0
Wednesday 15 Feb 2012 13:06

82 مرتبہ ویٹو پر خوشی اور -------

82 مرتبہ ویٹو پر خوشی اور -------
 تحریر: محمد علی نقوی
  
سعودی عرب کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے حال ہی میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں شام کے خلاف قرارداد کو روس اور چین کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے بعد اس ادارے پر سے ان کا اعتماد اٹھ گيا ہے۔ ان کا یہ بیان اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سوزان رائس کے اس بیان کی ترجمانی کرتا ہے کہ جس میں انہوں نے شام کے خلاف قرارداد کو روس اور چین کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے بعد اس اقدام کو مایوس کن قرار دیا تھا۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاید یہ بھول گئے ہیں کہ امریکہ نے گزشتہ تیس برسوں کے دوران فلسطین اور لبنان کے عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے وحشیانہ اقدامات کی مذمت میں پیش کی جانے والی قراردادوں کو بیاسی مرتبہ ویٹو کیا ہے۔ 

سعودی عرب کے ساتھ ساتھ اس وقت قطر بھی گزشتہ کئی عشروں کے دوران مظلوم فلسطینی قوم پر صیہونی حکومت کے جرائم و مظالم کو نظرانداز کر کے شام کے بعض علاقوں میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے اور حکومت کے مخالف دہشتگردوں کی کھلم کھلا مالی اور فوجی مدد کر کے بشار الاسد کی حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سعودی عرب اور قطر نے عرب لیگ کے رکن ممالک کو شام کے خلاف منصوبے کی منظوری کے لیے اربوں ڈالر کی رشوت دی ہے۔ اسی طرح یہ دونوں ملک ترکی اور لبنان کے راستے دہشتگردوں کو دہشتگردی کی کارروائياں انجام دینے کے لیے شام بھیج رہے ہیں اور یہ اقدام شام کے خلاف سعودی عرب اور قطر کی سازش کا ایک حصہ شمار کیا جاتا ہے۔ شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان جہاد مقدسی نے دمشق میں صحافیوں سے بات چیت میں شام کے داخلی امور میں سعودی عرب کی مداخلت کی مذمت کی ہے۔
 
امریکہ اور مغربی ممالک شام میں غیرملکی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی طرف سے پھیلائی گئی بدامنی پر تو تشویش کا اظہار کر رہے ہیں لیکن وہ سعودی عرب کے مشرقی علاقوں اور بحرین میں سعودی فورسز کی جانب سے عوام پر وحشیانہ تشدد اور ان کے قتل عام پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس وقت سعودی عرب اور قطر علاقے میں استعمار کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور علاقے میں فرقہ وارانہ جنگ کی آگ کے شعلے بھڑکانا چاہتے ہیں، تاکہ مشرق وسطٰی اور خلیج فارس کے علاقے میں صیہونی حکومت کے نفوذ کا راستہ ہموار کر سکیں۔
 
صیہونی لابی سے وابستہ ان دونوں ملکوں کا مقصد، شام میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ، تہران دمشق اور بیروت کے باہمی تعلقات کو ختم کرنا اور آخرکار لبنان اور فلسطین کی اسلامی مزاحمت کو ختم کرنا ہے کہ جو امریکہ اور صیہونی حکومت کا اولین مقصد ہے۔ لیکن سعودی عرب سمیت اسلامی ملکوں میں شروع ہونے والی اسلامی بیداری کی لہر سعودی عرب کے ان خوابوں کو بہا کر لے جائے گی۔ 

آل سعود کی شاہی اور آمرانہ حکومت کی اپنے عوام کے خلاف پرتشدد پالیسیوں اور بحرین اور شام کے داخلی امور میں مداخلت سے علاقے میں آل سعود کی حکومت کے خلاف عوامی نفرت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بیشتر مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ اگر علاقے میں کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو خشک و تر سب ایک ساتھ جل کر راکھ ہو جائيں گے اور پورا علاقہ امریکا، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی خطرناک جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آجائے گا اور پھر جنگ کا یہ شعلہ صرف شام کی حدود تک محدود نہيں رہے گا جیسا کہ کہا جا رہا ہے کہ جنگ کا دائرہ پورے علاقے تک پھیل جائے گا اور علاقے کا کوئي بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا، اس لئے بہتر یہی ہو گا کہ عرب ممالک خاص طور پر وہ حکومتيں جو امریکا اور اسرائیل کی مکمل تابع فرمان ہيں، ہوش کے ناخن لیں اور اس سے زیادہ امریکا اور اسرائیل کو آگ لگانے کا موقع نہ دیں۔
 
سیاسی سطح پر سعودی عرب کا گھناونا اور منافقانہ کردار سب کے سامنے ہے۔ کیا سعودی حکام اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ کس بنا پر شام کی مخالفت کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے پاس اس کا کوئي جواب نہيں ہے کیونکہ وہ اپنے مغربی آقاوں کی خوشنودی اور اپنے تخت و تاج کی بقا کے علاوہ اور کچھ نہیں سوچتے۔ علاقے کے معروضی حالات میں سعودی عرب کے کردار پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ ریاض کے حکام کو نہ اسلام سے دلچسپی ہے نہ مسلمانوں سے اور نہ شام کے شہریوں سے۔ فلسطین کی صورتحال سب سے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اس کے ساتھ عربوں نے سعودی عرب کی سربراہی میں خیانت کی ہے۔
 
بحرین، مصر، یمن، پاکستان، افغانستان اور عراق نیز دیگر ملکوں میں سعودی عرب کی مداخلت سے ہی عوام اپنے حقوق حاصل کرنے میں ناکام ہیں اور سعودی عرب کو اپنے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ سعودی حکام لاکھ چاہیں وہ اپنا منافقانہ چہرا چھپا نہیں سکتے، بلکہ اب ان کا یہ مکروہ چہرہ سب کے سامنے آ گيا ہے اور دنیا سمجھ چکی ہے کہ سعودی حکام اگرچہ قبلہ اسلام پر قابض ہیں، لیکن ان کا قبلہ واشنگٹن ہے اور وہ اپنے مغربی آقاوں کی مرضی کے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھاتے۔
 
بحرین اور یمن اس بات کے شاہد ہیں کہ سعودی عرب اور امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں میں ایک طرح سے مماثلت پائی جاتی ہے۔ شام میں سعودی مداخلت کے پیچھے بھی اسرائیل کا دفاع اور فلسطینی مزاحمت کی مخالفت ہے، فلسطین اور لبنان کے عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے وحشیانہ اقدامات کی مذمت میں پیش کی جانے والی قراردادوں کو بیاسی مرتبہ ویٹو کئے جانے پر تو سلامتی کونسل پر سے ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچی، لیکن شام کے خلاف قرارداد کو روس اور چین کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے بعد اس ادارے پر ان کا اعتماد اٹھ گيا ہے۔
خبر کا کوڈ : 137927
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش