1
2
Monday 17 May 2021 14:50

قراردادی مسلمان اور جہادی مسلمان

قراردادی مسلمان اور جہادی مسلمان
تحریر: ثاقب اکبر

ویسے تو آج کے مضمون کو تفصیل کی ضرورت نہیں، سرخی میں جو اجمال آگیا ہے، وہی ساری داستان کہنے کو کافی ہے۔ بہرحال اس سے دل کو تشفی نہیں ہوتی، لہٰذا کچھ تو کہنا ہے۔ تو آئیے سابق اسرائیلی وزیراعظم گولڈا مئیر کی ایک بات سے آغاز کلام کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ ان کی زندگی کا سب سے برا اور خوشگوار دن وہ تھا، جب انھوں نے مسجد اقصیٰ کو آگ میں جلتے دیکھا۔ وجہ پوچھی گئی تو کہنے لگیں: ’’جس روز ہم نے مسجد اقصیٰ جلائی تھی، میں ساری رات اس خوف سے سو نہ سکی کہ کہیں عالم اسلام ہم پر حملہ آور نہ ہو جائے، اگر ایسا ہوا تو اسرائیل کا وجود مٹ جائے گا، ساری رات گزر گئی۔ جب اگلے روز سورج چڑھا اور میں نے مسلمانوں کے ردعمل کو دیکھا (جو نہ ہونے کے برابر تھا) تو میں مطمئن ہوگئی کہ اب اسرائیل عرب حدود میں محفوظ ہے۔‘‘

یہ بات ہمیں او آئی سی کی فلسطین پر اسرائیلی وحشیانہ حملوں کے بعد مسلم ممالک کے وزارئے خارجہ کے ورچوئل قرارداد دیکھ کر یاد آئی۔ ہم نے سوچا کہ اگر آج فلسطینی مجاہد قربانیاں دینے کے باوجود سراپا صبر و استقامت جوابی کارروائیاں کرتے دکھائی نہ دیتے تو یہ قرارداد بھی نیتن یاہو کے لیے حوصلہ افزائی کا ویسا ہی پیغام ثابت ہوتی، جیسا مسجد اقصیٰ کو پہلی بار آگ لگائے جانے کے بعد عالم اسلام کا ردعمل گولڈا مئیر کے لیے ثابت ہوا۔ یہ اجلاس سعودی وزیر خارجہ کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ وہی سعودی عرب جو چھ سال سے زیادہ عرصہ سے مظلوم یمنیوں پر بے پناہ بمباری کر رہا ہے اور اس سلسلے میں چالیس مسلمان ملکوں کی فوج بھی اس کی قیادت میں نبردآزما ہے۔ قرارداد کی صورت میں اسی عالم اسلام کا اسرائیل کے ظلم کے خلاف یہ پہلا حملہ ہے۔ یہ اجلاس گذشتہ روز 16 مئی 2021 کو منعقد ہوا۔

پاکستان کے ایک خبر رساں ادارے نے اس خبر کا آغاز ان الفاظ سے کیا ہے: ’’57 اسلامی ملکوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی نے نہ اقتصادی بائیکاٹ کی بات کی، نہ کسی اور ایکشن کا مطالبہ کیا بلکہ فلسطین پر اسرائیلی بمباری اور وحشیانہ حملوں کو ایک روایتی قرارداد منظور کرکے نمٹا دیا۔‘‘ اجلاس میں فلسطین کے حق میں اور اسرائیلی مظالم کے خلاف قرارداد منظور کی گئی، جس میں کہا گیا ہے کہ القدس الشریف اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت مسلم امہ کیلئے ریڈ لائن کی سی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ ریڈ لائن کب سے عبور کی جا چکی ہے اور مسجد اقصیٰ کو بار بار آگ لگانے کی کوشش کی جا چکی ہے۔ اس کے فرش کو رمضان شریف کے مہینے میں مسلمانوں کے خون سے رنگین کیا جا چکا ہے۔ سینکڑوں مسلمانوں کو زخمی کیا جا چکا ہے، لیکن ورچوئل مسلم امہ کو شاید اس کی خبر نہیں ہوئی۔

قرارداد میں اسرائیل کے ظالمانہ اور وحشیانہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ قابض اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ حملے بند کرے۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ہم اسرائیل کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ حالات کو مزید بگاڑنے سے باز رہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیل تمام تر خلاف ورزیاں فوری بند کرے، فلسطینی مقدس مقامات اور مسجد اقصیٰ کی بےحرمتی فوری بند کرے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطینی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی خلاف ورزی نہ کرے۔ او آئی سی کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حالات کی خرابی کا ذمہ دار مکمل طور پر اسرائیل کو ٹھہراتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی برادری اپنی ذمہ داریاں پوری کرے جبکہ سلامتی کونسل فوری طور پر اسرائیلی حملے بند کرائے۔

عالمی برادری کا حال سب کو معلوم ہے، امریکہ نے اس سلسلے میں منعقد ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس کئی مرتبہ ناکام بنائے ہیں۔ سلامتی کونسل نے جو امریکہ کے بہت زیادہ زیر اثر ہے، نہ پہلے فلسطین کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے، نہ اب اس سے کوئی توقع کی جاسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے بیانات بھی پھوکے فائر سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کے بیانات او آئی سی کی قرارداد سے تو بہتر ہیں لیکن وہ بھی بیانات سے زیادہ کوئی کردار ادا نہیں کریں گے۔ شاہ محمود قریشی اصولی طور پر سجادہ نشین ہیں اور اس سجادگی سے حاصل ہونے والی عقیدتوں اور جاگیروں کی بنیاد پر پاکستان میں سیاست بھی کرتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بتوں کے پجاری اور قبروں کے مجاور کسی مثبت تبدیلی کا منشاء اور محور نہیں بن سکتے۔

ہمارے وزیراعظم بھی جس طرح کے کشمیر کے سفیر ہیں، ایسے ہی سفیر وہ آسانی سے فلسطین کے بھی بن سکتے ہیں، لیکن اس وقت یہ عہدہ ترکی کے صدر رجب اردگان حاصل کرچکے ہیں، کیونکہ فلسطین کی حمایت میں ان کی لِپ سروس ہمارے وزیراعظم سے بہتر ہے، حالانکہ ایک دنیا جانتی ہے کہ ان کے اسرائیل سے سفارتی، تجارتی اور فوجی تعلقات برقرار ہیں۔ وہ کئی مرتبہ زبانی اسرائیل پر حملہ کرچکے ہیں اور اب بھی مسلسل اسرائیل کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ البتہ جس کنوئیں میں کتا گرا ہوا ہے، اسے پاک کرنے کے لیے وہ کتا نکالنے کو تیار نہیں، پانی کی بالٹیاں نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اسرائیل کا سفیر بھی انقرہ میں فی الحال برقرار ہے اور ناٹو(NATO) میں امریکی سرپرستی میں ترکی کی فعال رکنیت بھی بحال ہے۔ اسی ناٹو کے تحت ترکی امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں خدمات انجام دیتا چلا آیا ہے۔

ہمارے وزیراعظم عمران خان نے جب فلسطینی اتھارٹی کے بے ضرر اور بے اثر صدر محمود عباس کو فون کرکے فلسطین کے لیے اپنی حمایت کا یقین دلایا تو ہم نے لکھا تھا: ’’کیا ہمارے وزیراعظم کو نہیں پتہ کے اسرائیل کے خلاف موجودہ معرکے میں محمود عباس کا کوئی لینا دینا نہیں۔ آپ سنجیدہ ہیں تو اسماعیل ہانیہ سے رابطہ کریں۔‘‘ ہمارے بعض دوستوں کو یہ بات سمجھ نہیں آئی یا پسند نہیں آئی لیکن بیشتر احباب اس کی معنویت کو جان گئے اور جانتے ہیں۔ غزہ میں حماس اور اسلامی جہاد پورے ایمانی جذبے سے اسرائیل جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ قربانیاں پیش کرتے ہوئے فلسطینی اس وقت تمام فلسطینی علاقوں میں یک جان ہوچکے ہیں۔ مغربی کنارے اور بیت المقدس کے علاوہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں، جنھیں غلط طور پر اسرائیل کہا جاتا ہے، میں بھی فلسطین کے فرزند اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف متحرک ہیں۔

غزہ سے مسلسل راکٹ اور میزائل اسرائیل کے تل ابیب سمیت تمام شہروں پر داغے جا رہے ہیں۔ اسرائیل کی بیشتر آبادی پناہ گاہوں میں وقت گزار رہی ہے۔ خود اسرائیلی وزیراعظم بھی کئی راتیں پناہ گاہ میں گزار چکے ہیں۔ اسرائیل کے ہوائی اڈے خالی اور ویران پڑے ہیں، جہاں ہر وقت ہوائی جہازوں کا تانتا بندھا رہتا تھا، وہاں اِکا دکا پروازیں آ جا رہی ہیں۔ دنیا کے مختلف شہروں سے اسرائیل کی اہم ویب سائٹس ہیک کر لی گئی ہیں۔ ان میں اسرائیل بینکوں کی ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔ ہیکرز نے سائٹس کے پیجیز پر فلسطین کی حمایت میں اور اسرائیل کے خلاف نعرے درج کر دیئے ہیں۔ فلسطین کے اردگرد کے مسلمان ممالک میں لاکھوں عوام اپنے فلسطینی بھائیوں کی حمایت میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ یمن جیسے برباد حال ملک کے لوگ بھی فلسطینیوں کی حمایت میں باہر نکل آئے ہیں۔ پوری دنیا میں ظلم سے نفرت کرنے والے اور آزادی پسند لوگ اسرائیل کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔

پوری دنیا سے خوشحال اور پرامن مستقبل کے سہانے سپنے لے کر آنے والے یہودی جلد از جلد امریکہ، یورپ اور دیگر ملکوں میں جنھیں درست طور پر ان کا آبائی وطن کہا جاسکتا ہے، کو واپس جانے کے لیے بے چین ہیں۔ جونہی یہ معرکہ اپنے اختتام کو پہنچے گا، دنیا اسرائیل سے بھاگنے والوں کا تماشا دیکھے گی۔ اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہوگیا ہے۔ حزب اللہ، انصار اللہ اور الحشد الشعبی جو صہیونیوں اور سامراجیوں کے خلاف استقامتی محاذ کے بازوئے شمشیر زن ہیں، فلسطینیوں کو اپنی حمایت کا یقین دلا چکے ہیں اور کسی بھی وقت اسرائیل کے خلاف میدان میں اترنے کے لیے بے چین ہیں۔ ایک ایرانی کمانڈر نے کہا ہے کہ اگر یمن سے میزائل اسرائیل کی طرف داغے جائیں تو آپ کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔

اختصار کے ساتھ بیان کی گئی اس صورت حال سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل کے خلاف بظاہر دنیا اس وقت دو حصوں میں منقسم ہے، ایک جہادی اور دوسرا قراردادی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ظلم کے خلاف جہاد کی سعادت کسے نصیب ہوتی ہے۔ اسرائیل کا خاتمہ تو ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ منافقت کا چہرہ بھی آشکار ہو جائے گا اور یہ حقیقت دنیا کے سامنے ایک دفعہ پھر روشن ہو جائے گی:
جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ
اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا

آگیا حق اور مٹ گیا باطل
باطل کو تو مٹنا تھا
خبر کا کوڈ : 933017
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

سید نثار علی ترمذی
Pakistan
یہ قرارداد اسرائیل کی حمایت اور حوصلہ افزائی کے لیے ہے کہ مسلم ممالک اس کے علاؤہ کچھ نہیں کریں گے۔ مسلمان فلسطینی کا اللہ کے سوا کوئی اور سہارا نہیں۔
منتخب
ہماری پیشکش