0
Wednesday 19 Feb 2014 11:03
کالعدم سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور دیگر تنظیمیں قتل عام کر رہی ہیں

مسئلہ بلوچستان کا حل حکومت نہیں بلکہ ملکی سکیورٹی اداروں کے اختیار میں ہے، زہرہ یوسف

مسئلہ بلوچستان کا حل حکومت نہیں بلکہ ملکی سکیورٹی اداروں کے اختیار میں ہے، زہرہ یوسف

زہرہ یوسف 17 اپریل 2011ء کو ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی چئیرپرسن منتخب ہوئیں۔ آپ گذشتہ 9 سالوں سے اس ادارے سے وابستہ ہیں۔ اس سے قبل آپ صحافت کے شعبے سے بھی منسلک رہی ہیں۔ آپ گذشتہ کچھ عرصے سے بلوچستان میں مسخ شدہ لاشوں، جبری گمشدگیوں اور کوئٹہ میں‌ شیعہ ہزارہ قوم پر دہشتگردی کیخلاف آواز اُٹھا رہی ہیں۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے ان سے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ سیمینار کے بعد بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں‌ اور مذہبی انتہا پسند تنظیموں کی دہشتگردی کے حوالے سے ایک مختصر انٹرویو کیا۔ جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو آپ کس طرح سے دیکھتی ہیں۔؟
زہرہ یوسف: انسانی حقوق کسی بھی شہری کا بنیادی حق ہوتا ہے۔ جبکہ حکومت اور ریاست نے اس بنیادی حق کو بھی شہریوں سے چھین لیا ہے۔ پاکستان میں‌ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ایک تسلسل جاری ہے، جسکی وجہ سے مختلف ممالک میں پاکستانی ریاست کیخلاف شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: بلوچستان کے علاقے خضدار میں اجتماعی قبروں کی دریافتگی کے حوالے سے آپ کیا کہیں گی۔؟
زہرہ یوسف: اجتماعی قبروں کی دریافتگی کے حوالے سے اب تک ہماری فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا آنا باقی ہے، لیکن ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہاں سے 15 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ مگر مسئلہ تعداد کا نہیں ہے، لاشیں 15 ہو یا 100 سے زائد یہ بلوچستان کے حوالے سے انتہائی تشویشناک امر ہے۔ صوبے میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ 2006ء سے شروع ہوا ہے، جو اب تک جاری ہے۔ اب بھی ہزاروں لوگوں کا کوئی پتہ نہیں۔ جب اس قسم کی خبریں لاپتہ افراد کے لواحقین تک پہنچتی ہے، تو انکے لئے تو قیامت گزرتی ہوگی۔

اسلام ٹائمز: کیا بلوچستان کے مسئلے کو موجودہ حکومت حل کر پائے گی یا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔؟
زہرہ یوسف: میں سمجھتی ہوں کہ اس کا فیصلہ فوج کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک سول حکومت فوج کو کنٹرول نہیں کرتی، تب تک یہ مسئلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔ حکومت کو آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کو کہنا چاہیئے کہ وہ اس حوالے سے پوری طرح ذمہ دار ہیں اور انہیں اس معاملے کو نمٹانا ہوگا۔ اس مسئلے میں اور بھی عوامل کار فرما ہوسکتے ہیں، لیکن یہ ملکی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو تحفظ دیں۔ لاپتہ افراد کے معاملے کو حل کرنے کیلئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ذاتی طور پر نوٹس لیا اور کوئٹہ سمیت اسلام آباد میں کیس کی سماعت کی، لیکن اسکے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے۔

اسلام ٹائمز: کیا موجودہ حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ وہ فوج سمیت دیگر اداروں پر کنٹرول جما سکے۔؟
زہرہ یوسف: مجھے تو صورتحال میں‌ بہتری کی امید نہیں ہے۔ ایچ آر سی نے بھی چھ مرتبہ بلوچستان میں مشن کیلئے اپنی ٹیم بھیجی ہے۔ مشن کے دوران وزیراعلٰی، گورنر اور آئی جی ایف سی سمیت صوبے کے دیگر اعلٰی عہدیداران سے ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں۔ مشن کے بعد ہم نے اپنی تشویش کا اظہار صدر و وزیراعظم کیساتھ بھی کیا تھا، لیکن اس سے کچھ بھی نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ بھی اس سلسلے میں کچھ نہیں کرسکی۔ لہذا اس وقت تو مجھے اس حوالے سے کچھ زیادہ امید نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: تو کیا یہ سمجھا جائے کہ حکومت اور ادارے خود اس معاملے کو حل نہیں کرنا‌ چاہتے کیونکہ صوبے میں جاری شورش سے انہی اداروں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔؟
زیرہ یوسف: جب مشرقی پاکستان میں‌ عوام نے اپنے حقوق کیلئے آواز اُٹھائی تو اس وقت بھی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں باغی قرار دے دیا اور انہوں نے مکمل طور پر اِسے بھی ایک سکیورٹی مسئلے کے طور پر دیکھا، حالانکہ وہ بالکل بھی سکیورٹی ایشو نہیں تھا۔ یہاں لوگ اپنی غلطیوں‌ سے کبھی بھی سبق نہیں سیکھتے۔ جہاں‌ تک بلوچستان کا تعلق ہے تو فوج اسے بھی بنگلہ دیش کی طرح دیکھ رہی ہے کہ یہاں چند باغی گروہ ہیں، جو بلوچستان کو الگ کرنا چاہتے ہیں اور اس معاملے کو صرف وہ (فوج) ہی سنبھال سکتی ہے۔

اسلام ٹائمز: تحفظ پاکستان آرڈیننس کو آپ کس طرح سے دیکھتی ہیں۔؟
زہرہ یوسف: ہم نے اس سے متعلق باقاعدہ ایک بیان جاری کیا تھا کہ جبری گمشدگیوں کے حوالے سے خفیہ اداروں کو قانونی سرٹیفیکیٹ جاری کیا جا رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین کے بھی خلاف ہے۔

اسلام ٹائمز: کوئٹہ سمیت پورے پاکستان میں مذہبی انتہا پسند دہشتگرد تنظیموں کو کیوں‌ اتنی آزادی دی گئی ہے۔؟
زہرہ یوسف: موجودہ دور میں خاص طور پر اپنی سوچ کو بندوق کے ذریعے مسلط کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہیں۔ ملک میں کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت دیگر تنظیمیں قتل عام کر رہی ہیں۔ خاص طور پر کوئٹہ میں جس طرح شیعہ ہزارہ قوم کو بار بار ٹارگٹ کیا جارہا ہے، تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ملکی ادارے ان دہشتگرد تنظیموں کو ختم نہیں کرنا چاہتے اور انکے ذریعے اپنے مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔

خبر کا کوڈ : 353198
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب