0
Thursday 8 Aug 2019 23:44

امام محمد باقر (ع) کے نزدیک نیک صفت اور اچھے انسان کی پہچان

امام محمد باقر (ع) کے نزدیک نیک صفت اور اچھے انسان کی پہچان
تحریر: سید نجیب الحسن زیدی

7 ذی الحجہ کی تاریخ ہمارے اور آپکے پانچویں امام، امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت سے منسوب ہے، جہاں ہم آپ کی شہادت کی تاریخ میں غمگین و محزون ہیں، وہیں ضروری ہے کہ ہم ان تعلیمات پر بھی ایک نظر ڈالیں، جنہیں امام علیہ السلام نے بیان کیا ہے اور جن کی روشنی میں ایک صحت مند و درد مند معاشرہ نکھر کر سامنے آتا ہے، ہم اس مختصر تحریر میں امام علیہ السلام کے تعلیمات کی روشنی میں اس بات کو بیان کرنے کی کوشش کریں گے کہ نیک صفت اور اچھا انسان کون ہے۔

اجمالی تعارف:
امام محمد باقر علیہ السلام کے سلسلہ سے تاریخی کتب بتاتی ہیں کہ آپ نے یکم رجب المرجب بروز جمعہ سنہ 57 ہجری مدینہ میں اس ظاہری دنیا میں آنکھیں کھولیں۔[1] اور7 ذی الحجۃ الحرام سنہ 114 ہجری کو  ہشام بن عبدالملک کے زمانے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا۔ آپ پہلے وہ امام ہیں، جو اپنی ماں اور اپنے والد بزرگوار دونوں ہی کی طرف سے فاطمی و علوی قرار پائے، چنانچہ سلسلہ معصوم میں آپ ہی کو یہ افتخار حاصل ہے کہ دادیہال اور نانیہال دونوں ہی طرف سے آپ ہاشمی ہیں۔[2] امام محمد باقرؑ نے عہد طفولی کے چار سال اپنے جد جناب امام حسین علیہ السلام کے ساتھ گزارے۔ آپ کے سلسلہ سے تاریخ کہتی ہے کہ آپ کمسنی کے باجود کربلا میں موجود تھے، چنانچہ ایک حدیث  میں آپ فرماتے ہیں: "میں چار سالہ تھا، جب میرے جدّ امام حسینؑ کو شہید کیا گیا اور مجھے آپؑ کی شہادت کے ساتھ وہ مصائب یاد ہیں، جو ہم پر گزرے۔" [3] امام محمد باقر علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت پر تمام عاشقان حیدر کرار و دنیا کے حریت پسندوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے ہماری یہ کوشش ہے کہ آپکی نظر میں اچھے اور نیک انسان کے معیار کو بیان کیا جا سکے۔ پروردگار کی بارگاہ میں دعاء ہے کہ مالک ہمیں اپنے ائمہ طاہرین علیھم السلام کی تعلیمات کو سمجھنے اور سمجھ کر ان پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

امام محمد باقر علیہ السلام  کی نظر میں اچھا اور نیک انسان:
آج  دنیا میں روز بروز بدلتی قدروں کے حامل معاشرہ میں انسان کے لئے نیکی اور خیر کا مفہوم بھی بدل رہا ہے اور نیک اور اچھے لوگوں کو پرکھنے کا معیار بھی بدل رہا ہے، ہر ایک خود کو بہت بڑا نیک انسان دکھانے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے اور دلیل کے طور پر وہ نیکیاں گنانا شروع کر دیتا ہے، جو اس نے کی ہیں اور موجود دور میں انہیں نیکیوں کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے، جیسے کسی اسکول کی تعمیر، کسی بچے کی فیس کا انتظام کر دینا، کسی یتیم کی سرپرستی، کسی اسپتال کی تعمیر وغیرہ، یقیناً یہ سب نیک کام ہیں اور ان سب کو کرنے والا بھی نیکی کو انجام دینے والا نیک انسان ہی کہا جائے گا، لیکن یہ ساری چیزیں اس کی اچھائی اور نیکی کا ملاک و معیار نہیں ہیں،بلکہ ملاک و معیار امام علیہ السلام نے اس بات کو بیان کیا ہے کہ اس کار خیر کرنے والے کے دل میں کیا ہے۔؟ کیا وہ دل میں ان لوگوں سے محبت کا جذبہ رکھتا ہے، جو اللہ کے نیک و اطاعت گزار بندے ہیں یا پھر اس کا رہن سہن تو بدمعاشوں کے درمیان ہے اور اللہ کے اطاعت گزار بندوں سے ہمیشہ اس کی ان بن رہتی ہے، لیکن دنیا کے ظاہری نیک کاموں میں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے، کیا ایسے انسان کو اچھا انسان کہا جا سکتا ہے۔؟

امام محمد باقر علیہ السلام ایک حدیث میں اسی کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اگر تم یہ چاہتے ہو کہ جانو تمہارے اندر کوئی خیر کوئی اچھائی پائی جا رہی ہے یا نہیں تو اپنے دل کے اندر جھانک کر دیکھو، اگر یہ دل اللہ کی اطاعت کرنے والوں کی طرف مائل ہو اور اس میں ان لوگوں کی محبت پائی جاتی ہو، جو خدا کے اطاعت گزار بندے ہیں اور اس دل میں ان لوگوں سے نفرت ہو، جو اللہ کی نافرمانی کرنے والے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ تمہارے اندر خیر و نیکی کا مادہ پایا جاتا ہے اور اللہ تمہیں دوست رکھتا ہے، لیکن اگر تم اللہ کی اطاعت کرنے والے بندوں سے بغض و عناد رکھتے ہو اور اہل معصیت اور گناہ گاروں سے محبت کرتے ہو تو جان لو کہ تمہارے اندر کوئی خیر نہیں پائی جاتی، اللہ بھی تمہیں دوست نہیں رکھتا اور انسان اسی کے ساتھ مانا جاتا ہے، جس سے محبت کرتا ہے۔"[4]

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ہم اگر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے اندر کتنی خوبی پائی جاتی ہے تو اپنے دل کو ٹٹولیں اور دیکھیں کہ دل کن لوگوں کی طرف مائل ہے، اگر اس دل میں دنیا پرستوں کی محبت پائی جاتی ہے، ان لوگوں کی محبت پائی جاتی ہے،  جنہیں خدا سے مطلب نہیں، اللہ کے دین سے مطلب نہیں، صرف اپنے وجود سے مطلب ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے وجود کے اندر وہ سرچشمہ نہیں، جس سے نیکیاں پھوٹ کر باہر نکلیں، لیکن اگر ہمارا دل اہل اطاعت اور اللہ کے نیک بندوں کی طرف مائل ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے اندر خیر پائی جاتی ہے۔ اب ضروری ہے کہ ہم بھی اپنی زندگی کو ویسا ہی بنائیں، جیسا کہ اللہ کے نیک بندوں نے بنایا ہوا ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام کی یہ حدیث ہمیں ایک کسوٹی دے رہی ہے، ہمارے سامنے ایک میزان رکھ رہی ہے، ہم اپنے آپ کو تول سکتے ہیں کہ ہمارا جھکاو کس طرف ہے۔ دنیا میں آج بہت سے لوگ ہیں، جو اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اچھے لوگ ہیں، نیک ہیں، لیکن اس بات کا معیار کیا ہے کہ ہم خیر پر ہیں؟ ہمارے دل میں خیر ہے، کیا اس کا ثبوت ہمارے وہ نیک کام ہیں، جو ہم نے انجام دیئے، چنانچہ اکثر ہم نیک ہونے کی دلیل اپنے نیک کاموں کو بیان کرتے ہیں کہ ہم نے یہ کیا، ہم نے وہ کیا۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے اس حدیث میں جو چیز بیان کی ہے، اس سے نیک اور اچھے انسان کا معیار سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے نیک کاموں پر نہ جاو بلکہ یہ دیکھو کہ تمہارا دل کس کی طرف مائل ہے، تمہارا اٹھنا بیٹھنا کہاں ہے، تمہاری نشست و برخواست کن لوگوں کے ساتھ ہے، تم ان امیروں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہو، جو دنیا میں غرق ہیں یا دو منٹ اس غریب کے ساتھ بھی بیٹھنا پسند کرتے ہو، جس کے پاس بندگی پروردگار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اب ہم اس حدیث کی روشنی میں اپنا تجزیہ کرسکتے ہیں کہ ہمارے اندر خیر کی خو پائی جاتی ہے یا ہم شر اور برائی کی طرف مائل ہیں۔ اگر ہم اچھے اور نیک لوگوں کا ساتھ نہیں دے سکتے، ان کے لئے کھڑے نہیں ہوسکتے اور بس اپنی نیکیوں کی فکر ہے تو ممکن ہے یہ ہمارے کام نہ آسکے۔

چنانچہ ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’خدا نے جناب شعیب علیہ السلام پر وحی کی کہ میں تمہاری قوم کے ایک لاکھ لوگوں پر اپنا عذاب نازل کرونگا اور انہیں ہلاک کر دونگا، ان میں سے ساٹھ ہزار وہ ہونگے، جو برے اور اشرار لوگوں میں ہوں گے اور چالیس وہ ہونگے، جن کا تعلق اچھے اور نیک لوگوں میں ہوگا۔ جناب شعیب علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے پروردگار برے اور نالائق لوگ تو اس لائق ہیں کہ ان پر عذاب ہو، لیکن نیک اور اچھے لوگوں پر عذاب کی وجہ کیا ہے، ان پر کیونکر عذاب ہوگا؟ خداوند متعال نے جناب شعیب پر وحی کی، اس لئے کہ یہ لوگ گناہ گاروں اور معصیت کاروں کے سامنے لاتعلق ہو کر رہتے تھے اور ان کے سامنے اپنی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتے تھے۔‘‘[5] اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ایک اچھا انسان بننے کے لئے جتنا ضروری یہ ہے کہ ہم خود نیکی اور اچھائی کو انجام دیں، اتنا ہی ضروری ہے کہ نیک اور اچھے لوگوں کا ساتھ دیں اور برے لوگوں سے اظہار برات کریں۔

اگر اس ملاک و معیار پر دنیا میں عمل ہوتا تو آج ہر طرف برائیوں کا دور دورہ نہ ہوتا، ظالموں کو ظلم و زیادتی کا موقع نہ ملتا، کسی ایک ملک کو چاروں طرف سے گھیر کر تنہا نہ کیا جاتا، شیخ زکزاکی جیسے مرد مجاہد کے ساتھ زیادتی نہ ہوتی، ہمارے ملک میں مسلمانوں کی یہ حالت نہ ہوتی، یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ ہم اپنی نیکی تو کرتے رہے، لیکن ان برے اور شریر لوگوں کے مقابل نہ کھڑے ہوئے، جنہوں نے معاشرے اور سماج میں برائیوں کے چلن کو عام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، ہم بظاہر اچھے کاموں میں مشغول رہے، لیکن ان نیک اور اچھے لوگوں کا ساتھ نہ دیا، جن پر دنیا میں عرصہ حیات کو تنگ کر دیا گیا۔ یقیناً اگر ہم اپنی ذمہ داری کو ادا کریں اور جس امام کا غم منا رہے ہیں، ان کی تعلیمات کو بھی اپنی روح میں اتار لیں، نیک عمل کے ساتھ نیک لوگوں سے محبت کا اظہار بھی کریں اور بروں سے نفرت بھی کریں تو ہمارا مقام اتنا بلند ہوگا کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس لئے کہ ایسی صورت میں ہم امام علیہ السلام کی واقعی ولایت پر ثابت قدم رہنے والوں میں شمار ہونگے اور عصر غیبت میں اگر کوئی ولایت اہلبیت اطہار علیھم السلام پر ثابت قدم رہے تو امام علیہ السلام ہی کی حدیث ہے کہ اسکا اجر شہداء بدر و حنین کے ہزار شہیدوں کے برابر ہوگا۔

ظاہر ہے اتنا بڑا اجر یوں ہی نصیب نہیں ہو جائے گا، جب ہم اچھے لوگوں کی محبت میں بولیں گے، برے لوگوں کی مخالفت میں کھڑے ہونگے تو کہیں ہمارا بائیکاٹ ہوگا، کہیں ہمیں جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے جانا ہوگا، کہیں ہمارے سامنے بندوقیں اور سنگینیں ہوں گی، کہیں ہمارے سامنے توپ و ٹینک ہونگے، کہیں دار و رسن ہوگی، لیکن فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ سخت و دشوار ترین حالات میں ہمیں کس طرح ولایت اہلبیت اطہار علیھم السلام پر ثابت قدم رہنا ہے، کس طرح شیخ زکزاکی، حسن نصراللہ، سید علی خامنہ ای اور آیت اللہ سیستانی و عیسیٰ قاسم جیسے مردان عرصہ علم و عمل کو تنہا نہیں چھوڑنا ہے کہ ان کا ساتھ دیکر ہی ہم امام علیہ السلام کی نظر میں خود کو اچھے اور نیک انسان کے طور پر پیش کرسکتے ہیں، ورنہ اپنے منہ میاں مٹھو تو سبھی بنتے ہیں، ان میں ہم بھی سہی، بات تو تب ہے کہ اچھے اور نیک صفت انسان ہونے کی مہر امام معصوم (ع) کی جانب سے لگ جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 حواشی:
[1]  طبری، محمد بن جریر، دلائل الامامۃ، ص۲۱۵قم، موسسۃ البعثۃ، الاولی، 1413ہ‍جری۔، طبرسی، امین الاسلام، اعلام الوری باعلام الہدی، ترجمہ عزیزاللہ عطاردی، ج‏۱، ص۴۹۸.تہران، کتابفروشی اسلامیہ، دوم، 1377 ہ‍جری شمسی۔
 نوبختی، حسن بن موسی، فرق الشیعہ، بیروت، دار الاضواء، 1404 ہ‍جری۔ طبری، دلائل الإمامہ، ؛ طبرسی، إعلام الورى،

[2]۔ شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، ترجمہ محمد باقر ساعدی، ص508۔ تہران، انتشارات اسلامیہ، 1380 ہ‍جری شمسی۔
[3] ۔ یعقوبی، ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ترجمہ محمدابراہیم آیتی، تہران، ج2، ص289۔۔ج2، ص289۔ انتشارات علمی و فرہنگی، 1378 ہ‍جری شمسی
[4] ۔ قالَ الاْمامُ أبوُ جَعْفَر محمّد الباقر (عَلَیْہ السلام): إذا أرَدْتَ أنْ تَعْلَمَ أنَّ فیكَ خَیْراً، فَانْظُرْ إلى قَلْبِكَ فَإنْ كانَ یُحِبُّ أهْلَ طاعَهِ اللّهِ وَیُبْغِضُ أهْلَ مَعْصِیَتِهِ فَفیكَ خَیْرٌ، وَاللّهُ یُحِبُّك، وَإذا كانَ یُبْغِضُ أهْلَ طاعَهِ اللّهِ وَ یُحِبّ أهْلَ مَعْصِیَتِهِ فَلَیْسَ فیكَ خَیْرٌ، وَاللّهُ یُبْغِضُكَ، وَالْمَرْءُ مَعَ مَنْ أحَبَّ. اصول كافى: ج 2، ص 103، ح 11، وسائل الشّیعه: ج 16، ص 183، ح 1.
[5]۔ قالَ الاْمامُ الباقر (عَلَیْه السلام): إنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحى إلى شُعَیْب النَّبی(صلى الله علیه وآله وسلم): إنّی مُعَذِّبٌ مِنْ قَوْمِكَ مِائَهَ ألْف، أرْبَعینَ ألْفاً مِنْ شِرارِهِمْ وَسِتّینَ ألْفاً من خِیارِهِمْ. فقال: یارَبِّ هؤُلاءِ الاْشْرار فَما بالُ الاْخْیار؟ فَأوحىَ اللهُ إلَیْهِ: إنَّهُمْ داهَنُوا أهْلَ الْمَعاصى وَ لَمْ یَغْضِبُوا لِغَضَبی.الجواهرالسنّیه: ص 28، بحارالأنوار: ج 12، ص 386، ح 12، به نقل از كافى.
[6]۔ قالَ الاْمامُ الباقر (عَلَیْه السلام): مَنْ ثَبَتَ عَلى وِلایَتِنا فِی غِیْبَهِ قائِمِنا، أعْطاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ اَجْرَ ألْفِ شَهید مِنْ شُهَداءِ بَدْر وَحُنَیْن.
إثبات الهداه: ج 3، ص 467.
خبر کا کوڈ : 809621
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب