0
Monday 31 Oct 2011 21:09

عمران خان اپنے موقف پر سنجیدگی سے غور کریں

عمران خان اپنے موقف پر سنجیدگی سے غور کریں
تحریر:تصور حسین شہزاد
لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کا جلسہ اس جماعت کی گزشتہ پندرہ برس کی کارکردگی کے تناظر میں کامیاب رہا۔ 1996ء میں قائم ہونے والی پاکستان تحریک انصاف نے اب تک ہونے والے انتخابات میں صرف ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے اور یہ نشست عمران خان نے 2002ء کے عام انتخابات میں میانوالی سے حاصل کی تھی۔ اس زمانے میں فوجی آمریت نے مسلم لیگ (نواز) اور پاکستان پیپلز پارٹی پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھا تھا۔ پارلیمانی قوت کے تناسب سے عمران خان اور ان کی سیاسی جماعت کو ذرائع ابلاغ بالخصوص نجی ٹیلی ویژن چینلز پر جس قدر پذیرائی ملی، پاکستان میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس کے باوجود تحریک انصاف کے بارے میں کبھی یہ تاثر قائم نہیں ہوا کہ یہ جماعت بڑے پیمانے پر انتخابی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں نے اس کے اسباب میں عمران خان کے طرز قیادت کے علاوہ ان کی جماعت کے سیاسی مؤقف کی مبینہ کمزوریوں کو بھی شمار کیا ہے، جبکہ حالیہ مہینوں میں یہ تاثر عام ہوا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں حکومتوں کی بدانتظامی اور بڑھتے ہوئے عوامی مسائل کے تناظر میں مقبول سیاسی قیادت سے عوامی بیگانگی کے باعث عمران خان کی عوامی پذیرائی میں اضافہ ہوا ہے۔ عوام مہنگائی بے روزگاری، بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، اقرباپروری جیسے مسائل سے پریشان اور شدید متاثر ہیں۔ 

مرکزی پنجاب کے کچھ حصوں میں عوامی حمایت کے مظاہروں کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے پاکستان کے سیاسی مرکز لاہور میں جلسے کا اعلان کیا تو اس سے سیاسی حلقوں میں کافی ہلچل پیدا ہوئی، اس جلسے سے صرف دو روز پہلے ریلی منعقد کر کے پنجاب کی حکمران جماعت مسلم لیگ (نواز) نے گویا تحریک انصاف کے جلسے کی اہمیت بڑھا دی۔ مسلم لیگ (نواز) کی ریلی کے بغیر تحریک انصاف کا جلسہ سیاسی خلا میں ایک ایسی صدا قرار پاتا جس کی کوئی بازگشت نہیں ہوتی۔ یہ امر واضح ہے کہ تحریک انصاف نے اس جلسے کے ذریعے اپنی انتظامی صلاحیت اور عوامی حمایت کا اچھا مظاہرہ کیا ہے، تاہم جلسے کے کلیدی مقرر اور جماعت کے سربراہ عمران خان کی تقریر میں کوئی ایسا نکتہ نہیں تھا جسے ان کے موعودہ انقلاب سے تعبیر کیا جا سکے۔ ان کا سیاسی مؤقف اپنے استقلال اور داخلی تضادات کے ساتھ عوام پر اچھی طرح واضح ہے اور ان کی تقریر اسی مؤقف کا اعادہ تھی۔
 
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان محکمہ مال کا ریکارڈ کمپیوٹر پر لا کر پٹواری کا منصب ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پٹواری ہماری معاشرتی روایت میں بدعنوانی اور رشوت کا استعارہ ہے، تاہم بدعنوانی پٹواری کی ذات پر موقوف نہیں بلکہ اجتماعی رویوں سے جنم لیتی ہے اور کمپیوٹر اجتماعی رویوں یا نااہلی کا انسداد نہیں کر سکتا۔ اگر ایسا ہوتا تو امسال پنجاب کے تعلیمی بورڈز کو اپنے نتائج منسوخ نہ کرنا پڑتے۔ عمران خان نے تھانہ کلچر میں تبدیلی کا نسخہ منتخب تھانیدار یا شیرف کی صورت میں دریافت کیا ہے۔ یہ امر قابل اطمینان ہے کہ اگرچہ عمران خان کو منتخب صدر، منتخب وزرائے اعلٰی اور منتخب ارکان اسمبلی کی دیانتداری پر اعتماد نہیں، تاہم وہ منتخب تھانیدار کی دیانتداری پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پولیس کو سیاسی اثرات سے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تھانیدار کو علاقے کے لوگ منتخب کریں۔
 
عمران خان حکومتی عہدیداروں سے ان کے اثاثے معلوم کرنا چاہتے ہیں اور آئندہ چند ماہ میں یہ اثاثے ظاہر نہ ہونے کی صورت میں سول نافرمانی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ عمران خان کو صرف منتخب سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں میں دلچسپی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہر انتخابی امیدوار کو اپنے اثاثوں کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ منتخب نمائندے الیکشن کمیشن کو اپنے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کی تفصیل بیان کرنے کے پابند ہیں۔ ان گوشواروں میں کسی بددیانتی کی صورت میں انتخابی عذر داری دائر کی جاسکتی ہے۔ ایسی صورت میں عمران خان کی سول نافرمانی غالباً مربوط سیاسی اور معاشی پروگرام نہ ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔ 

اس اہم خطاب میں عمران خان نے جمہوری نظام سے وابستگی کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔ 1600 ارب سے لے کر 1800 ارب روپے کے کل سالانہ محصولاتی حجم میں بیرونی قرضوں کی واپسی، دفاع اور انتظامی اخراجات نکال کر جو باقی بچتا ہے عمران خان اس کا حساب چاہتے ہیں۔ یہ ان کا شہری اور جمہوری حق ہے، لیکن ان اثاثوں کا کل حجم ملک کی مجموعی معیشت میں کیا تبدیلی لا سکتا ہے۔ کیا عمران خان نعروں کی مدد سے بجٹ کے خسارے، بیرونی سرمایہ کاری کے فقدان اور کمزور صنعتی شعبے اور تجارتی خسارے جیسے معاشی مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ 1999ء سے لے کر 2002ء کے انتخابات تک عمران خان کو جنرل پرویز مشرف کا قرب سلطانی حاصل تھا اور آمر کا احتسابی بیورو سرگرم تھا۔ عمران خان نے معیشت کو ترقی دینے کا یہ نسخہ تب کیوں استعمال نہیں کیا۔ پاکستان میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں جس کی مدد سے شہریوں کو اپنے جائز اثاثے ملک سے باہر لے جانے سے روکا جا سکے۔ درحقیقت کھلی منڈی کی معیشت سرمائے کے آزادانہ انتقال کا دوسرا نام ہے۔ 

دہشت گردی کے مسئلے پر عمران خان کے خیالات میں کوئی ندرت نہیں۔ وہ عسکریت پسندوں، پاکستان کی سرزمین پر قبضہ کرنے والوں، ہزاروں پاکستانیوں کو شہید کرنے والے اور لاکھوں پاکستانی شہریوں کو یرغمال بنانے والوں کے خلاف فوجی کارروائی کے مخالف ہیں۔ عمران خان کے حامی انہیں ملک کا وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں، ملک کے وزیراعظم کو آئین اور ملک کی سلامتی کے تحفظ کا حلف اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ عمران خان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور بطور وزیراعظم اپنے حلف میں کس طرح مطابقت پیدا کریں گے۔ غالباً اس کا جواب یہی ہے کہ وزیراعظم کے منصب پر پہنچنے کے لیے انتخابات میں کامیابی ضروری ہے۔ انتخابی عمل انقلاب کا نہیں، آئین کے تسلسل کا تقاضا کرتا ہے۔ شاید اسی لیے عمران خان چند ماہ بعد سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب آئندہ انتخابات میں ایک سال سے کم مدت باقی رہ جائے گی۔ جس طرح عمران خان نے قومی معیشت کے کلیاتی خدوخال کو نظر انداز کرکے ایک جزو پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، اسی طرح وہ پاکستان کے قومی سیاسی منظر میں صرف پنجاب کے ایک خاص حصے کو ہدف بنائے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں بہت سے مسیحا آئے اور پھر اپنے صدری نسخوں سمیت تاریخ کے اوراق میں گم ہو گئے۔ اگر عمران خان اس روایت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے سیاسی مؤقف پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہیے۔
خبر کا کوڈ : 110778
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش