2
0
Sunday 13 Oct 2019 15:16

عراقیوں کی بے چینی کیا ہے؟

عراقیوں کی بے چینی کیا ہے؟
تحریر: نادر بلوچ

الحمد اللہ بارہ اکتوبر کی صبح پانچ بجے سے شروع ہونے والا سفر سات گھنٹے کویت میں عارضی قیام (Transit stay) کے بعد دن سوا تین بجے نجف اشرف پہنچ کر تمام ہوا۔ نجف اشرف ائیرپورٹ پر جم غفیر لگا ہوا ہے، دنیا بھر سے لوگ اربعین حسینیؑ میں شرکت کیلئے پہنچ رہے ہیں۔ ائیرپورٹ سے حرم کی طرف نکلے تو راستے میں شدید ٹریفک جام ملا، اور ملتا بھی کیوں نہیں کہ عراق کے تمام شہروں سمیت دنیا بھر کے زائرین کا رخ اس وقت نجف اشرف کی جانب جو ہے۔ عراق کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی ایک سوال جو زہن میں گونجتا ہے وہ یہ کہ آیا عراق میں مظاہرے تو نہیں ہو رہے۔ خیر نجف پہنچ کر معلوم ہوا کہ عراق میں حالیہ مظاہروں کے بعد صورتحال بہت حد تک کنٹرول میں ہے، تاہم دارالحکومت بغداد میں اب بھی کہیں نہ کہیں تیس چالیس مظاہرین کا گروہ ٹائر جلا کر غائب ہو جاتا ہے، جس کے پیش نظر حکومت نے سوشل میڈیا کو بند رکھا ہوا ہے، جبکہ انٹرنیٹ کی سروس کو جزوی طور پر بحال کردیا گیا ہے، زیادہ تر لوگ وی پی این (پراکسی) کے ذریعہ فیس بک اور ٹوئٹر چلا رہے ہیں۔

نجف میں زیرتعلیم اپنے بلوچ بھائی محترم ساجد علی خان سے معلوم ہوا کہ عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت مخالف مظاہروں کو زیادہ تر سابق فوجی آمر صدام حسین کے لوگوں نے لیڈ کیا، ان مظاہروں میں وہ لوگ بھی شامل تھے، جو امریکہ کے حامی تصور کیے جاتے ہیں۔ ساجد خان کے مطابق ان مظاہروں کو کنٹرول کرنے میں مرجعیت نے بہت اہم کردار ادا کیا، آیت اللہ سیستانی نے واضح حکم دیا کہ ایسے وقت میں جب پوری دنیا  سے زائرین آپ کی طرف آ رہے ہیں تو آپ کو مظاہرے کرنے کے بجائے ان کی خدمت کرنی چاہیئے، حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے کا وقت مناسب نہیں ہے، یہ کام بعد میں بھی کیا جاسکتا ہے، لہذا آپ پرامن طریقہ سے گھروں کو جائیں اور زائرین کی خدمت کریں۔ آیت اللہ سیتانی اور دیگر مراجع عظام نے ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات سامنے لانے کا بھی حکم دیا اور اس بات پر زور دیا کہ حکومت عوام کے جائز مطالبات کو پورا کرے۔ جبکہ عراقی وزیراعظم نے بھی مظاہرین کے مطالبات کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد مظاہروں کا سلسلہ تھم گیا۔

کہا جاتا ہے کہ شروع میں احتجاج کا آغاز بغداد کی یونیورسٹی جابر بن حیان اور جامعہ المستنصریہ سے ہوا، جس میں طلبہ و طالبات نے اسناد جاری نہ ہونے کا شکوہ کیا، اسی طرح دیگر یونیورسٹییز کے طلبہ نے بھی بیروزگاری کے خلاف پرامن مظاہرے کیے، تاہم ان مظاہروں کی صورتحال تب تبدیل ہوئی، جب مظاہرین کے روپ میں کچھ تخریب کار بھی گھس آئے، جنہوں نے صورتحال کو پل بھر میں بدل دیا۔ ان تخریب کاروں نے جہاں سرکاری گاڑیوں کو آگ لگائی، وہیں نجی و شہری املاک کو بھی نقصان پہنچایا۔ صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے کرفیو نافذ کیا گیا تاہم صورتحال بدستور خراب سے خراب تر ہوتی گئی، یہاں تک کہ پرتشدد واقعات اور سیکیورٹی فورسز سے تصادم کے نتیجے میں تقریباً 15 کے قریب افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔

اب کچھ چیزیں وہ بیان کیے دیتا ہوں، جو خود دیکھی ہیں، مجھے عراق کے چوتھے وزٹ پر بھی ایسا لگا ہے کہ جیسے کچھ نہیں بدلا، سب چیزیں وہیں کی وہیں کھڑی ہیں۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا کہنا چاہ رہا ہوں، تو وہ یہ کہ پاکستانیوں اور عراقیوں میں صفائی ستھرائی کے حوالے سے قدریں خاصی ملتی جلتی ہیں، یعنی جتنا پاکستانیوں کو صفائی سے پیار اور عشق ہے اس سے شائد کچھ بڑھ کر عراقیوں کو بھی ہے، اگر عراق کے تاریخی شہر نجف اشرف اور کراچی کا موازنہ کریں تو صفائی ستھرائی میں انیس بیس کا فرق نظر آئے گا۔ جیسے شہری حکومت کراچی میں کام کر رہی ہے، ویسے ہی نجف کا حال ہے، گلیوں میں پڑے کچرے کے ڈھیر اور جا بجا پھیلی گندگی سے انسان کی سانس اکھڑنے لگتی ہے۔ اربعین حسینی ؑ کے موقع پر ایرانی بلدیاتی اداروں کے اہلکار خصوصی طور پر کربلا اور نجف میں حرم مطہر اور اس کے اطراف میں صفائی کا نظام سنبھالتے ہیں، لیکن شہری آبادی میں گلیوں اور گھر کے باہر آپ کو بدترین صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے عراقی اس ماحول میں رہنے کے عادی ہوگئے ہیں۔

مہمان نوازی، خانوادہ اہل بیتؑ سے محبت، زائرین کی خدمت گزاری اور انکساری میں عراقی دنیا میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے، اگر عراقی مذکورہ خوبیوں کے ساتھ صفائی کی عادت کو بھی اپنا شیوا بنا لیں تو یقین جانیں اس جیسی قوم دنیا میں شائد آپ کو نہ ملے۔ یہ وہ قوم ہے جو دو دہائیوں سے زائد صدام کی آمریت سے لڑی، ایران عراق جنگ کا عذاب جھیلا،  امریکہ کا منحوس سایا اور اس کے اثرات دیکھے، داعش کے انسانیت سوز واقعات دیکھے اور بھگتے، اور پھر اس کے خلاف قیام کیا اور اس فتنے کو شکست دی، عراقی قوم استقلال کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ تاہم حکومتی سطح پر بدانتظامی، کرپشن اور عوامی فلاحی کام نہ ہونے کی وجہ سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ سڑکوں کی تعمیر نہ ہونا اور حکومت کا چپ سادھ کر بیٹھے رہنا، اس تشویس کی بنیادی وجہ ہے۔ بیروزگاری اور مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے نمٹنے کیلئے عراقی حکومت کو آگے بڑھنا ہوگا اور نوجوانوں کے جذبات کو سمجھنا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 821802
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

طاہر یاسین طاہر
Pakistan
ماشاء اللہ۔۔ امید ہے آپ سفر عشق کو مسلسل قلم بند کرتے رہیں گے اور اپنے مشاہدات و تجزیات کے ساتھ ساتھ تازہ خبروں اور دنیا کے اہم کھلاڑی ملکوں کی نئی چالوں سے بھی باخبر رکھیں گے۔۔۔۔مجھے یہ بھی امید ہے کہ آپ عراق سے کسی نہ کسی طرح اپنے صحافتی تجربے کو کام میں لاتے ہوئے، پاکستانی زائرین کے لیے ویزوں میں تاخیر کا سبب جاننے کی کوشش بھی کریں گے۔۔۔۔ البتہ کراچی اور نجف شہر کا موازنہ جچتا نہیں۔۔۔جو زخم عراق جھیلتا آرہا ہے، کراچی نے اس کا عشر عشیر بھی نہیں دیکھا اور اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ کراچی سمیت پورا پاکستان اور دنیا کا ہر ایک ملک بھی داعش جیسی ظالم ترین دہشت گرد تنظیم کے ظلم سے محفوظ رہے۔۔۔۔۔ التماس دعا
Pakistan
طاہر بھائی کی رائے سے متفق ہوں. موازنہ نہیں بنتا مگر اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہوگا کہ بھائی نادر بلوچ اب ٹو دی پوائنٹ اور اہم نکات کی طرف کافی حد تک متوجہ ہیں. پی آئی اے بزنس کیوں نہیں کرتی. اور یہ تحریر. اسکا آئیڈیا ہی قابل تحسین ہے. کم ہی سہی مگر یہ معلومات ایک عام قاری کے لئے مفید ہیں. نیابتی زیارت کی درخواست ہے...عرفان علی
منتخب