیں دیکھ رہا جو درہم و دینار پر اپنے بھائی کو مقدم کرے بلکہ دیکھ رہا ہوں کہ درہم و دینار ہمارے نزدیک اُن دینی و ایمانی بھائیوں پر اہمیت رکھتے ہیں جو امیر المومنین ع کی ولایت و دوستی کا دم بھرتے ہیں۔
حضرت ع نے فرمایا: "نہیں، تم ایسے نہیں ہو بلکہ تم مومن ہو، لیکن تمہارا ایمان ہمارے قائم عج کے ظہور سے قبل کامل نہیں ہو گا۔ اس وقت خداوند عالم تمہیں بردباری و صبر عطا کرے گا، پھر اس وقت کامل مومن بن جاؤ گے"۔(٢٣)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منابع و مآخذ:
١۔ نعمانی، غیبۃ، ص ٣١٩؛ بحار الانوار، ج٥٢، ص ٣٦٥
٢۔ نعمانی، غیبۃ، ص ٣١٨؛ بحار الانوار، ج٥٢، ص ٣٦٤
٣۔ نعمانی، غیبۃ، ص ٣١٨؛ بحار الانوار، ج٥٢، ص ٣٦٤
٤۔ الارشاد، ص ٣٦٥؛ کشف الغمہ، ج٣، ص ٢٦٥؛ نور الثقلین، ج٥،ص ٢٧؛ روضۃ الواعظین، ج٢، ص ٢٦٥
٥۔ مجمع البحرین، ج٦، ص ١١١
٦۔ بحار الانوار، ج٥٢، ص ٣٥٢
٧۔ حیرہ کوفہ سے ایک فرسخ کے فاصلہ پر ایک شہر تھا ساسانیوں کے زمانے میں ملوک لخمی وہاں حکومت کرتا تھا وہ لوگ ایران کی سرپرستی میں تھے لیکن خسرو پرویز نے ٦٠٢ ؁م میں اس سلسلے کو توڑ ڈالا اور وہاں حاکم معین کیا اور حیرہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں آنے کے بعد بنای کوفہ کی علت سے زوال پذیر ہوا اور دسیوں صدی م سے اور چوتھی صدی ہجری سے قبل کلی طور پر نابود ہوگیا۔ معین، ج٥، ص ٤٧٠
٨۔ التہذیب، ج٣، ص٢٥٣، کافی، ج٤، ص ٤٢٧؛ من لایحضر الفقیہ، ج٢، ص ٥٢٥؛ وسائل الشیعہ، ج٩، ص ٤١٢؛ مرأۃ العقول، ج١٨، ص٥٨؛ ملا ذالاخیار، ج٥، ص ٤٧٨؛ بحار الانوار، ج٥٢، ص ٣٧٥
٩۔ غیبت طوسی، ص ٤٢٩؛ اثبات الھداۃ، ص ٥١٥؛ بحارالانوار، ج٥٢، ص ٣٣٠
١٠۔ احقاق الحق، ج١٣، ص ٣١٢
١١۔ الارشاد، ص ٣٦٢؛ طوسی، غیبۃ، ص ٢٩٥؛ اثبات الھداۃ، ج٣، ص ٥٣٧؛ وافی، ج٢، ص ١١٢؛ بحارا لانوار، ج٥٢، ص ٣٣٠، ٣٣٧
١٢۔ عقد الدرر، ص ١٥٩
١٣۔ طوسی، غیبۃ، ص ٢٩٥:اثبات الھداۃ، ج٣، ص ٥٣٧؛ وافی، ج٢، ص ١١٢؛ بحارا لانوار، ج٥٢، ص ٣٣٠، ٣٣٧
١٤۔ وافی، ج٢، ص ١١٣، بہ نقل از : فتوحات مکیہ
١٥۔ خصال، ج٢، ص ٢٥٤، ح ١٠٥١
١٦۔ عبدالرزاق، مصنف، ج١١، ص ٤٠٢، ابن حماد، فتن، ص ١٦٢، ابن طاوؤس، ملاحم، ص ١٥٢
١٧۔ منن الرحمن، ج٢، ص ٤٢؛ اثبات الہداۃ، ج٣، ص ٥٢٤،نقل از : امیر المومنین -
١٨۔ ابن طاؤس، ملاحم، ص ٧١؛ احقاق الحق، ج١٣، ص ١٨٦؛ الشیعہ والرجعہ، ج١، ص ٢٧
١٩۔ احمد ، مسند، ج٣، ص ٣٧، ٥٢؛ جامع احادیث الشیعہ، ج٢، ص ٣٤؛ احقاق الحق، ج١٣، ص ١٤٦
٢٠۔ کافی ، ج١، ص ١٥؛ خرائج، ج٢، ص ٨٤٠؛ کمال الدین، ج٢، ص٦٧٥
٢١۔ بحار الانوار، ج٥٢، ص ٣٣٦
٢٢۔ عقد الدر، ص ١٥٢؛ احقاق الحق، ج١٣، ص ١١٦؛ اثبات الہداۃ، ج٣، ص ٤٤٨، ٤٩٥
٢٣۔ کمال الدین ، ج٢، ص ٦٥٣؛ دلائل الامامہ، ص ٢٤٣؛ کامل الزیارات، ص ١١٩
بشکریہ مجلہ امید، قم۔

خبر کا کوڈ : 32234
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش