0
Thursday 19 Jul 2012 11:38

مسلم ممالک کشمیر کی آزادی کیلئے عملاً کچھ نہیں کر رہے، سید علی گیلانی

مسلم ممالک کشمیر کی آزادی کیلئے عملاً کچھ نہیں کر رہے، سید علی گیلانی

جموں و کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی برصغیر کے منجھے ہوئے سیاست دان، شعلہ بیاں مقرر اور روح دین پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت ہیں، 1953ء میں آپ جماعت اسلامی کے رکن بنے، آپ نے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر میں مختلف مناصب جیسے امیر ضلع، ایڈیٹر اذان، قیم جماعت اور قائمقام امیر جماعت کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دیں، 7 جولائی 2004ء کو آپ تحریک حریت جموں و کشمیر کو منصئہ شہود پر لائے اور تب سے آپ تحریک حریت کے چیئرمین اور ساتھ ہی ساتھ جموں و کشمیر کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین بھی ہیں، آپ مقبوضہ کشمیر کی حالیہ تحریک آزادی میں پیش پیش رہے ہیں اور اس سلسلے میں آپ اپنی زندگی کی ایک ربع صدی یا اس سے بھی زیادہ وقت پسِ دیوار زندان گزار چکے ہیں، مجاہدین آزادی میں سید علی گیلانی اس اعتبار سے ایک منفرد شخص ہیں کہ موصوف نے تحریک آزادی کی ہنگامہ خیز زندگی اور اذیت ناک جدوجہد میں بھی قلم و قرطاس سے رشتہ برقرار رکھا، آپ تیس سے زائد کتابوں کے مصنف بھی ہیں، جن میں روداد چمن، مقتل سے واپسی، اقبال روح دین کا شناسا اول، دوئم، ولر کنارے اور پیام آخریں وغیرہ قابل ذکر ہیں، 84 سالہ حیات میں آپ نے مجموعی طور 15 سال سے زائد بھارتی سامراج کے خلاف آواز بلند کرنے کی پاداش میں بھارت کی مختلف جیلوں میں گذارے، لیکن پھر بھی آپ اپنے بنیادی اور اصولی موقف پر چٹان کی طرح ڈٹے رہے، اسلام ٹائمز نے مقبوضہ کشمیر کے حالات جاننے کے لئے بزرگ رہنماء سید علی شاہ گیلانی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کے پیش خدمت ہے۔

اسلام ٹائمز: تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے عالم اسلام کا رجحان اور ردعمل کیا رہا ہے، کن اسلامی ممالک نے اس رواں تحریک کا ساتھ دیا ہے۔؟
سید علی گیلانی: اس کے بارے میں بہت کم کہا جاسکتا ہے، او آئی سی میں جو 57 مسلم ممالک ہیں وہ اپنی نشستوں میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں بیان دیتے ہیں، قرار دادیں پاس کرتے ہیں اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم او آئی سی میں جموں و کشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتے ہیں، لیکن عملاً جو کچھ انہیں کرنا چاہئے تھا نہیں کر رہے، بلکہ کوئی بھی مسلم ملک نہیں کر رہا ہے، ہم نے ان سے کہا تھا کہ محض قراردادیں پاس کرنے سے کچھ بھی نہیں ہوگا، یہ تو صرف کاغذ کے گھوڑے دوڑانے کے مترادف ہے، اس سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے، یہاں برسوں سے بے پناہ مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، 1947ء سے لے کر اس وقت تک 6 لاکھ جوانوں کی قربانی دی جاچکی ہے، عزتیں لٹ چکی ہیں، عصمتیں تار تار ہوچکی ہیں، ہماری زمینیں چھینی جا چکی ہیں، ہمارے آبی وسائل پر جبراً کنٹرول ہو چکا ہے اور ہماری بیٹیوں کی عصمت دن دھاڑے تار کی جا رہی ہے۔

ہمارے نوجوانوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ سارے مظالم یہاں کے مسلمان سہہ رہے ہیں، 1947ء سے لیکر خاص طور ڈوگرا شاہی دور میں بھی وہ مظالم ہی تھے اور 1947ء کے بعد سے بھارت سامراج کے غلام بنائے جا چکے ہیں اور ہم پر بے پناہ مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، لیکن افسوس ہے کہ 57 مسلم ممالک کوئی حق ادا نہیں کر رہے، وہ اگر چاہتے کہ ہم بھارت کے قبضے سے اور بھارتی مظالم سے نجات حاصل کریں تو وہ بھارت کے ساتھ تعلقات ترک کرسکتے تھے، بھارت کے ساتھ تجارت بند کرسکتے تھے، بھارت پر سیاسی دبائو ڈال سکتے تھے، اقوام متحدہ میں وہ قراردادیں پاس کراسکتے تھے، اقوام متحدہ میں بھارت کے مظالم کی داستانیں سنا کر عالمی سطح پر ایک رائے عامہ ہموار کرسکتے تھے، لیکن کوئی ایسی حمایت نہیں ہو رہی۔ یعنی عالم اسلام کی جانب سے کشمیر کی مظلوم تحریک کو کوئی حمایت، کوئی تعاون اور کوئی سپورٹ نہیں مل پا رہی۔ 

اسلام ٹائمز: ان 64 سالوں میں بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کے لئے کون کون سے حربے آزمائے ہیں۔؟
سید علی گیلانی: سب سے پہلے کہنا چاہوں گا کہ یہاں ساڑھے سات لاکھ بھارتی فوجی ہیں، ان کی موجودگی میں انسانی اور اخلاقی قدروں کا کوئی احترام نہیں ہو رہا اور وہ یہاں کی اکثریت کو بھارت کے خلاف سمجھ کر اور بعض کو پاکستان کا ایجنٹ ہونے کے الزام میں اور بعض کو اسلام کی حمایت میں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ نوجوانوں کی زندگیاں چھینی جا رہی ہیں، عزتیں و عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں اور ہمارے وسائل Resources جیسے جنگلات، آبی وسائل، زمین و جائیداد کا بہت بھاری حصہ بھارت کے قبضے میں ہے، 2009ء میں ہم نے تفصیلات قوم کے سامنے رکھی تھیں، اور تب تک 30 لاکھ کنال اراضی بھارت کے فوجی قبضے میں تھی، اور ساتھ ہی ساتھ بھارتی قابض فورسز اپنے مورچے اور کیمپ جنگلوں کے پاس لگاتی ہیں اور وہاں لکڑی کے کارخانے نصب کرواتی ہیں۔ اس طرح ہمارے جنگلات کا صفایا کروایا جاتا ہے اور اس نایاب لکڑی سے بھارتی اعلٰی افسران کے لئے فرنیچر وغیرہ تیار کیا جاتا ہے۔ 

اور اگر کلچرل اگریشن اور تہذیبی وار کی بات کریں تو ہماری یتیم بیٹیوں کا استحصال کیا جاتا ہے، بھارتی حکام یہ کہتے ہیں کہ جو یہاں مجاہدین تھے ان کی غلط کارروائیوں اور بدکاریوں کے نتیجے میں یہ لڑکیاں یتیم ہوگئی ہیں، جو بالکل جھوٹا اور بے بنیاد الزام ہے۔ پھر ان کے یتیم ہونے کا استحصال کر کے انہیں مختلف ہاسٹلز میں رکھا جاتا ہے، وہاں ان ہاسٹلز میں بھارتی افواج کا آنا جانا رہتا ہے، وہاں رقص و ناچ کی محفلیں جمائی جاتی ہیں، ان یتیم لڑکیوں کو فوج کے ساتھ بھارت کے مختلف شہروں کا دورہ کروایا جاتا ہے، جہاں ان بیٹیوں سے شیطانی امور انجام دلوائے جاتے ہیں، اور اس طرح سے ہماری بیٹیوں کی عزت و آبرو پائمال کی جاتی ہے، یہ بہت شرمناک اور گری ہوئی چالیں ہیں۔ اور اگر اس کے خلاف ہمارے نوجوان اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے، انہیں گرفتار کیا جاتا ہے، ان کے اہل خانہ کو اذیت دی جاتی ہے اور انہیں گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کی بندوق کے بے جا و غلط استعمال کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔
 
اسلام ٹائمز: بھارتی مظالم اور بے دریغ قتل عام پر عوام اور تحریک آزادی کی قیادت کا ردعمل کیا رہا ہے۔؟
سید علی گیلانی: یہاں کی قیادت کا دائرہ کار تنگ کر دیا گیا ہے، یہاں کی قیادت کو بھارت کے مظالم کا اولین نشانہ بنایا جا رہا ہے، قائدین کو جیلوں میں سالہا سال رکھا جاتا ہے، میری ہی مثال لیجئے، 2008ء سے اب تک مجھے صرف اس سال 6 اپریل کو ایک بار نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی، میرے گھر کو قید خانے میں بدل دیا گیا ہے، مجھے نہ تو اپنے رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ ہی مجھے دینی اجتماعات میں شرکت کرنے دیتے ہیں، میرے گھر کے باہر ہمیشہ پولیس کی گاڑی رہتی ہے اور وہ مجھے گھر سے باہر کہیں بھی جانے کی اجازت نہیں دیتے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ تحریک آزادی کشمیر کی قیادت عوام کے پاس جاتی، انہیں جدوجہد آزادی کی ترغیب دیتی اور عوام کو حالات سے آگاہ کرتی، انہیں بھارتی سازشوں کی جانکاری دیتی، لیکن اس پولیس اسٹیٹ میں تو ان باتوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
 
یعنی مقبوضہ کشمیر کو مکمل فوجی تسلط کا شکار بنا دیا گیا ہے، اس وجہ سے یہاں کے عوام اور قیادت ان مظالم پر کوئی ردعمل نہیں دکھا پا رہی، جب بھی کوئی نوجوان پُرامن احتجاج کا رخ کرتا ہے تو اس پر گولیاں چلائی جاتی ہیں، اور پُرامن احتجاج کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ اگر یہاں ہم دینی و خالص مذہبی جلسہ کرنا چاہیں تو اس کی بھی اجازت نہیں دی جاتی، مقبوضہ کشمیر میں کالے قوانین نافذ ہیں، پولیس اور بھارتی فوج کا راج ہے، جمہوریت کے نام پر قتل عام جاری ہے، عدالت کے احکامات کو بھی ٹھکرایا جا رہا ہے اور عدلیہ بھی بھارتی فوج کے کنٹرول میں میں ہے، جو ڈکٹیشن اور ہدایات فوج، پولیس اور بھارتی انتظامیہ کی طرف سے ملتی ہیں عدلیہ اسی پر عمل کرنے میں اپنی عافیت سمجھتی ہے، عدالت کا اپنا کوئی آزاد قانون نہیں ہے کہ عدالت بدون زور و زبردستی قانون کی بالادستی نافذ کرنے میں کوئی رول ادا کرتی۔

اسلام ٹائمز: مقبوضہ کشمیر میں آئے دن قرآن کریم، زیارات شریف اور دیگر مقدسات دین کی توہین کے پیچھے بھارت کے کیا عزائم پنہاں ہیں۔؟
سید علی گیلانی: میں نے آپ سے کہا کہ بھارت کے عزائم کشمیر کے بارے میں بہت ہی ناپاک اور شرمناک ہیں، وہ نہ صرف ہمارے اوپر قابض رہنا چاہتا ہے بلکہ وہ یہاں کے مسلمانوں کی اکثریت کے کلچر، انکے تمدن، انکی تہذیب، انکے دین و ایمان کو اور انکے مقدسات کو بالکل مسخ کرنا چاہتا ہے، ہماری تہذیب اور ہمارے کلچر کو تو وہ مکمل بدلنا چاہتا ہے، بھارت کی کوشش یہ ہے کہ قرآن و سنت یہاں نافذ نہیں ہونا چاہئے، اور ان پر عمل نہیں ہونا چاہئے، جگ موہن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’یہاں کشمیری اسلام ہونا چاہئے، ایسا اسلام جو بھارت کی پسند کا اسلام ہو، جہاں ہندو رسمیں بھی ہوں،‘‘ اور جہاں صرف نام کے مسلمان ہوں، وہ یہاں اپنے من پسند اسلام کو ترجیح دیتے ہیں، تصوف کے نام پر، کلچر کے نام پر وہ اسلام ناب کو ختم کرنا چاہتے ہیں، قرآن اور سنت کی تعلیمات کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’’یہاں یہ چیزیں چلنے والی نہیں ہیں‘‘ اور جہاں قرآن کی درسگاہیں اور دینی مدارس دیکھتے ہیں وہاں پر وہ بے انتہاء مظالم ڈھانے شروع کرتے ہیں، اساتذہ کو گرفتار کیا جاتا ہے اور انہیں قرآن کی تعلیمات دینے سے روکا جاتا ہے۔
 
دینی شعور کو اجاگر کرنے پر لاٹھیاں برسائی جاتی ہیں، میں آپ سے دست بستہ گذارش کرتا ہوں کہ آپ اس کا سنگین نوٹس لیں اور آپ کو چاہئے کہ یہاں کی صورت حال عالم اسلام تک پہنچائیں کہ ان کے بھائی کس طرح بھارتی بربریت کا شکار ہو رہے ہیں۔ تاکہ وہ اسلامی ممالک بھارت سے اپنے تمام تر تعلقات منقطع کر لیں، بھارت ایک طرف یہاں فوج کے سہارے قابض رہنا چاہتا ہے تو دوسری طرف وہ یہاں روایتی و اسلامی تہذیب کو مٹانے کے لئے کوشاں ہے، یہاں مسلمانوں کی شناخت مٹانے کے لئے اور یہاں اسلام کے خدوخال ختم کرنے کے لئے وہ بے بہا سرمایہ خرچ کر رہا ہے، پانی کی طرح وہ یہاں پیسہ بہا رہا ہے، تاکہ یہاں کی تہذیب پر بھارتی تہذیب کا رنگ چڑھ جائے، ناچ گانے کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں، شراب و منشیات کو فروغ دیا جاتا ہے، مخلوط تعلیم اور عریانیت کو ترجیح دی جاتی ہے، بھارت اپنے من پسند اسلام کو رائج کرنے کے لئے یہاں کے لوگوں کو خریدتا ہے، ان کی مالی معاونت کرتا ہے، روایتی اسلام اور بھارت نواز اسلام کی ترویج کیلئے وہ آئے دن جلسوں کا اہتمام کرتا ہے، تاکہ حقیقی اسلام سے لوگوں کو روکا جاسکے۔

قرآن کریم اور دیگر مقدسات کی توہین بھی یہاں عام سی بات ہے، جہاں کلچرل اگریشن ہو، بے تہذہب فوج کا تسلط ہو، جہاں لاکھوں کی تعداد میں پسماندہ تمدن و فکر بھارتی باشندے مزدوری کے نام پر رہتے ہوں، ایسے میں ہمارے مقدسات کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے، ایسے ہی لوگ یہاں مسجدوں میں جا کر، امام بارگاہوں میں جا کر اور دیگر مقامات پر جا کر وہاں توہین مقدسات کرتے ہیں، یہ ایسی صورتحال ہے کہ جس پر ہمارا اختیار ہرگز نہیں ہے، اتنی بڑی تعداد میں بھارتی افواج کی موجودگی میں ان چیزوں کی نہ تو نشاندہی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی ہم کوئی ردعمل دکھا سکتے ہیں، ہم بے بس ہوچکے ہیں۔ فوج کی نگرانی میں، فوج کے آشرواد سے اور فوج کے تعاون سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے، یہ سب کچھ بھارت فوجی تسلط کے زیر سایہ انجام دیا جا رہا ہے، ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں ہے، ہمیں گھروں میں یا پھر جیل خانوں میں مقید رکھا جاتا ہے، عوام تک پہنچنے کا موقع ہرگز نہیں دیا جاتا، ایسے حالات میں آپ کس طرح یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ہمارے مقدسات محفوظ رہیں گے۔ 

اسلام ٹائمز: پاکستان کے حالات سے چونکہ آپ بخوبی واقف ہیں، آپ نیٹو سپلائی کی بحالی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
سید علی گیلانی: پاکستان کے حالات تو پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی خراب ہوتے گئے کیونکہ انہوں نے جس نام پر پاکستان حاصل کیا تھا اس نام کی وہاں کے حکمرانوں نے ہرگز لاج نہیں رکھی، نعرہ یہ دیا جا رہا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ لیکن لا الہ الا اللہ کے مشن کو بھی سب سے زیادہ پاکستان کے حکمرانوں نے ہی نقصان پہنچایا، وہاں جتنے بھی حکمران آئے، وہ سب کے سب برطانیہ، امریکہ و اسرائیل کی ذہنیت رکھنے والے تھے، وہ مکمل مغرب زدہ تھے، استعمار اور استکبار کی تعلیمات پر عمل کرتے تھے اور انہوں نے پاکستان کو صرف اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کیا، اور جو پاکستان کو وجود میں لانے کا مقصد تھا وہ ابھی بھی نامکمل ہے۔ ان حکمرانوں کی غفلت اور خود پسندی کے نتیجے میں پاکستان کا مشرقی حصہ بنگلہ دیش الگ کر دیا گیا، اس میں پاکستان کے حکمرانوں کا بھی عمل دخل ہے اور بھارتی جارحیت کا بھی، آج جو پاکستان میں ہو رہا ہے وہاں کے حکمرانوں کو اسلام کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ وہاں اسلامی اقتدار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
 
وہاں صوبائیت ابھر رہی ہے، وہاں شہنشاہیت ابھر رہی ہے، قومیت اور خاندانی راج قائم ہو رہا ہے، معاشی اونچ نیچ کا غلبہ ہے، خاندانوں کی بالادستی ہے اور وہاں جو جاگیردارانہ نظام ہے اس کے نتیجہ میں معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے، اور جو حمعیت و اخوت وہاں ہونی چاہئے تھی اس کا کوئی نام و نشان نہیں ہے، وہاں شیعہ و سنی فسادات ہوتے ہیں، وہاں طالبان کے نام پر جو تنظیمیں موجود ہیں وہ اسلام کے نام پر قتل و غارت کو روا رکھے ہوئے ہیں، طالبان کا وجود ہی پاکستان کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے، نائن الیون کے بعد جو اس وقت کے صدر نے امریکہ کے آگے سرنڈر کیا اور امریکہ کو افغانستان میں جانے کا راستہ مہیا کیا، اپنے سینے اور شانے پیش کئے، زمین پیش کی، وسائل مہیا کئے اور امریکہ کو افغانستان پہنچایا، اور پھر اپنے باشعور افراد کو گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کر دیا۔ وہ افراد امریکہ کے جیل خانوں میں عمر قید کی سزا پا رہے ہیں، اور گوناگوں مشکلات سے دوچار ہیں، وہ سب آپ سے پوشیدہ نہیں ہوگا۔ 

نائن الیون کے بعد افغانستان ہاتھوں سے چلا گیا، پاکستان ہاتھوں سے گیا، سینٹرل ایشیاء پر بھی امریکہ حملہ کرے گا، پاکستان میں امریکہ اپنے قدم مضبوطی سے جما چکا ہے، اور اب اس کا وہاں سے نکلنا دشوار ہوگیا ہے، حال ہی میں پاکستان میں امریکی سفیر نے بغیر کسی خوف کے اعلان کیا کہ ہم افغانستان میں رہیں گے اور وہاں سے نہیں جائیں گے، یہ نہیں کہ 2014ء میں جائیں گے، بلکہ ہم رہیں گے، اور یہ رہنے کا مطلب کیا ہے کہ پاکستان کے سر پر بھی تلوار لٹکتی رہے اور پھر سنٹرل ایشیاء تک بھی امریکہ کی رسائی رہے، اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ افغانستان میں بھارت کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ بھارت کو وہاں سپیس دی جا رہی ہے اور وہ وہاں پر تعمیری کام کر رہا ہے، وہ اس لئے کہ بھارت وہاں اپنے قدم مضبوط کرے، تاکہ پاکستان کے سر پر دُھری تلوار لٹکی رہے، امریکہ بھی حاکم بنا رہے اور بھارت بھی سر آنکھوں پر، افغانستان میں آج پاکستان کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں اور بھارت کی تعریف ہو رہی ہے۔

اسلام ٹائمز: پاکستان پر امریکی ڈرون حملوں کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
سید علی گیلانی: حال ہی میں یہاں کے اخبار میں آیا تھا کہ پاورفُل سوری (powerful sorry) یعنی ہلیری کلنٹن کے معافی مانگنے میں بھی پاکستانی حکمرانوں کے لئے دھمکی تھی، اور وہ اس معافی کے بعد بہت سہمے سہمے معلوم ہوتے تھے، ہیلری کلنٹن کی معافی میں بھی بہت کچھ پنہاں تھا، جس کو پاکستان کے حکمران بخوبی سمجھ گئے تھے، کتنا عجیب ہے کہ معافی کے بعد بھی امریکہ پے در پے حملے کر رہا ہے، بغیر کسی رکاوٹ کے، بغیر کسی خوف کے ڈرون حملے ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے، امریکہ اعلان کر رہا ہے کہ ہم ڈرون حملے جاری رکھیں گے، یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ پاکستانی حکمرانوں میں وہ ہمت وہ غیرت نہ رہی، شجاعت نہ رہی، وہ جذبہ ایمانی نہ رہا، جو ان میں ہونا چاہئے تھا۔ لاالہ الا اللہ والے پاکستان کے لئے لا الہ الا اللہ والے حکمران بھی چاہئں، تبھی دشمنان اسلام کو دنداں شکن جواب مل سکتا ہے۔

خبر کا کوڈ : 178769
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب