1
0
Friday 26 Apr 2019 19:30

قومی مفاد اور سچ

قومی مفاد اور سچ
تحریر: نذر حافی
Nazarhaffi@gmail.com

بہت رسہ کشی ہوچکی ہے، پاکستان کو توڑنے اور اپنے مسالک و مقاصد کے لئے استعمال کرنے والوں کی جب کہیں بھی دال نہیں گلی تو اب انہوں نے مورچے تبدیل کر لئے ہیں، پہلے قائداعظم کو کافر اعظم، پاکستان کو کافرستان، پاک فوج کو ناپاک فوج کہا، پاکستان آرمی کے جوانوں کی گردنیں کاٹ کر ان کے سروں کے ساتھ فٹبال کھیلا اور اے پی ایس پشاور کے بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا، لیکن اس سارے ظلم و ستم کے باوجود پاکستان کے دشمنوں کو کہیں پر بھی کوئی کامیابی نصیب نہیں ہوئی، چنانچہ اب انہوں نے محاذ تبدیل کر لیا ہے۔ نئے محاذ پر نئے انداز میں پاکستان کی سلامتی پر حملے ہو رہے ہیں، اب بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ہے۔ مقصد پاکستان کو تنہا کرنا، پاکستان کی سرحدوں پر کشیدگی کو بڑھانا، پاکستان کو اپنے  فرقہ وارانہ مقاصد کے لئے استعمال کرنا اور پاکستان کے عوام اور اداروں کو حقیقی دشمنوں سے غافل کرنا ہے جبکہ زبان پر قومی مفاد کے نعرے ہیں۔

یہ قومی مفاد کا نعرہ لگا کر پاکستان کو چاروں طرف سے غیر محفوظ بنا رہے ہیں، ہندوستان اور افغانستان سے ہمارے تعلقات انہی لوگوں کی وجہ سے پہلے ہی تناو کا شکار ہیں، یہ اس سلسلے میں بھی پاکستان کے مفاد کا نعرہ لگاتے ہیں، لیکن ان کی  شدت پسندانہ کارروائیاں ہمیشہ پاکستان کی پالیسیوں کے خلاف ہوتی ہیں اور ان کی ہی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان عالمی برادری کی طرف سے شدید دباو کا شکار ہے، دوسری طرف ماضی میں یہ چین کے سیاح اور انجینئر بھی اغوا کرتے رہے ہیں اور سی پیک کے منصوبے کے سامنے آنے کے بعد یہ لوگ جس شد و مد کے ساتھ چین کے خلاف مصروف عمل ہیں، اس کا ثمر بھی کچھ عرصے میں سامنے آجائے گا۔

اب رہی بات ہمارے چوتھے ہمسائے ایران کی تو وہ کون سا موقع ہے، جو ایران کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کے لئے انہوں نے استعمال نہیں کیا۔ یہ اپنے مذموم مقاصد کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں، یہان تک کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سانحہ اورماڑہ کے بارے میں جو پریس کانفرنس تھی، وہ کس قدر ذمہ دارانہ تھی، اس کا اندازہ تو اب سب کو ہوچکا ہے، لکھا ہوا سکرپٹ دیکھ کر پڑھنے والے وزیر خارجہ کو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ ایران بارڈر سے  اورماڑہ کا فاصلہ کتنے کلومیٹر ہے اور اسے  پیدل طے کرنے کے لئے کتنے دنوں کا سفر درکار ہے!؟ انہوں نے یہ بھی مدنظر نہیں رکھا کہ ایران بارڈر سے اورماڑہ تک مختلف سکیورٹی اداروں کی جو سینکڑوں چیک پوسٹیں آتی ہیں، وہ اس سارے دورانیے میں کیا کرتی رہیں!؟

یہ الگ بات ہے کہ کوئی بھی عقلمند آدمی شاہ محمود قریشی سے گلہ نہیں کرسکتا، چونکہ ان سے قبل ہزارہ برادری کے سامنے وزیر مملکت شہریار آفریدی یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمارے وزیراعظم نے ایران کے صدر رفسنجانی سے بات کی ہے، اس کے بعد اپنے دورہ ایران کے دوران ہمارے وزیراعظم جرمنی اور جاپان کو ہمسایہ ملک قرار دے چکے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم نے ایران میں ایک تقریب میں تقریر کے دوران  موجود افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ"جتنی زیادہ آپ تجارت کریں گے، آپ کے تعلقات اتنے ہی مضبوط ہوں گے۔ جرمنی اور جاپان نے لاکھوں شہریوں کو ہلاک کیا۔ پھر دوسری جنگِ عظیم کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا اور جاپان اور جرمنی کی سرحد پر مل کر صنعتیں لگائیں اور اس کے بعد سے ان کے درمیان خراب تعلقات کا کوئی سوال ہی نہیں کیونکہ ان کے اقتصادی مفادات ایک ہیں۔"

ابھی وزیر مملکت شہر یار آفریدی کے ایرانی صدر رفسنجانی مرحوم کو ٹیلی فون اور  ہمارے وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس پر قہقہے تھمے نہیں تھے کہ جاپان اور جرمنی کی سرحد پر لگی ہوئی صنعتوں نے سب کو چونکا دیا۔ موقع شناس لوگوں نے وزیراعظم کے دورہ ایران سے فائدہ اٹھانے کے لئے یہ خبر بھی بنا دی کہ ہمارے وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر کو ٹھوس شواہد فراہم کئے، جن کی بنا پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل محمد علی جعفری کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ یار لوگوں نے اتنا خیال بھی نہیں رکھا کہ ہمارے وزیراعظم کی ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کب ہوئی ہے اور جنرل جعفری کی تبدیلی کس تاریخ کو عمل میں آئی ہے؟ بعض نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر کی طرف سے جنرل جعفری کے "را" کے ساتھ تعلقات کی تحقیقات کا حکم بھی دیدیا گیا ہے۔

خیر ہم ایسے سکرپٹ اور خبریں لکھنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑتے ہیں، البتہ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ لوگ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان کی سرحدوں پر کشیدگی بڑھانے کے لئے ہمیشہ کمر بستہ رہتے ہیں، لیکن دوسری طرف اگر سعودی عرب میں ایک ہی دن میں سینتیس افراد کے سر تلوار سے قلم کر دیئے جائیں تو ان کی انسانی و دینی ہمدردی بالکل نہیں جاگتی، چونکہ سعودی عرب کے خلاف بولنا ان کے نزدیک قومی مفاد کے خلاف ہے۔ ہم سچائی کی خاطر غور و فکر اور حق کی خاطر تحقیق کرنے والوں کے لئے اتنا عرض کرنا چاہتے ہیں کہ سچ اگر قومی مفاد کے خلاف ہے تو پھر وہ قومی مفاد سچ نہیں ہے۔
خبر کا کوڈ : 790800
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

sajjad mehdavi
Pakistan
سبحان اللہ!!!!!!!!! سچ اگر قومی مفاد کے خلاف ہے تو پھر وہ قومی مفاد سچ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب