0
Sunday 5 Dec 2010 13:26

ایرانی جوہری سائنسدانوں پر قاتلانہ حملوں کے پس پردہ عوامل

ایرانی جوہری سائنسدانوں پر قاتلانہ حملوں کے پس پردہ عوامل

تحریر: سعدالله زارعی
اسلام ٹائمز- تہران میں شہید بہشتی یونیورسٹی کے دو پروفیسرز ڈاکٹر مجید شہریاری اور ڈاکٹر فریدون عباسی پر  قاتلانہ حملے ایسے وقت میں انجام پائے جب اسلامی جمہوریہ ایران بڑی دانشمندی اور مہارت سے 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد اٹھنے والے فتنے پر کنٹرول پانے کے بعد اندرونی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بڑی کامیابیاں حاصل کر چکا تھا۔ گذشتہ 6 ماہ کے دوران مشرق وسطیٰ کے ممالک بغداد میں دوسری مرتبہ ایران کی ہم خیال حکومت تشکیل پانے کے شاہد تھے، جبکہ امریکی اتحادی بغداد میں "تھران پسند حکومت" کی دوبارہ تشکیل کو روکنے کیلئے اپنا پورا زور لگا چکے تھے اور عراق میں سیاسی تبدیلیوں کے حتمی ہونے کا واضح اعلان بھی کرتے تھے۔
ایک اور اہم واقعہ افغانستان اسمبلی کے انتخابات میں ایران کے روایتی ہم خیالوں کی کامیابی تھی۔ ان انتخابات میں پارلیمنٹ کی تقریبا 60 فیصد سیٹیں تاجک، ھزارہ، شیعوں اورازبکوں پر مشتمل "شمالی اتحاد" نے حاصل کیں، جبکہ سابقہ اسمبلی میں اس گروپ کے پاس آدھی سے بھی کم سیٹیں تھیں۔ پختونوں کا دو گروہوں، ایک حامد کرزئی کا حامی اور دوسرا اسکا مخالف، میں بٹنے اور پختونوں سے مخصوص آدھی کی لگ بھگ سیٹیں کرزئی کے حامی گروپ کے ہاتھ آ جانے

سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا بے کہ اس وقت تقریباً 80 فیصد ارکان پارلیمنٹ ایران کے طرفدار ہیں جنکے مقابلے میں 20 فیصد پارلیمنٹ اقلیت موجود ہے۔
ایک اور اہم واقعہ لبنان میں پیش آیا۔ 6 ماہ قبل امریکہ کے حمایت یافتہ گروہ نے فروری 2005 میں مغربی بیروت میں ایک بم حملے میں قتل ہونے والے سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کے کیس کی پیروی کرنے والی بین الاقوامی عدالت کے ذریعے اس قتل کی تہمت حزب اللہ پر لگائے جانے کی مہم شروع کی تاکہ ایک طرف حزب اللہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے اور دوسری جانب لبنان کے اندر متنازع ماحول ایجاد کر کے حزب اللہ کی سیاسی، فوجی اور انتظامی قوت کو کمزور کیا جائے۔ لیکن لبنان کے اندرونی حالات اور حزب اللہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی فراست نے یہ منصوبہ بھی ناکام بنا دیا۔
حزب اللہ کی جانب سے رفیق حریری اور انکے بعد لبنان میں اہم شخصیات کے قتل میں اسرائیل کے مرکزی کردار کا انکشاف بین الاقوامی عدالت منصوبے پر مہلک وار ثابت ہوا جسکے باعث اس عدالت نے اپنے ابتدائی اظہار نظر کو بھی کچھ ماہ کیلئے موخر کر دیا۔
ایرانی صدر کے دورہ لبنان اور پھر 14 مارچ گروپ کی نمایاں شخصیت سعد حریری کے دورہ ایران نے واضح کر دیا کہ حالات مکمل طور پر اسلامی مزاحمت کے کنٹرول میں ہیں۔ اسی
دوران سعودی عرب کی جانب سے رفیق حریری قتل کیس کی پشت پناہی کی پالیسی کو ترک کرنے کا فیصلہ، جسکا اعلان دو ماہ قبل شاہ عبداللہ نے اپنے دورہ بیروت کے دوران کیا، ثابت کرتا ہے کہ بین الاقوامی عدالت کا منصوبہ حکم صادر ہونے سے قبل ہی شکست سے دوچار ہو چکا ہے۔
دوسری طرف ایران کے اندر فتنے کی سازش کا مکمل طور پر ناکام ہو جانا اور باغی لیڈروں کا بے اثر ہو جانا اسلامی جمہوری نظام کے اندرونی اور بین الاقوامی دشمنوں کی مکمل گوشہ نشینی کا باعث بن گیا۔ ایرانی حکام کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر اندرونی حالات پر مکمل کنٹرول اور بغاوت کے مکمل خاتمے پر تاکید باعث بنی کہ دنیا اسلامی جمہوری نظام کی صلاحیتوں کا اعتراف کرے۔ اسی دوران امریکہ، بعض یورپی ممالک اور اسرائیل کی صہیونیستی رژیم ایران پر پابندیوں اور مزید دباو بڑھانے پر تاکید کرتے ہوئے یہ ظاہر کرنے کی کوشش میں مصروف تھے کہ ایران سے اپنے مطالبات منوانے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔
لہذا ایران کے اندر چند ایسے تلخ واقعات کا انجام پانا متوقع تھا جنکا انجام دینا اتنا مشکل نہ ہو لیکن وہ بڑی خبر بننے اور منفی پروپیگنڈے کا زمینہ فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہوں۔ جو حادثہ پیر کی صبح تہران میں پیش آیا وہ تہران کے شمال میں دو یونیورسٹی
پروفیسرز کی چلتی ہوئی گاڑیوں پر بم لگا کر انہیں بلاسٹ کرنا تھا۔ یہ دہشت گردانہ اقدامات بظاہر بہت آسانی سے انجام پائے اگرچہ عالمی میڈیا میں چند دن کیلئے پہلی خبر بن گئے اور یہ منفی پروپیگنڈہ شروع ہو گیا کہ "ایران صدارتی انتخابات کے بعد انجام پائے ہنگاموں کے 18 ماہ بعد بھی اپنے اندرونی حالات پر کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے"۔
البتہ سیاسی امور سے آگاہ افراد بخوبی جانتے ہیں کہ یہ دہشت گردانہ اقدامات ایک ایسے ملک کی سیکیورٹی صورتحال کو جانچنے کی بنیاد فراہم نہیں کر سکتے جو میڈیا اور دنیا بھر کی سیاسی محافل کے بقول مشرق وسطی اورعالم اسلام میں مرکزی کردار کا حامل ہے۔
پیر 29 نومبر کے دھشتگردانہ اقدامات ایران اور 5+1 گروپ ممالک کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں قریب الوقوع مذاکرات کے تیسرے راونڈ سے ٹھیک 6 دن قبل انجام پائے۔ یہ مذاکرات 15 ماہ تعطل کے بعد دوبارہ منعقد ہو رہے ہیں۔ فریقین کے مابین آخری مذاکرات میں، جو تہران ہنگاموں کے تین ماہ بعد ستمبر 2009 میں انجام پائے تھے، امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے نمائندوں نے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ جناب ڈاکٹر سعید جلیلی کو کہا تھا کہ ایرانی معاشرے میں دودستگی اور عوام کی جانب سے ایران میں حاکم سیاسی نظام کی شدید اور فیصلہ کن مخالفت
! کے پیش نظر 5+1 گروپ کے ایران سے مطالبات میں اضافہ ہو گیا ہے اور انسانی حقوق اور ایران کے حکومت مخالف دھڑے کے حقوق جیسے موضوعات کو خاص طور پر اپنے ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔ یعنی مغربی مذاکراتی ٹیم میں شامل یورپی اور امریکی نمائندوں نے ایران سے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں مزید مطالبات ماننے پر زور دیا جو ڈاکٹر سعید جلیلی کی جانب سے شدید ردعمل سے روبرو ہوا۔
اب کچھ دن تک سویٹزرلینڈ میں ایران اور 5+1 گروپ کے مابین مذاکرات شروع ہونے والے ہیں۔ مغربی ممالک محسوس کر رہے ہیں کہ انکی پوزیشن گزشتہ سال کی نسبت زیادہ کمزور ہو چکی ہے جبکہ لبنان، عراق اور افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں کے پیش نظر ایران بین الاقوامی سطح پر مزید طاقتور ہو گیا ہے۔ نیز ملک کے اندر اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کی نمایاں حیثیت جسکا ایک چھوٹا سا نمونہ قم میں ہونے والا انکا بے مثال استقبال ہے، نے بھی حالات کو مکمل طور پر ایران کے حق میں بدل دیا ہے۔
دوسری جانب مذاکرات میں شامل مغربی ممالک ابھی تک اپنی اندرونی مشکلات، معاشی و سیاسی بحرانوں پر پوری طرح قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ اسکے علاوہ علاقائی سطح پر بھی انکی یہ حالت ہے کہ لیسبن میں برگزار ہونے والے نیٹو اجلاس میں وہ افغانستان سے فوجی انخلاء
کیلئے ڈیڈلائن کا اعلان کر چکے ہیں جو انکی 60 سالہ تاریخ میں بے سابقہ ہے۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تہران میں پیر 29 نومبرکی دھشتگردانہ کاروائیوں کا تعلق سوئٹزرلینڈ میں انجام پانے والے قریب الوقوع مذاکرات سے ہے۔ درحقیقت ان دہشتگردانہ اقدامات کا مقصد یہ تھا کہ ایران مذاکرات کی میز پر افغانستان اور عراق میں مغربی ممالک کی واضح سیکیورٹی کمزوریوں کو ہائی لائٹ کر کے انہیں اپنی طاقت کے سامنے کمزور موقف اختیار کرنے پر مجبور نہ کر سکے جو "مستکبرین " کیلئے انتہائی تلخ اور ناقابل برداشت ہے۔
"تہران میں دھشتگردی" کی سازش سویٹزرلینڈ میں تیار کی گئی اور اسکے ذمہ دار ایک دھشت گرد گروہ سے وابستہ چند افراد نہیں بلکہ نیٹو اور 5+1 گروپ میں شامل مغربی ممالک کے سربراہان ہیں۔ لہذا ایران اور مغربی ممالک کے درمیان مذاکرات میں ایران کا پہلا ایشو ہی یہی ہونا چاہئے۔ واضح ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس حقائق پر پردہ ڈالنے کی غرض سے ان دہشتگردانہ کاروائیوں کی مذمت ضرور کریں گے لیکن "مجاہدین خلق" جیسی دہشت گرد تنظیموں کی رسمی طور پر حمایت کر نے اور عراقی حکومت کی جانب سے انکے خلاف کاروائی کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کے پیش نظر انکی یہ مذمت منافقت پر مبنی اور ناقابل قبول ہو گی۔

خبر کا کوڈ : 45910
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے