1
0
Wednesday 28 May 2014 21:07

ملاقات سے توقعات یا قیادت سے توقع؟

ملاقات سے توقعات یا قیادت سے توقع؟
تحریر: طاہر یاسین طاہر

وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف نے نئے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کی تقریبِ حلف وفاداری میں گذشتہ روز دہلی میں شرکت کی۔ وزیراعظم کے اس دورے کو مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے سیاسی مفادات کے پہلو سے ہی دیکھا۔ بیشتر سیاسی جماعتوں نے اس دورے کی حمایت کی، مگر مذہبی اور کالعدم تنظیموں کے نمائندوں نے اس دورے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا، بلکہ اسے ناکام دورہ کہا۔ پتا نہیں کیوں ایسی تنظیمیں جو اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کی وجہ سے کالعدم قرار دی جا چکی ہیں وہ بھی پاکستان کی داخلہ و خارجہ پالیسی پر اپنی رائے دینا اپنا ریاستی حق تصور کرتی ہیں۔ خواہشیں پالنے پر پابندی ہی کیا ہے؟ مگر زمینی حقائق ہماری خواہشات سے گاہے متصادم ہوتی ہیں۔ یار لوگ اس دورے سے یہ توقع کر بیٹھے کہ میاں محمد نواز شریف جاتے ہی کشمیر پر سے تسلط ختم کرا دیں گے۔ بھارت کو یہ بھی باور کرا دیں گے کہ وہ جسے کراس بارڈر دہشت گردی کہتا ہے اس کا پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں، یہی نہیں بلکہ ہمارے وزیرِاعظم صاحب نریندر مودی کو یہ بھی بتا دیں گے کہ ممبئی حملوں کے پیچھے ’’را‘‘ کا ہی ہاتھ تھا۔ یہ بھی توقع تھی کہ میاں صاحب نریندر مودی سے کہیں گے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزم پاکستان کے حوالے کیے جائیں، اور یہ کہ بلوچستان اور کراچی میں بھارت جس بدامنی کی پشت پناہی کر رہا ہے اس سے فوراً باز آ جائے۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔خارجہ امور کیا ہوتے ہیں اور انہیں دیکھتے اور پرکھتے ہوئے کون کون سے زاویوں سے معاملات کو دیکھنا اور سمجھتا پڑتا ہے؟ میری بلا سے۔ اللہ ’’خارجی‘‘ کے معاملات سے بچائے رکھے، کہ یہ بلا جس کے سر چڑھ دوڑی اس کی ہلاکت یقینی ہے۔ البتہ پاکستانی اور بھارتی میڈیا نے اس دورے کے دوہرے مزے لیے۔ بی جے پی کے ماضی، اس سیاسی جماعت کے رحجان، اس کی تخلیق اور نریندر مودی کے وزارت اعلیٰ کے دور کو خوب خوب یاد کیا گیا۔ بےشک بھارتی گجرات کے مسلم کش فسادات کا ذمہ نریندر مودی کا ہی ہے۔

خارجہ امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم کا پاکستانی وزیراعظم کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ ایسے ہی تھا جیسے سارک کے رکن ممالک کے دیگر سربراہانِ مملکت کو تھا، لیکن کیونکہ پاک بھارت تعلقات کی خاص جہتیں بھی ہیں، دونوں ممالک تین جنگیں بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑ چکے ہیں، اور ہمہ وقت ایک تناؤ کی سی کیفیت میں رہتے ہیں، چنانچہ اس دعوت نامے کو پاک بھارت تعلقات کے نئے دور کا نقطہء آغاز بھی تصور کیا جا سکتا ہے۔ میاں محمد نواز شریف صاحب کی جب مودی سرکار سے ملاقات ہوئی تو یہ ملاقات طے شدہ 35منٹ سے پھیلتی ہوئی 50منٹ تک چلی گئی، میڈیا پر دونوں وزرائے اعظم کے مصافحہ کرنے کے انداز کو بھی گرمجوشی سے تعبیر کیا گیا۔ البتہ امیدوں کا دم وہاں ٹوٹا جہاں بھارتی میڈیا کے مطابق مودی نے 5نکاتی ایجنڈے پر بات کی اور ان میں ممبئی حملوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستان ہم منصب میاں محمد نواز شریف کے سامنے 5نکات اٹھائے، نریندر مودی نے کہا کہ پاکستان دہشت گرد حملوں کو روکے، ممبئی ٹرائل کو جلد منطقی انجام تک پہنچائے، حکومتِ پاکستان ممبئی حملوں کے منصوبہ سازوں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائے، ممبئی حملوں میں ملوث ملزموں کے درمیان ہونے والی گفتگو کے وائس سیمپلز مہیا کئے جائیں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خطے کی سطح پر تعاون کرے جبکہ میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ مودی سے ملاقات کے دوران مذاکرات کی بحالی پر اتفاق ہوا، پاک بھارت ترقی اور اقتصادی بحالی کا مشترکہ ایجنڈا ہے، اور ہم تمام ایشوز پر بات چیت کے لیے تیار ہیں، اعلانِ لاہور سے تعلقات کی بحالی کا ارادہ ہے۔ پاکستانی وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ تصادم نہیں تعاون کی راہ اختیار کی جائے۔ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، غربت اور ناخواندگی کے خاتمے پر توجہ دینا ہوگی، ناکام ہوئے تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔ میاں نواز شریف نے نئی دہلی میں گذشتہ سہ پہر میڈیا سے مختصر بات چیت کے دوران یہ باتیں کیں۔ یہ بھی مژدہ سنایا گیا کہ دونوں ممالک کے سیکرٹری خارجہ جلد ملاقات کریں گے اور مذاکرات کی بحالی کے نئے دور کا آغاز کیا جائے گا۔اگرچہ بھارتی وزیر اعظم نے پاکستانی وزیر اعظم کو یہ بھی کہا کہ میاں صاحب،آپ ’’مین آف پیس‘‘ ہیں، ہمیں امن کے لیے ایک دوسرے کے خدشات کو دور کرنا ہو گا۔

امن کے قیام اور خدشات کے خاتمے کے حوالے سے پاک بھارت وزرائے اعظم ایک واضح مؤقف رکھتے ہیں لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاک بھارت تعلقات میں اہم ترین رکاوٹ مسئلہء کشمیر ہی ہے۔ مگر جب نئی دہلی میں میاں محمد نواز شریف جو کہ پاکستانی وزیرِاعظم بھی ہیں، جب وہ میڈیا کو ایک بیان پڑھ کر سنا رہے تھے تو اس میں کشمیر کا ذکر تک نہیں تھا، مبادا کہ انہوں نے صحافیوں کے چبھتے ہوئے سوالات سے بچنے کے لیے بیان پڑھ کر چلے جانے میں ہی عافیت جانی، ورنہ اگر سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوتا تو لازمی طور پر کشمیر، ممبئی حملوں اور دہشت گردی کے حوالے سے سوالات ہونے تھے۔ پاکستانی وزیراعظم کے اس طرز عمل یا طرز ’’حکمت‘‘ سے کئی ایک سوالات اور کشمیر کے ایشو کے حوالے سے خدشات نے جنم ضرور لیا ہے۔ یقیناً کشمیر کے حوالے سے پاکستانی وزیراعظم کو بات کرنی چاہیئے تھی۔ ہمیں اس مار میں کلام نہیں کہ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، مگر ہم اس بات کو بھی فراموش نہیں کر سکتے کہ جس اصولی مؤقف کی سیاست کرتے کرتے ہمارے سیاست دان پاکستانی معاشرے کو زخم زخم کر چکے ہیں، اور جس اصولی مؤقف کے سہارے کئی ایک انتہا پسند گروہ اپنی بربریت کا کھیل پاکستانی سماج میں کھیل رہے ہیں، اس اصولی مؤقف یعنی کشمیر اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت پر بات کرنے کا وقت آیا تو پاکستانی وزیراعظم اس بات کا ذکر تک کرنا ’’بھول‘‘ گئے۔

جو باتیں بھارت نے اٹھائی ہیں میاں صاحب کی نئی دہلی میں میڈیا کو دی گئی اسٹیٹمنٹ میں ان باتوں کی طرف اشارہ تک نہیں کیا گیا۔ ممبئی حملوں کے جو الزامات لگے ان کا کوئی جواب نہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ پاکستانی وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے کیا سوچ کر مودی سرکار کی طرف سے اٹھائے گئے پانچ نکات کا مؤثر جواب نہیں دیا لیکن ایک بات جو سامنے کی ہے، وہ یہ کہ دنیا اس بات کی قائل ہو چکی ہے کہ جہاں کہیں کوئی پٹاخہ بھی پھٹتا ہے اس کا سرا پاکستان میں ہے۔ دنیا میں پائے جانے والے اس تاثر کو چکنی چپڑی باتوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا نہ ہی امن امن کی خواہش پالنے سے امن ممکن ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہوگا، دہشت گردوں اور ان کے حمایت کرنے والوں سے ریاستی طاقت کے ساتھ نمٹنا ہوگا، اور بالخصوص کالعدم دہشت گرد تنظیمیوں کے حوالے سے یہ پابندی بھی عائد کرنا ہوگی کہ وہ کسی نئے نام کے ساتھ ،سیاسی، سماجی، مذہبی ’’کارروائیوں‘‘ کا آغاز نہ کر سکیں۔ بلاشبہ بھارت نے جن پانچ نکات پر بات کی ان کی جیسی بھی ’’تفسیر‘‘ کی جائے مطلب دہشت گردی ہی نکلتا ہے۔ دہلی میں ایک دن میں کتنی عورتوں کی آبروریزی ہوتی ہے؟ اسے ہم جتنا بھی ایشو بنا لیں، دنیا ہم سے ضرور پوچھے گی کہ وہ اسامہ جو ایبٹ آباد میں مارا گیا، اس کی فکری اولاد کی وحشتوں سے دنیا کو بچانے کے لیے پاکستان کس حد تک اپنا کردار ادا کر رہا ہے؟
خبر کا کوڈ : 387244
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

بہت خوبصورت لکھا ہے اور نقطہ نظر میں وزن ہے
منتخب