5
0
Monday 19 May 2014 18:49

دماغ کی لسّی

دماغ کی لسّی
تحریر: سید قمر رضوی

محاورے زبان کا حسن ہوتے ہیں جو گفتگو کے معانی و مطالب کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ چند روز قبل حسن نثار صاحب کے کالم میں محاورے کے بارے میں ایسی ہی خوبصورت بات پڑھنے کو ملی کہ "محاورے دراصل انسانی تجربات کا کشید شدہ عطر ہوتے ہیں۔" کشید شدہ عطر کا درجہ پانے والے محاوروں کا تو کیا ہی کہنا، لیکن  چونکہ آج کل ہماری پیاری زبان اردوئے معلٰی، اردوئے محلہ ہوچکی ہے تو  اسکے مستعمل محاورے بھی محلوں میں ہی ایجاد ہوتے ہیں۔ مثلاً واٹ لگا دینا، پکا دینا، کلاس لینا، لمبی لمبی چھوڑنا، ہٹا دینا، ایلفی ہوجانا، دماغ کی بتی اور دماغ کی لسی وغیرہ وغیرہ۔ ان محاوروں کے مطالب قارئین بہت بہتر جانتے ہوں گے کیونکہ یہ انہیں میں سے کسی کے ایجاد کردہ ہیں اور ان کا استعمال آج کل زبان زدِ عام ہے۔ اپنی گفتگو کے لئے مجھے جس محاورے کے سہارے کی ضرورت ہے، اسکی معمولی سی وضاحت ضرور کروں گا۔ "دماغ کی لسی بنا دینا۔" جی جناب! لسی دراصل دہی کو بری طرح پھینٹنے کے نتیجے میں بنتی ہے اور یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ  لسی  لذیذ ہونے کے ساتھ ساتھ  انتہائی فرحت بخش بھی ہوتی ہے، جو دماغ کی بتی گل کرکے پینے والے کو خمار آلود وادیوں میں چھوڑ آتی ہے۔

لیکن جب معاملہ ہو دماغ کی لسی کا ۔۔۔۔ تو معاملہ گڑبڑ ہے جناب۔ یہ محاورہ عموماً وہاں استعمال کیا جاتا ہے جب کسی بات کی اتنی تکرار کی جائے کہ سننے والے کے دماغ  کے لئے یہ باتیں بلینڈر کے بلیڈ یا بلونے کا کام کریں، جسکے نتیجے میں بیچارہ مخاطب جھلا کر رہ جائے اور نیم پاگل بن جائے۔ دہی کی لسی دماغ کو سکون، جبکہ دماغ کی لسی انسان کا سکون چھین کر اسکو پاگل کر دیتی ہے، جسکے نتیجے میں وہ دہی کے کونڈے کو بھی اٹھا کر پھینک سکتا ہے۔ ہمارے یہاں دماغ کی لسی بنانے کا کام کسی زمانے میں جہاں جھکی قسم کے لوگ کیا کرتے تھے، آجکل میڈیا کر رہا ہے۔

میڈیا کی لسی گری نے اپنے سارے شکاروں کو نیم پاگل کرکے چھوڑ دیا ہے۔ روزانہ یا چند دنوں کے وقفے سے کوئی نہ کوئی شوشہ ٹی وی چینلز پر "بریکنگ نیوز" کے ہیجان انگیز عنوان کے تحت چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسکے بعد اسکو اتنا پیٹا جاتا ہے، اتنا پیٹا جاتا ہے کہ وہی بے مقصد شوشہ زبان زدِ عام ہو کر گھر گھر، گلی محلے، بازاروں، دکانوں، بسوں، ویگنوں اور تھڑوں پر موضوعِ بحث رہتا ہے۔ ان شوشوں پر بحث کرنے کے لئے نہ ہی آپکو کسی تعلیمی ادارے کی سند کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی سے جان پہچان کی۔ بس ذرا بات کا تار چھیڑیئے اور راہ چلتے اجنبی کو بھی اپنا جگری دوست بنا لیجئے۔ کچھ دن یہ شوشہ آپکو مصروف کئے رکھے گا، جسکی بنا پر آپ اپنے مقاصد، کاموں، ذمہ داریوں اور حقوق تک کو بھول کر دست بردار رہیں گے۔ جیسے ہی اس شوشے کی اہمیت کم ہونا شروع ہوگی، ایک نئے شوشے کے بلیڈ آپکے دماغ کو پھینٹنے کے لئے تیز ہوچکے ہوں گے۔ مزے کی بات یہ کہ نقصان سراسر آپکا اور فائدہ شوشہ گروں کا۔۔۔ وہ بھی آپکے خرچے پر! اپنی بات کے ذیل میں، میں باقی باتوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے براہِ راست تازہ ترین لسی پر آتا ہوں اور وہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیجئے! میرے بیان کرنے سے پہلے ہی آپ درک کر گئے۔۔۔۔ 

جناب! واقعہ سب کے علم میں ہے اور کیوں نہ ہو کہ ہم میڈیا کے چنگل میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ بے خبر رہنا بھی چاہیں تو نہیں رہ سکتے۔ الیکٹرونک نہ سہی، سوشل میڈیا اور میسجنگ سروس ہی  آپکو نہ چاہتے ہوئے بھی باخبر رکھنے کے لئے کافی ہے۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی جیو ٹی وی کی کہ جو آجکل زیرِ عتاب آیا ہوا ہے۔ چند روز قبل ایک حساس ادارے پر ہونے والی تنقید کو دوسرے میڈیا گروپس نے کیش کرنے کی نیت سے پورے ملک کے عوام کی ملّی رگ کو چھیڑ کر بیدار کر دیا اور جیو کو ملک دشمن، غدار اور نجانے کیا کیا کہہ کر لوگوں کو ایک بے مقصد اور لاحاصل بحث میں الجھا کر رکھ دیا۔ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ جیو نے یہ حرکت اپنا منجن بیچنے کے لئے خود ہی کی تھی۔ اب تازہ ترین واقعہ ایک من پسند منقبت کی معاشرتی طور پر کچھ ناپسند افراد پر عکاسی کے ذیل میں برپا کیا گیا ہے، جسکے نتیجے میں ایک ہنگامہ پربا ہوگیا ہے اور اسکے بعد راگ بھی الاپا جا رہا ہے کہ ہنگامہ ہے کیوں برپا۔۔۔۔ پر لطف بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں برپا ھنگاموں کے کردار بھی وہی ہیں جو کچھ عرصہ قبل اس وقت کے ھنگاموں میں ملوث تھے۔ یعنی ہمارے قومی وقار کا ضامن ہمارا خفیہ ادارہ اور اس ادارے کی اپنے برہنہ جسم پر تشہیر کرکے ہمارے قومی وقار کا جنازہ نکالنے والی اخلاقیات سے عاری خاتون۔

یہ ہنگامے کیوں برپا ہیں؟ محض اس لئے کہ میں اور آپ اپنے مقاصد و اہداف سے غافل ہو کر میڈیا گروپس اور مالکان کی جیبیں بھرنے کا کام کرتے رہیں۔ کبھی مایا خان پارکوں میں  چھاپے مار رہی ہوتی تھی تو اسکے فرشتوں کو بھی نہیں پتہ تھا کہ دوسرے چینل والے اسکے  تعاقب میں خفیہ کیمرے لگائے بیٹھے  ہیں۔ کامران شاہد کے ہاتھوں میں لٹھ تھما کر  اتنا رلایا  گیا کہ شاید پنجاب پولیس بھی دورانِ تفتیش کسی کو اتنا نہ رلائے۔ پھر ۔۔۔۔ کسی  اور چینل نے اٹھا کر اسی نوکری پر رکھ لیا، جس سے پچھلے چینل نے نکالا تھا۔ کبھی عامر لیاقت کو کوئی دوسرا چینل اٹھا لے تو اپنا ہی چینل اسکی ایسی واٹ لگاتا ہے کہ دیکھنے والے غالب فلم کا لطف بھول بیٹھتے ہیں۔ معاملات طے ہوجائیں تو رحمان رمضان سے امان رمضان تک کا سفر ایک ہی جست میں طے ہوجاتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ایسی مثالوں کی ایک لمبی قطار ہے جن پر بحث چھیڑی جائے تو کئی قسطوں کی دستاویزی فلم بن سکتی ہے اور ایک ہم ہیں کہ اپنا وقت اور اپنے خون پسینے کی کمائی اس بے مقصد اور بے فائدہ منجن کو خریدنے میں صرف کر دیتے ہیں۔  جبکہ پے درپے آنے جانے والی حکومتوں کی نااہلیوں کے باعث ہمارا خون نچوڑ لیا گیا ہے اور بنیادی انسانی ضروریات کو ہم سے سلب کرکے ہمارا پسینہ نالیوں میں بہا دیا گیا ہے۔

میرا اپنے تمام دوستوں سے یہ سوال ہے کہ جب تھوک کے حساب اور کھمبیوں کی مانند اگنے والے یہ ٹی وی چینل نہیں تھے تو کیا ہم زندہ نہیں تھے؟ اوئیرنیس کے نام پر ہمیں فضولیات میں الجھا کر کس قسم کی آگہی دی جا رہی ہے اور ہماری کونسی اخلاقی تربیت کی جا رہی ہے؟ کیا چینلوں سے پچھلے دور میں ہم اوئیر نہیں تھے؟ ایمانداری سے بتایئے کہ کیا ہمارا مسئلہ وینا ملک اور حامد میر ہیں یا امن و امان اور بجلی؟ کیا  ہمارا مسئلہ مبشر لقمان اور نجم سیٹھی ہیں یا گرتی ہوئی تعلیمی شرح؟ کیا ہمیں جہالت سے نجات نہیں چاہیئے؟ کیا ہمیں اقوامِ عالم میں عزت و وقار کا مقام نہیں ملنا چاہئے؟ کیا ہماری زندگیاں اور عزتیں محفوظ ہونی چاہئیں یا نہیں؟ کیا ہمیں برا لگے گا کہ ہمارے بچے اچھے تعلیمی اداروں میں بلا خوف و خطر علم حاصل کریں اور اپنا مستقبل روشن کریں؟
 
کیا اکیسویں صدی کی ایٹمی قوت کے گھروں میں گیس اور پانی کی نابودی ہمارے لئے لمحہء فکریہ نہیں ہونا چاہیئے؟ کیا ہم سب کے پاس باعزت روزگار نہیں ہونا چاہیئے؟ مومنوں کے ملک میں نصف ایمان کوڑے کے ڈھیروں اور گندی نالیوں میں بہہ رہا ہے اور ہمیں پرواہ نہیں؟ اور سب سے بڑھ کر کعبے سے زیادہ محترم انسانی خون کی ہولی سرِعام کھیلی جاتی ہے اور ہمارے اربابِ اختیار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی اور میڈیا کی پوائنٹ اسکورنگ جاری رہتی ہے۔ سب سے پہلے خبر نشر کرنے کا اعزاز ایک چینل کے پاس ہوتا ہے تو واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹج حاصل کرنے کا شرف دوسرے چینل کے پاس، لیکن اسکے بعد کیا؟ کیا یہ بریکنگ نیوز اور سی سی ٹی وی فوٹج آج تک کسی مظلوم کو انصاف دلوا سکی یا کسی بے گناہ شہید کے خانوادے کے زخموں پر مرہم رکھ سکی۔؟ اور ایک ہم ہیں۔۔۔۔ یار شائستہ واحدی کے ساتھ تو بہت بری ہوئی۔۔۔۔ دیکھا!!!! حامد میر کی تو واٹ لگ گئی۔

معذرت کے ساتھ۔۔۔۔ بری آپ کے ساتھ  ہو رہی ہے اور واٹ بھی آپ ہی کی لگ رہی ہے۔ کل کلاں کو حامد میر کی جانب سے بھی معذرت نامہ آجائیگا اور شائستہ واحدی کی جانب سے بھی۔ چاروں طرف لگی ہوئی آگ بجھ جائے گی اور الف لیلوی داستان کی طرح سارا محل ہنسی خوشی رہنے لگے گا، لیکن یہ ہنسی خوشی میرے اور آپکے مقدر میں نہیں۔ ہمیں اگلی بریکنگ نیوز کی آگ میں جلنا ہے۔ ۔۔۔ لیکن  اس مایوسی کا دروازہ آپ خود بھی بند کرسکتے ہیں۔ اس نار و گلزار کے پلِ صراط سے فرار ممکن ہے۔ اپنے دماغوں کی  بتیوں کو روشن کر لیجئے اور انکی لسی بننے سے بچایئے۔ ذرا سوچئے!!!

ہمارے دماغ ان تفکرات سے آزاد ہوں گے تو ہماری آنکھوں کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیاں نظر آئیں گی۔ میڈیا گروپس کا آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کیچڑ اچھال کر پوائنٹ اسکورنگ کا یہ کھیل بہت پرانا ہے۔   توہینِ رسالت کا معاملہ ہو یا توہینِ اہلبیت کا۔ جن کا خدا انکا نفس ہو، انکے لئے نہ ہی رسالت کی کوئی اہمیت اور نہ ہی اہلبیت اطہار کی۔ یہ ان نازک معاملات میں بھی اپنی روٹی کے دانے تلاش کریں گے۔ یہ ہاتھیوں کی لڑائی ہے۔ بالکل ایسی ہی جیسی ان چینلز کے اسٹوڈیوز میں سیاستدانوں کی ہوتی ہے۔ اسکرین پر دست و گریباں اور بریک کے درمیان شیر و شکر۔ ہاتھیوں کی لڑائی بھی عجیب لڑائی ہے۔ جب سر ٹکرا ٹکرا کر تھک جاتے ہیں تو سونڈ سے سونڈ ملا کر ایسا معانقہ کرتے ہیں کہ جیسے انہیں عید کا چاند نظر آگیا ہو۔ لیکن اس لڑائی کے دوران جو چیونٹیاں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، انکا پرسانِ حال کون؟ ذرا غور کریں تو ہماری حیثیت انہی کچلی جانے والی چیونٹیوں کی سی ہے۔ ہم بھی مہنگائی، دہشت گردی اور عدمِ مساوات جیسے ہاتھیوں کے پیروں تلے کچلے ہوئے ہیں۔ جیو کا بائیکاٹ کیجئے، دیگر تمام وقت برباد کرنے والے چینلوں کے ساتھ ۔۔۔ حالات، واقعات اور خبروں کی جانکاری کے لئے ان چینلوں کا محتاج بننا ضروری نہیں۔ میری طرح ایک دفعہ ایسا کرکے دیکھیں۔ یقین مانئے آپ اپنی زندگیوں میں تازہ لسی جیسی فرحت محسوس کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 384177
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Excellent column.. just learnt a lot _from below mentioned para graph. stay blessed.

معذرت کے ساتھ۔۔۔۔ بری آپ کے ساتھ ہو رہی ہے اور واٹ بھی آپ ہی کی لگ رہی ہے۔ کل کلاں کو حامد میر کی جانب سے بھی معذرت نامہ آجائیگا اور شائستہ واحدی کی جانب سے بھی۔ چاروں طرف لگی ہوئی آگ بجھ جائے گی اور الف لیلوی داستان کی طرح سارا محل ہنسی خوشی رہنے لگے گا، لیکن یہ ہنسی خوشی میرے اور آپکے مقدر میں نہیں۔ ہمیں اگلی بریکنگ نیوز کی آگ میں جلنا ہے۔ ۔۔۔ لیکن اس مایوسی کا دروازہ آپ خود بھی بند کرسکتے ہیں۔ اس نار و گلزار کے پلِ صراط سے فرار ممکن ہے۔ اپنے دماغوں کی بتیوں کو روشن کر لیجئے اور انکی لسی بننے سے بچایئے۔ ذرا سوچئے!!!
قمر بھائی
زبردست
United Kingdom
Fantastic Qamar bhai
قمر بھائی کیا کہنے، سلامت رہیں۔
نذر حافی
Pakistan
totally agree. well written