0
Sunday 11 Oct 2015 20:31

خطے کا نیا اتحاد اور داعش کا تاریک مستقبل

خطے کا نیا اتحاد اور داعش کا تاریک مستقبل
تحریر: جعفر بلوری

ایران اور روس کی مرکزیت میں عراق اور شام کے تعاون سے خطے میں نئے داعش مخالف اتحاد کی تشکیل کو ایک ہفتہ ہونے کو ہے۔ اس اتحاد نے انہی چند دنوں کے دوران صرف ہوائی اور سمندری حملوں سے داعش کی کمر توڑ دی ہے۔ یہ نیا داعش مخالف اتحاد جسے حزب اللہ لبنان کی مدد بھی حاصل ہے، شام حکومت کی رسمی درخواست کے نتیجے میں تشکیل پایا ہے اور مکمل طور پر قانونی انداز میں شام کی سرزمین پر تکفیری دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے سرگرم عمل ہوچکا ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اس نئے اتحاد نے ایک ہفتے کی قلیل مدت میں شام میں تکفیری دہشت گرد عناصر کے 112 سے زیادہ مراکز، جن میں تقریباً 20 کنٹرول اینڈ کمانڈ سنٹرز بھی شامل تھے، کو نشانہ بنایا ہے اور بڑی تعداد میں تکفیری دہشت گرد عناصر کی ہلاکت اور ان کے اسلحہ کے ذخائر کو تباہ کرنے کے علاوہ کم از کم 4 ہزار تکفیری دہشت گردوں کو بھاگنے یا ہتھیار ڈالنے پر بھی مجبور کر چکا ہے۔ شام کے حکومتی ذرائع کے بقول داعش مخالف نئے اتحاد کے ہوائی اور میزائل حملوں میں عرب اور مغربی ممالک کی جانب سے اس تکفیری دہشت گرد گروہ کو دیئے گئے جنگی ساز و سامان کا 40 فیصد حصہ تباہ کر دیا گیا ہے۔

ایران اور روس کی مرکزیت میں تشکیل پانے والے اس نئے داعش مخالف اتحاد کی کامیابی کا یہی ثبوت کافی ہے کہ صرف ایک ہفتے کی مدت میں ہی 52 سعودی مفتیوں نے اعلانیہ طور پر اس کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے دیا ہے اور نیٹو، امریکی اسٹریٹجسٹ برجینسکی اور امریکی صدر براک اوباما کو اس اتحاد کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح ان سعودی مفتیوں کی ایماء پر 45 تکفیری دہشت گرد گروہوں نے ایران اور شام کے خلاف نام نہاد جہاد کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ دوسری طرف بغداد کی جانب سے اس اتحاد کو عراق میں بھی داعش مخالف کارروائی شروع کرنے کی درخواست، اس نئے اتحاد کی کامیاب حکمت عملی کی ایک اور ٹھوس دلیل ہے۔ ادھر امریکہ کی سربراہی میں تقریباً 60 ممالک پر مشتمل وہ نام نھاد اتحاد ہے جس نے گذشتہ ایک سال کے دوران تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے مقابلے کے بہانے شام کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے، عراق میں بھی داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی بجائے عراقی فوج کے مراکز پر حملے کرنے اور سویلین افراد کی قتل و غارت کے علاوہ کوئی کام انجام نہیں دیا۔ امریکہ اس وقت اس نئے اتحاد کی شدید مخالفت کر رہا ہے۔ اس بارے میں درج ذیل نکات قابل توجہ ہیں:

1)۔ روس اور ایران کی مرکزیت میں تشکیل پانے والے نئے اتحاد کے بہت سے فوائد ہیں، جن میں سے بعض تکفیری دہشت گرد عناصر کی نابودی پر مشتمل اس کے اصلی ہدف جتنی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس پانچ طرفہ حقیقی معنٰی میں داعش مخالف اتحاد نے امریکہ کے شیطانی اتحاد کے چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سعودی مفتیوں، تکفیری دہشت گرد گروہوں، امریکہ، نیٹو اور عرب حکومتوں کی جانب سے یکصدا ہو کر اس جدید اتحاد کے خلاف آواز اٹھانا کیا معنی و مفہوم رکھتا ہے؟ کچھ دن قبل العربیہ نیوز چینل نے اس معنٰی کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے یہ اظہار خیال کیا:
"براک اوباما نئے اتحاد کی جانب سے حملوں کے آغاز سے پہلے وارننگ دے چکے تھے کہ روس کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی تکفیری گروہوں کے اتحاد اور ان کی جانب سے روس کے خلاف اعلان جہاد کا باعث بنے گی!"۔
امریکی صدر براک اوباما نے اپنی اس وارننگ اور تکفیری وہابی عناصر کے ساتھ مل کر نئے اتحاد کی مخالفت کے ذریعے درحقیقت اپنے اتحاد کے منحوس اور شیطانی چہرے کو آشکار کر دیا ہے اور ایران، روس، عراق، شام اور حزب اللہ کے خلاف تکفیری دہشت گرد عناصر سے مل کر ایک متحدہ محاذ تشکیل دیا ہے۔ اسی طرح اس نئے حقیقی اتحاد نے امریکہ کی سربراہی میں 60 رکنی جھوٹے اتحاد کے بے فائدہ ہونے کو بھی برملا کر دیا ہے۔

2 امریکہ کی زیر سرپرستی نام نہاد داعش مخالف اتحاد کو اس وقت کئی شدید پریشانیاں لاحق ہیں۔ ایک یہ کہ روس نے شام میں تمام دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے اور امریکہ کی جانب سے اچھے اور برے دہشت گردوں پر مشتمل مسخرہ تقسیم بندی پر توجہ دیئے بغیر ان کے خاتمے کیلئے کمر باندھ لی ہے۔ فری سیرین آرمی، النصرہ فرنٹ، داعش، فرینڈز آف سیریا، اسلامک لبریشن فرنٹ، الفاروق بریگیڈز، التوحید بریگیڈز، معتدل مخالفین وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ تقسیم بندیاں ہیں جو مغربی طاقتوں نے تکفیری دہشت گرد عناصر کے غیر انسانی اور مجرمانہ اقدامات کے بعد شام میں سرگرم مسلح دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور مدد کی خاطر بنا رکھی ہیں، جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تمام دہشت گرد گروہ مجرمانہ اقدامات انجام دینے اور اہداف و مقاصد کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں رکھتے۔ یہ ایسی تقسیم بندیاں ہیں جو روسی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بقول انتہائی احمقانہ ہیں اور حتٰی خود امریکی حکام مختلف دہشت گرد گروہوں کو ایکدوسرے سے الگ کرنے اور انہیں پہچاننے پر قادر نہیں اور کوئی نہیں جانتا کہ کون سا گروہ کس جگہ سرگرم عمل ہے۔ مغربی حکام اور ذرائع ابلاغ کے بقول داعش مخالف نیا پانچ رکنی اتحاد تمام دہشت گرد گروہوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہا ہے اور یہ امر مغربی ممالک کو خوشایند نہیں کیونکہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف حقیقی جنگ کے نتیجے میں سب سے بڑی کامیابی شام کے صدر بشار اسد اور خطے میں سرگرم اسلامی مزاحمت کو نصیب ہوگی۔

3)۔
ایک ایسا اتحاد جس نے ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں داعش کی کمر توڑ دی ہے اور غیر انسانی اور مذبوحانہ اقدامات کے ذریعے ایجاد کی گئی رعب و وحشت کی فضا کا خاتمہ کر ڈالا ہے، یقیناً اس دہشت گرد گروہ کے بانیوں کیلئے قابل برداشت نہیں ہوسکتا۔ لہذا امریکہ محض خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھے گا۔ امریکہ کی سربراہی میں موجود نام نھاد داعش مخالف اتحاد اس نئے اتحاد کو خراب کرنے کی بھرپور کوشش کرے گا۔ البتہ روسی صدر پیوٹن کے بقول اس نئے اتحاد کے خلاف پروپیگنڈہ مہم اسی وقت شروع کر دی گئی تھی، جب ابھی فوجی کارروائی شروع ہی نہیں ہوئی تھی اور یہ خبر دی گئی کہ "روسی اتحاد نے شام میں کئی سویلین افراد کو مار ڈالا!"۔ "عام شہریوں کی ہلاکت"، "داعش کے خلاف حملوں کا موثر نہ ہونا"، "روسی اتحاد کی جانب سے شام کے تیل کے کنووں پر قبضہ کرنے کی کوشش"، "روسی اتحاد کی جانب سے شام میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش" وغیرہ وغیرہ ایسے عناوین ہیں، جو اس نئے اتحاد کے خلاف پروپیگنڈہ مہم میں مخالفین کی جانب سے دہرائے جائیں گے۔ یہ منفی پروپیگنڈہ نئے اتحاد کی جانب سے کارروائی کے آغاز سے پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔ جدید اتحاد کے خلاف اس پروپیگنڈے میں تکفیری دہشت گرد بھی اپنے بانیوں کا ساتھ دیں گے۔ عام شہریوں کا وسیع قتل عام، مسجدوں پر بم دھماکے، شادی اور عزاداری کے اجتماعات پر حملے، بعضی امریکہ کے اتحادی ممالک کے سفارتخانوں پر نمائشی حملے اور ان کے ساتھ ہی روسی اتحاد کے خلاف پروپیگنڈہ وہ حکمت عملی ہے جو مغربی – عبری – عربی اتحاد اس نئے اتحاد کے خلاف اپنا سکتا ہے۔

4)۔
جب "زبیگینیو برجینسکی" جیسا شخص جو اب تک یہ تاکید کرتا آیا ہے کہ امریکی حکام روس کے مقابلے میں صبر و تحمل سے کام لیں، تاکہ تیسری جنگ عظیم سے بچا جاسکے، اچانک اس نئے اتحاد کی تشکیل کے بعد اس قدر پریشان ہو جاتا ہے کہ مکمل صراحت کے ساتھ روس کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کی بات کرتا ہے اور ماضی کی طرح تیسری جنگ عظیم شروع ہونے پر پریشانی کا اظہار بھی نہیں کرتا، اور نیٹو کی طرف سے انتہائی شدید بیان میں ماسکو کو دھمکی دی جاتی ہے اور اس سے شام میں فوجی کارروائی کو فوراً بند کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، اور ترکی تین دن میں تین بار روسی سفیر کو وزارت خارجہ بلا کر اعتراض کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ روس اور ایران کی مرکزیت میں تشکیل پانے والے اتحاد نے ٹھیک نشانے پر وار کیا ہے۔ یہ نیا اتحاد امریکی اتحاد سے آگے نکل چکا ہے اور عملی طور پر بھی میدان اس کے ہاتھ میں آچکا ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی بھی اس نئے اتحاد کے تابڑ توڑ حملوں پر انگشت بدندان ہیں۔ خاص طور پر اب جب روس کی نیوی بھی داعش مخالف کارروائیوں میں شامل ہوچکی ہے اور کسپین سے 25 لانگ رینج میزائل دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر داغ چکی ہے، امریکی حکام پوری طرح مبہوت ہوچکے ہیں۔

لہذا جب تک امریکی اتحاد کوئی عملی اقدام نہیں اٹھاتا اور صرف پروپیگنڈہ مہم میں مصروف ہے، اس نئے اتحاد کو چاہئے کہ وہ داعش اور دوسرے دہشت گرد گروہوں کے خلاف اپنے حملوں میں مزید شدت لائے اور زیادہ سے زیادہ ممالک کو اپنے اتحاد میں شامل کر کے ان آدم خور دہشت گردوں کے خلاف بڑا زمینی اتحاد تشکیل پانے کا زمینہ فراہم کرے تاکہ اس طرح ایک تو اپنی برتری کو محفوظ بنا سکے، دوسرا زیادہ سے زیادہ ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر امریکی جھوٹے اتحاد کو کمزور یا ختم کیا جا سکے، تیسرا زیادہ سے زیادہ تکفیری دہشت گرد عناصر کا خاتمہ ممکن بنایا جائے۔ اب تک تاجکستان، عراق اور افغانستان بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں روس سے تعاون کی درخواست کر چکے ہیں۔ اس کا واضح مطلب دہشت گردی کا شکار ممالک کی جانب سے نئے داعش مخالف اتحاد کو سبز جھنڈی دکھانا ہے۔ آج دنیا کے بہت سے ممالک دہشت گردی سے خطرے کا احساس کر رہے ہیں۔

5ایران اور روس کی مرکزیت میں بننے والے نئے داعش مخالف اتحاد نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر حقیقی طور پر دہشت گردی کے خلاف کاروائی انجام پائے تو داعش سے بھی بڑے دہشت گرد گروہ کا انتہائی قلیل مدت میں قلع و قمع کیا جا سکتا ہے۔ تکفیری دہشت گرد عناصر جنہوں نے اب تک سفاکانہ اقدامات کے ذریعے رعب و وحشت کی فضا ایجاد کی ہوئی تھی پر کاری ضرب لگنے سے انتہائی اہم اور فوری اثرات ظاہر ہوئے ہیں۔ خوف و وحشت کی فضا ایجاد کرنا تکفیری دہشت گرد عناصر کا ہتھکنڈہ ہے اور ان سے یہ ہتھکنڈہ چھین کر نئے اتحاد نے ایک اسٹریٹجک کامیابی حاصل کی ہے۔ اب تکفیری دہشت گرد عناصر گلے کاٹنے، زندہ جلانے اور ایسے ہی دوسرے وقیحانہ اقدامات کے ذریعے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔
 
6)۔ تکفیری دہشت گرد عناصر کا خاتمہ صرف خطے اور اسلامی مزاحمت کیلئے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ اس کا فائدہ یورپ کو بھی ہو گا۔ اس وقت یورپی ممالک کو نقل مکانی کرنے والے افراد کی وجہ سے جو بحران درپیش ہے وہ واقعی ایک بڑا بحران ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس بحران کی زد میں نہیں ہیں۔ شام اور عراق سے تکفیری دہشت گرد عناصر کا خاتمہ ان کروڑوں مہاجرین کی وطن واپسی کا راستہ ہموار کر دے گا جو اس وقت یا تو یورپی ممالک میں جا چکے ہیں یا وہاں جانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یورپی ممالک کو درپیش مہاجرت کے بحران کا واحد راہ حل تکفیریوں کا مکمل خاتمہ ہے۔ اور یہ وہ کام ہے جو روس اور ایران کی مرکزیت میں بننے والا نیا اتحاد انتہائی سنجیدگی اور خلوص نیت سے انجام دے رہا ہے۔ جبکہ امریکہ اور اس کے بعض مغربی اتحادی صرف اس خاطر خطے میں جنگ کی آگ کو جلتا رہنے دینا چاہتے ہیں کہ ان کی اسلحہ بنانے والی فیکٹریاں چلتی رہیں اور اسلحے کا کاروبار ان کیلئے پیسے بناتا رہے۔ یورپی ممالک کو چاہئے کہ وہ اور کچھ نہیں تو اپنی نجات ہی کی خاطر اس نئے اتحاد کی مدد اور حمایت کریں تاکہ دنیا سے تکفیریت اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ 
 
خبر کا کوڈ : 490151
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب