?>?> یمن کے حالات پر پاکستانی میڈیا کی جانبدارانہ اور گمراہ کُن رپورٹنگ - اسلام ٹائمز
1
0
Thursday 4 Mar 2021 20:50

یمن کے حالات پر پاکستانی میڈیا کی جانبدارانہ اور گمراہ کُن رپورٹنگ

یمن کے حالات پر پاکستانی میڈیا کی جانبدارانہ اور گمراہ کُن رپورٹنگ
از قلم: ابو عمّار

مرحوم صدر علی عبداللہ صالح 1978ء سے لے کر 2011ء تک یعنی 33 سال بلاشرکت غیرے یمن کا مطلق العنان صدر رہا، یمن کی متحدہ اپوزیشن کئی سالوں سے عبداللہ صالح پر دباؤ ڈال رہی تھی کہ ملک میں انتخابی اصلاحات کی جائیں اور آزادانہ، منصفانہ صاف و شفاف انتخابات کروائے جائیں، جسے عبداللہ صالح حکومت نے مان لیا اور شاید 2009ء یا 2010ء تک اِس پر عملدرآمد کا وعدہ کیا، لیکن وہ وعدہ محض سیاسی چال تھی، دھوکہ تھا۔ جب یمن کی اپوزیشن نے یہ دیکھا کہ اُن کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے تو انہوں نے احتجاجات کی ابتداء کر دی اور لاکھوں افراد اس احتجاج میں شریک ہونے لگے، (عرب اسپرنگ یاد رہے، حسے امریکا کے ساتھ مل کر وہاں کی امریکی نواز پٹھو حکومتوں نے کچل دیا)، اس طرح یمن میں عبداللہ صالح مخالف تحریک زور پکڑتی گئی، لیکن اس سیاسی تحریک کی آواز کو سُننے کے بجائے اِس پر تشدد، فائرنگ اور گرفتاریاں شروع کر دیں گئیں، یہاں یر بات بتاتا چلوں کہ اِس متحدہ اپوزیشن میں سب سے بڑا کلیدی کردار "انصار اللہ" کا تھا، جن کی اکثریت حوثی قبائل پر مشتمل ہے، راقم لوگوں کی آگاہی کے لئے یہ بھی بتاتا چلے کہ یمن کا معاشرہ بنیادی طور پر ایک عرب قبائلی معاشرہ ہے۔

اب میں دوبارہ یمن میں پہلے کشیدگی اور پھر جنگ کی سیاسی وجوہات کی طرف آتا ہوں، لہذا جب سیاسی ابتری پھیلنے لگی اور عبداللہ صالح نے دیکھا کہ معاملات اب اِس کے کنٹرول میں نہیں رہے، تب وہ حکومت اپنے نائب صدر منصور ہادی کے سپرد کرکے 2011ء میں سعودی عرب فرار کرگیا۔ 2011ء میں جب منصور ہادی نے حکومت سنبھالی، تب یمنی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان دوبارہ معاہدہ طے پایا کہ منصور حکومت اپوزیشن کے ساتھ مل کر ملک کے لئے نیا متفقہ آئین مرتب کرے گی، متفقہ انتخابی اصلاحات لیکر آئے گی، دو سال کے اندر اندر نئے انتخابات کروائے گی، آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے نتیجے میں حکومت منتخب لوگوں کو منتقل کر دی جائے گی۔ اب یہ سب معاملہ یمن کا داخلی معاملہ تھا، اِس میں سعودی عرب کا کیا لینا دینا، ایسے ہی جیسے آج کل پاکستان میں اپوزیشن کی سیاسی تحریک جاری ہے، اس میں افغانستان یا بھارت کا کیا لینا دینا۔

منصور ہادی نے بھی جب دو سالوں کے بعد معاہدے پر عملدرآمد نہیں کیا تو 2013ء سے یمن کی متحدہ اپوزیشن نے سڑکوں پر لوگوں کا سمندر لے آئی اور چونکہ یہ قبائلی معاشرہ ہے تو انہوں نے صنعاء میں صدارتی محل کی طرف مارچ شروع کر دیا، جواب میں منصور ہادی حکومت نے کریک ڈاؤن شروع کر دیا، گرفتاریاں اور ہلاکتیں شروع ہوگئیں۔ اس طرح یہ سیاسی تحریک متشددانہ تحریک میں بدلتی چلی گئی اور چونکہ یہ قبائلی معاشرہ تھا، لہذا پھر یہ سیاسی تحریک جنگی انداز اختیار کرتی چلی گئی۔ متحدہ اپوزیشن جس میں سب سے بڑی پارٹی انصاراللہ ہے، اس نے 2014ء کے آخر میں صدارتی محل کا گھیراؤ کرلیا، تب منصور ہادی بھی سعودی عرب فرار ہوگیا۔ یہاں پر ایک انتہائی اہم اور مزے کی بات بتاتا چلوں کہ مفرور صدر علی عبداللہ صالح بھی 2015ء یا 2016ء میں دوبارہ یمن آگیا اور اپنی حامی فوج کے ساتھ منصور ہادی حکومت کے خلاف بر سرِپیکار ہوگیا۔

علی عبداللہ صالح سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن کو ایک بار پھر دو حصّوں میں تقسیم کرنے کے فارمولے پر عمل کرنا چاہتا تھا کہ اِس غرض سے بات چیت کے لئے 4 دسمبر 2017ء کو عدن سے سعودی عرب جا رہا تھا کہ راستے میں میزائل حملے میں مارا گیا۔ یمن کی تقسیم پر اُس دور کا بین الاقوامی میڈیا بھرا پڑا ہے۔ انصار اللہ سمیت یمن کی عوام اِس تقسیم کے خلاف ہیں، جبکہ امریکا اور سعودی عرب یہی چاہتے ہیں، لہذا بالخصوص پاکستانی عوام اور بالعموم دنیا بھر کے مسلم عوام اسے سمجھیں، یہ سادہ لڑائی نہیں، یہ کسی باغی گروہ کی لڑائی نہیں بلکہ یمن کی سالمیت کی لڑائی ہے۔ جب امریکا اور سعودی عرب نے یہ دیکھا کہ انصار اللہ کے ساتھ عوامی حمایت ہے اور وہ یمن میں اپنی حکومت بنالیں گے تو انہوں نے اِسے روکنے کے لئے سعودی عرب سے ہوائی حملے شروع کر دیئے۔ سعودی عرب نے حملے سے پہلے اعلان کیا تھا کہ ہم دو ہفتے میں یمن پر مکمل قابو پالیں گے، یہ محمد بِن سلمان کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔

آج چھٹا سال ہے، بجائے یمن پر قابو پانے کے اب سعودی عرب کو اپنے لالے پڑے ہوئے ہیں، ننگے پاؤں، دھوتی باندھے یمنی مجاہدین سعودی عرب اور اُس کی اتحادی فوج کی گلے کی ہڈی بن چکے ہیں۔ اِس جنگ میں ہزاروں بےگناہ بچّوں، عورتوں اور مردوں کا سعودی عرب نے قتل کیا، لیکن دنیا خاموش رہی، مسلم حکومتیں خاموش تماشائی رہیں، اب جا کر کہ جب سعودی عرب ناکامی کی طرف جانے لگا، تب اقوامِ متحدہ کو بھی ظُلم نظر آنے لگا، یمن میں تاریخ پھر دوہرائی جا رہی ہے کہ ایران عراق جنگ میں ابتداء جب تک عراق کا پلڑا بھاری تھا کہ جب عراق نے کئی ایرانی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا، جب مُسلم اُمّہ سمیت پوری دنیا خاموش تماشائی بنی رہی، لیکن جب ایران نے عراق کو نہ صرف یہ کہ اپنی سرزمین سے پیچھے دھکیلا بلکہ عراق کے شہر بصرہ کی جانب پیشقدمی کرنے لگا، تب پوری دنیا اُٹھ کھڑی ہوئی اور جنگ بند کرو، جنگ بند ہونی چاہیئے کا راگ الاپنے لگی، بالآخر امام خمینی (رہ) نے جنگ بندی کو یہ کہہ کر قبول کیا کہ "میں یہ زہر کا پیالہ پی رہا ہوں۔"

آج جب یمنی مجاہدین ننگے پاؤں ہوکر جنگ کو پہلے فضاء سے نکال کر سعودی سرحدوں تک اور پھر سعودی عرب کے اندر تک لے جانے میں کامیاب ہوگئے، تب اقوامِ متحدہ بھی آنکھ ملتے خواب سے بیدار ہوتی نظر آنے لگی ہے اور کچھ کچھ مُسلم اُمّہ بھی۔ آخر میں بتاتا چلوں کہ یمن کے تین حصّے پر انصار اللہ کا یعنی یمنی عوام کا قبضہ ہے، یمن کے دارالحکومت صنعاء سمیت تمام اہم شہروں پر، فوج سے لیکر تمام سرکاری ادارے پر انصار اللہ کا  کنٹرول ہے، جبکہ امریکی و سعودی نواز منصور ہادی عدن شہر میں موجود ہے اور منصور ہادی کو امریکا اور سعودی عرب کی مدد حاصل ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتاتا چلوں کہ یمن میں متحدہ عرب امارات کی فوج  تیسرے گروپ کے طور پر اپنے آپ کو منوانا چاہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کئی بار متحدہ عرب امارات کی فوج اور منصور ہادی کی فوج میں عدن کے قریب علاقے پر قبضے کی جنگ ہوئی ہے اور اِن کی سعودی فوج سے بھی کئی بار جھڑپیں ہوئیں ہیں۔

پاکستانی عوام کو اِس گمراہ کُن بیانیہ سے نکالنے کے لئے کہ انصار اللہ کوئی باغی گروہ ہے، بتاتا چلوں کہ خدا نا کرے اگر پاکستان کی سیاسی لڑائی اِس نہج پر پہنچ جائے کہ پورے پاکستان میں متحدہ اپوزیشن کا کنٹرول ہو، فوج بھی اور دیگر حکومتی ادارے بھی متحدہ اپوزیشن کے کنٹرول میں ہوں، لیکن خان اپنی ٹائیگر فورس کے ساتھ بھاگ کر KPK میں اپنا کنٹرول رکھے اور افغانستان یا بھارت خان کا ساتھ دیتے ہوئے اسلام آباد سمیت کراچی تک بمباری شروع کر دے، تو کیا پورے پاکستان کی عوام کو باغی کہا جائے گا یا خان کو باغی اور افغانستان یا بھارت کو جارح کہا جائے گا، یقیناً خان کو باغی اور افغانستان یا بھارت کو جارح کہا جائے گا، لہذا پاکستانی میڈیا کسی کی dictation پر جارح اور ظالم سعودی عرب کو بچانے کے لئے یمنی عوام کی قربانیوں اور جدوجہد کو باغی یا بغاوت کہنا بند کرے، وگرنہ روزِ حساب پاکستانی میڈیا کو  بھی مظلوموں کی مخالفت کرنے اور ظالم کی حمایت کرنے کا حساب دینا پڑے گا۔ مولا علی علیہ السلام نے فرمایا: "ہمیشہ ظالم کے مخالف رہنا مظلوم کے مدددگار۔"
خبر کا کوڈ : 919665
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Pakistan
بہت اعلیٰ تحریر
ہماری پیشکش