1
0
Friday 31 Aug 2018 21:53
یمن کے عوام کو ہزار سال کی جنگ کے بعد بھی شکست نہیں دی جاسکتی

داعش کو پاک افغان بارڈر پر پہنچا دیا گیا ہے، امریکہ اور سعودی عرب پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، علامہ عابد الحسینی

ہمیں ایسا نیا پاکستان نہیں چاہئے جس میں اہل تشیع کا قتل عام جاری رہے
داعش کو پاک افغان بارڈر پر پہنچا دیا گیا ہے، امریکہ اور سعودی عرب پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں، علامہ عابد الحسینی
علامہ سید عابد حسین الحسینی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور اسکے بعد تحریک جعفریہ میں صوبائی صدر اور مرکزی سینیئر نائب صدر کے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ایک طویل مدت تک تحریک کی سپریم کونسل اور آئی ایس او کی مجلس نظارت کے رکن بھی رہے ہیں۔ 1997ء میں پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ آج کل علاقائی سطح پر تین مدارس دینیہ کی نظارت کے علاوہ تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے پاراچنار، نیز ملکی و بین الاقوامی صورتحال کے حوالے سے علامہ عابد حسین الحسینی کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)
 
اسلام ٹائمز: سب سے پہلے ہمارے قارئین کو کرم ایجنسی کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیجئے گا کہ اب یہاں کس قسم کے مسائل ہیں۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: ﷽۔ کرم کے حالات بدلتے ہوئے کچھ زیادہ دیر نہیں لگتی، یہاں کے عوام کبھی دہشتگردوں کے ظلم و ستم کا شکار ہوئے ہیں تو کبھی ریاستی اداروں کے۔ اب چند دن قبل حکومت نے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے کہ شیعہ قبائل اپنا تمام اسلحہ حکومت کو جمع کرا دیں اور خود دہشتگردوں کے رحم و کرم پر رہیں۔ یہ عجیب منطق ہے، یہ لوگ ہمیں بیوقوف سمجھ رہے ہیں، میں آج آپ کی وساطت سے یہ بتاتا چلوں کہ داعش کو پاک افغان بارڈر پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لایا گیا ہے، دشمن پاکستان کو داعش کے ذریعے عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا تھا، داعش کرم کے بارڈر کے نزدیک ہے اور ہمیں کہا جا رہا ہے کہ آپ اسلحہ ہمیں دے دیں، میں ان لوگوں سے سوال کرتا ہوں کہ بتائیں کہ یہ اسلحہ کیا کبھی ریاست کیخلاف استعمال ہوا۔؟ ہمارے لوگوں نے اسلحہ ہمیشہ اپنے وطن اور اپنے جان و مال کی حفاظت کیلئے استعمال کیا، ہمارے لوگ تو بغیر تنخواہ کے ملک کے سپاہی ہیں۔
 
اسلام ٹائمز: کیا داعش کا نشانہ کرم ایجنسی ہوسکتی ہے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: بالکل ایسا ہوسکتا ہے، امریکہ اور سعودی عرب پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی نیت رکھتے ہیں، کرم سے ان کو داخل کرکے ایک طرف تو پاکستان کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے اور دوسرا اہل تشیع کو۔ کیونکہ شیعہ امریکہ اور آل سعود کا پہلا نشانہ ہیں۔ عراق اور افغانستان کے بعد افغانستان میں داعش کو لانا اسی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔
 
اسلام ٹائمز: اگر حکومت آپکو مکمل تحفظ کی یقین دہانی کراتی ہے تو کیا آپ اسلحہ جمع کرانیکی پوزیشن میں ہونگے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: یہ اتنا آسان مسئلہ نہیں ہے، اسلحہ قبائل کا زیور سمجھا جاتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم بارڈر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ یہاں فرقہ وارانہ جنگیں بھی چھڑتی رہی ہیں، ہماری زمینوں کے بھی مسائل ہیں، حکومت کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ لوگوں کا ان پر اعتماد بحال ہو، ماضی میں دہشتگردوں سے زیادہ زیادتیاں تو حکومت نے ہمارے ساتھ کی ہیں۔
 
اسلام ٹائمز: عمران خان ملک کے نئے وزیراعظم بن چکے ہیں، کیا آپکو انکی حکومت سے کسی قسم کے اچھے کی امید ہے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ انہوں نے قوم کے ساتھ جو وعدے کئے ہیں، ان پر وہ کس حد تک عملدرآمد کرتے ہیں، البتہ انہوں نے ابتدائی طور پر کچھ اچھے اقدامات کئے ہیں، لوگوں نے مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی سے تنگ آکر انہیں ووٹ دیا اور ملک کا وزیراعظم بنایا، اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی امیدوں پر پورا اتریں۔
 
اسلام ٹائمز: آپ نئی حکومت کو کیا تجاویز پیش کرینگے۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: حکومت سب سے پہلے ملک بھر میں امن و امان کے قیام کیلئے کوششیں کرے، دوست اور دشمن کی پہچان کرے، امریکہ اور سعودی اثر و رسوخ سے پاکستان کو نکالے، آزاد خارجہ پالیسی ترتیب دے، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل پر قابو پائے، تکفیری جماعتوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔
 
اسلام ٹائمز: سابقہ حکومتوں کے دور میں پاراچنار سمیت ملک بھر میں اہل تشیع کی نسل کشی کی گئی، نئے پاکستان میں ملت تشیع اپنے آپکو کس قدر محفوظ تصور کریگی۔؟
علامہ سید عابد الحسینی: بالکل ماضی میں ایسا ہی ہوا ہے، اب ہم مزید جنازے اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے، پاراچنار، ڈیرہ اسماعیل خان، کوئٹہ سمیت ملک بھر میں ملت تشیع کا بہت قتل عام ہوچکا، ہمیں ایسا نیا پاکستان نہیں چاہئے، جس میں ہمارے لوگوں کو پہلے کی طرح قتل کیا جائے۔
 
اسلام ٹائمز: ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ روک دیا گیا، مغرب کیجانب سے ایسے اقدامات آخر کئے کیوں جاتے ہیں اور اس حوالے سے امت مسلمہ کو مستقبل میں کیا اقدامات کرنیکی ضرورت ہے۔؟
علامہ سید عابد حسین الحیسنی: یہ سب امت مسلمہ کے تقسیم ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، اگر امت متحد ہو تو کفار کی ہمت بھی نہ ہو ایسا سوچنے کی۔ ہمارے کئی مسلم ممالک اپنے مسلم بھائیوں کو زیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں، سعودی عرب سارے جہان کے کفار کو چھوڑ کر یمن پر حملہ آور ہے، اس کی جب بھی آواز بلند ہوتی ہے تو ایران، شام، عراق، لبنان اور یمن کیخلاف بلند ہوتی ہے۔ آج تک اس نے فلسطین کے مسئلہ پر آواز نہیں اٹھائی۔ امریکہ اور اسرائیل کو اپنا دوست سمجھنا اور مسلمانوں کیخلاف سازشیں سعودی عرب کا مشن بن چکا ہے، جب مسلم ممالک کی یہ صورتحال ہو تو مغرب اس قسم کی حرکتیں کرے گا۔
 
اسلام ٹائمز: آپ نے یمن کا ذکر کیا، سعودی عرب آخر یمن کی جنگ سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔؟
علامہ سید عابد حسین الحسینی: سعودی عرب کا سب سے بڑا ہدف ایران کو کمزور کرنا ہے، امریکہ اور اسرائیل جہاں خود اسلامی ممالک کیخلاف کچھ نہیں کرسکتے تو وہ سعودی عرب کو آگے کرتے ہیں۔ یہ یمن کے عوام کو ہزار سال جنگ کے باوجود بھی شکست نہیں دے سکتے، یمن کے حوثی قبائل اور انصار اللہ بہت مضبوط اور سخت جان ہیں، وہ جنگ کرنا جانتے ہیں، آل سعود اور امریکہ کو یمن میں بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا۔
 
اسلام ٹائمز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عراق اور شام میں داعش کی شکست کے بعد امریکہ اس خطہ میں کمزور ہوا ہے۔؟
علامہ سید عابد حسین الحسینی: امریکہ نے عراق میں شکست کھائی، شام میں شکست کھائی، افغانستان میں شکست کھائی اور اب یمن میں بھی شکست کھائے گا، یمن میں امریکہ اور سعودی عرب کی شکست ان دونوں ممالک کو مزید کمزور کر دے گی، ایران، روس اور چین کی طاقت میں اضافہ ہونے کے بعد امریکہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے، پاکستان کی حکومت بھی اگر امریکی دباو سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ امریکہ کی اس خطہ سے رخصتی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 747292
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

رضا علی
Asia/Pacific Region
حقیقت پر مبنی سوال اور قبلہ کے جوابات