2
0
Monday 5 Sep 2011 13:34

خطے میں رونما ہونے والے تحریکیں اسلامی روح کی حامل اور اسلامی نظام کے قیام کی خواہاں ہیں، علامہ ناصر عباس جعفری

خطے میں رونما ہونے والے تحریکیں اسلامی روح کی حامل اور اسلامی نظام کے قیام کی خواہاں ہیں، علامہ ناصر عباس جعفری
اسلام ٹائمز- علامہ ناصر عباس جعفری مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی سیکرٹری جنرل ہیں۔ اسلام ٹائمز اردو نے ملکی حالات اور مجلس کی کارکردگی اور آئندہ پالیسیوں کے حوالے سے انکے ساتھ تفصیلی انٹرویو لیا ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین کو اپنی فعالیت آغاز کئے ہوئے تقریبا دو سال ہو چکے ہیں، ان دو سالوں میں مجلس کس حد تک اپنے اھداف کے حصول میں کامیاب رہی اور آئندہ کی پالیسیاں کیا ہیں؟
علامہ ناصر جعفری: باسم اللہ الرحمان الرحیم
جب ہم نے مجلس وحدت مسلمین کی توسیع کا فیصلہ کیا تو ہمارا سب سے پہلا ھدف یہ تھا کہ ملکی سطح پر اسکی تنظیم سازی کی جائے۔ لہذا اس وقت پاکستان کے چھ بڑے مناطق یعنی صوبوں، گلگت بلتستان اور ریاست کشمیر میں تنظیم کا سیٹ اپ موجود ہے، ہر منطقے میں صوبائی سیکرٹری جنرل موجود ہے۔ اضلاع کے اندر بھی تنظیم سازی کا کام ہو چکا ہے۔ پہلا قدم جو اٹھایا گیا وہ تنظیم سازی کا قدم تھا جسکا پہلا فیز الحمد للہ 90 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔
ہمارا دوسرا ھدف شہید عارف حسین الحسینی کے افکار و نظریات کی روشنی میں عملی اقدامات انجام دینا اور شہید کے افکار و نظریات کا احیاء تھا۔ انقلاب اسلامی ایران کو شہید بہت اہمیت دیتے تھے اور قائل تھے کہ یہ اس صدی کا معجزہ ہے۔ اور یہ تمام اولیاء، انبیاء اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی آرزو تھی جو ایران کی سرزمین پر وقوع پذیر ہوئی ہے اور ہمارے لئے نمونہ عمل ہے۔ لہذا ہر سال فروری کے مہینے میں انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کی مناسبت سے سیمینارز اور پروگرامز برگزار کئے جاتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں سیمینارز برگزار کئے گئے جن میں انقلاب اسلامی ایران، اسکے خدوخال، بانی انقلاب کے افکار و نظریات کو مطرح کیا گیا اور جو پروگرامز شہید حسینی کے زمانے میں برگزار ہوتے تھے انکا احیاء کیا گیا۔
شہید حسینی کی نگاہ میں وحدت بین المسلمین ایک اصل اور اساس تھی جو انہوں نے امام خمینی رہ سے لی تھی۔ وحدت بین المسلمین کے حوالے سے اہلسنت علماء، شخصیات اور مدارس کے ساتھ روابط برقرار کئے گئے، مشترکہ پروگرام رکھے گئے، انکے علماء کو دعوت دی گئی، وہ شریک ہوئے، اور اس طرح سے وحدت بین المسلمین کے سفر کا بھی احیاء کیا گیا۔
شہید حسینی کے زمانے میں تیسرا بڑا ایشو یوم القدس کا تھا جو بڑی شان و شوکت سے منایا جاتا تھا اور آہستہ آہستہ کمزور ہو چکا تھا۔ الحمد للہ اس سال پاکستان کے چالیس سے زیادہ شہروں میں یوم القدس باشکوہ طریقے سے منایا گیا ہے۔
پاکستان میں مکتب اہلبیت علیھم السلام کے پیروکار مایوسی کا شکار ہو رہے تھے، ہر طرف سے انہیں دشمنوں نے گھیرا ہوا تھا، ناامیدی تھی، ناامنی تھی، خوف و ہراس تھا اور مشکلات تھیں۔ پاراچنار سے لے کر کراچی اور کوئٹہ تک ہمارے لئے ہر جگہ کربلا بنی ہوئی تھی۔ مجلس وحدت مسلمین نے لوگوں کو خوف سے نکالا، ناامیدی سے نکالا، امید بندھائی، لوگوں کو سڑکوں پر لے آئے، گھروں سے باہر نکالا، تاکہ اپنے دشمن کو جو گھروں کے قریب آ رہا تھا پیچھے دھکیل سکیں اور قوم کی آواز کو منظم کر کے طاقتور بنایا جائے۔ الحمد للہ اس وقت ہماری آواز میں طاقت پیدا ہوئی ہے۔ جس حوالے سے بھی پاکستان میں مظلوموں کی حمایت کیلئے قدم اٹھایا جاتا ہے ایک طاقتور آواز اٹھ رہی ہے۔ اور انشاءاللہ یہ دن بدن مزید طاقتور ہو گی۔ پاکستان کے شیعہ اس ناامیدی سے نکل چکے ہیں۔ اسکا واضح ثبوت ہمارے پروگرامز اور اجتماعات میں مومنین کی بھرپور شرکت ہے، انکا اپنے وسائل اور امکانات کو استعمال کرتے ہوئے جوق در جوق آتا، خطرات کا سامنا کرنا، مشکلات کا سامنا کرنا اور اس ناامن فضا کے اندر سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کر کے پروگراموں میں شرکت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ناامیدی سے نکل چکے ہیں۔
اسکے علاوہ امام خمینی رہ کی رحلت کی مناسبت سے پاکستان میں پروگرامز کی برگزاری بڑی اہمیت کی حامل ہے۔
ہمارا اگلا ہدف نوجوانوں اور شیعہ قوم کے اندر معنویت اور روحانیت کو رواج دینا تھا۔ شہید عارف حسینی جہاں بھی جاتے تھے انکا سفر معنویت اور روحانیت کا سفر ہوتا تھا۔ جس علاقے میں جاتے تھے وہاں نماز شب ہوتی تھی، دعائیں ہوتی تھیں، مناجات ہوتی تھیں، عبادت خدا ہوتی تھی۔ اور دعائے کمیل ہوتی تھی، دعائے ندبہ ہوتی تھی۔ الحمدللہ یہ چیز دوبارہ زندہ ہو گئی ہے۔ اب دوبارہ سے جگہ جگہ جہاں جہاں یونٹس بن رہے ہیں، جہاں جہاں مجلس وحدت مسلمین وجود میں آ رہی ہے وہاں دعا ہے، مناجات ہے، روحانیت ہے، معنویت ہے، خدا کے ساتھ تعلق ہے۔ یہ چیز جو انسانیت کی بھی اساس اور بنیاد ہے اور طاقتور بننے کا بھی ذریعہ ہے الحمدللہ اسکا دوبارہ احیاء ہوا ہے۔ آج نوجوان دوبارہ معنویت کی جانب آ رہے ہیں، روحانیت کی جانب آ رہے ہیں۔
اسکے
علاوہ پاکستان کے اندر میڈیا کے مختلف مراکز سے رابطہ کرنا ہمارے اہداف میں شامل ہے۔ ہماری مرکزی دفتر میں باقاعدہ 15 روزہ پریس بریفنگ ہوتی ہے، میڈیا کے لوگ اس میں آتے ہیں اور اسے اخباروں اور ٹی وی میں کوریج ملتی ہے۔ خود ہمارا 15 روزہ "اخبار وحدت" باقاعدگی سے نکل رہا ہے، جو ماہانہ 50 ہزار کی تعداد میں نکلتا ہے اور ملک کے کونے کونے میں لوگوں تک پہنچتا ہے۔ اسکے علاوہ مفید افراد کی شناسائی بھی جاری ہے تاکہ انہیں تنظیم کے اندر لایا جائے اور تنظیم کو اندرونی طور پر متحرک بنایا جائے۔
الحمدللہ وہ اہداف جو مجلس وحدت مسلمین کے دستور میں ہیں انکی جانب سفر جاری ہے اور امید ہے کہ آئندہ دو سالوں میں ہم مزید اقدامات انجام دیں گے، شیعہ قومی کانفرنس کا انعقاد، عزاداری کے حوالے سے اور مختلف کانفرنسز کا انعقاد ہمارے پروگرام میں شامل ہے۔ شہید حسینی کے زمانے میں ماہ رمضان کے آخری عشرے میں جشن نزول قرآن ہوتا تھا، اس سال دوبارہ احیاء ہوا اور اس حوالے سے پروگرام رکھے گئے، اعتکاف کا احیاء کیا گیا، مجلس وحدت مسلمین کے جوانوں نے اعتکاف کا احیاء کیا۔
سیاسی اور اجتماعی طور پر مختلف مختلف سیاسی پارٹیوں کے ساتھ رابطے کئے گئے۔ ایم این ایز کے ساتھ رابطے کئے گئے، انہیں دفتر میں بلانا، دعوت دینا، چاہے ن لیگ کے ہوں، چاہیں ق لیگ کے ہوں، چاہے پیپلز پارٹی کے ہوں چاہے دوسری جماعتوں کے ہوں، انکے ساتھ اس عرصے میں ہوئے ہیں اور لوگوں کو دفتر میں بلایا گیا اور ان سے ملاقاتیں کی گئیں اور انکے ساتھ شیعہ حوالے سے، ملکی حوالے سے اور ریجنل حوالے سے مسائل ڈسکس کئے گئے ہیں۔ اسی طرح بعض سیاسی پارٹیوں کے سربراہان جیسے عمران خان، اور سنی تحریک کے دوستوں سے ملاقاتیں کی گئیں اور آپس میں مشترکہ طور پر کام کرنے کے بارے میں بات چیت کی گئی ہے۔ اسی طرح پاکستان میں جو دینی جماعتیں فعال ہیں جیسے جماعت اسلامی ہے، جمعیت علمای اسلام ہے، جمعیت علمای پاکستان ہے اور سنی تحریک ہے، انکے ساتھ بھی اچھی ملاقاتیں رہی ہیں، انہیں مختلف پروگراموں میں دعوت دی گئی ہے، یہ آئے ہیں اور مشترکہ طور پر مل بیٹھے ہیں اور ایک اچھی انڈرسٹینڈنگ ڈویلپ ہو رہی ہے۔
اسلام ٹائمز: مستقبل میں مجلس وحدت مسلمین کے کیا اھداف ہیں؟
علامہ ناصر جعفری: ہم پاکستان میں غیرملکی مداخلت اور عالمی استکبار کے نفوذ کو تمام برائیوں کی جڑ سمجھتے ہیں۔ اگر ناامنی ہے، اسکی وجہ عالمی استکبار امریکہ، برطانیہ، سی آئی اے، موساد اور بین الاقوامی ایجنسیز ہیں۔ اگر ہمارے ملک کے اندر نفرتیں ہیں، اندرونی اختلافات ہیں تو وہ اسی وجہ سے ہیں۔ اگر ملک میں علاقائیت ہے، لسانیت ہے، تو اسکی بنیاد بھی یہی قوتیں ہیں۔ ہم گذشتہ ڈیڑھ سال کے اندر بھی پاکستان میں یہ اعلان کرتے رہے کہ جب تک ہمارے ملک میں عالمی استکبار کی جگہ موجود رہے گی اور اسکا اثر و رسوخ یہاں قائم رہے گا اس ملک میں امن نہیں رہے گا، ترقی نہیں ہو گی۔ لہذا ہمارے بڑے اھداف میں سے ایک پاکستان میں عالمی استکبار کے خلاف لوگوں کو منظم کرنا، اکٹھا کرنا اور انکے مقابلے میں بڑی موومنٹ اور تحریک شروع کرنا ہے تاکہ عالمی استکبار کو اس خطے سے نکال باہر کیا جا سکے اور اس خطے کا امن واپس لوٹایا جا سکے، پاکستان کو اسکی خودمختاری اور آزادی لوٹائی جا سکے اور اسکی سالمیت کی حفاظت کی جا سکے۔ آپ دیکھیں کہ ہمارے وطن میں ڈرون حملے ہوتے ہیں، یہ ہماری توہین ہے، ہمارے ملک میں بسنے والے افراد کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے جسکے نتیجے میں ملک کمزور ہو رہا ہے۔ ہمارے ملک میں جگہ جگہ بلیک واٹر کی شکل میں اور مختلف شکلوں میں سی آئی اے اور موساد کے ایجنٹ موجود ہیں جو ملک میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔ یہ دندناتے پھرتے ہیں اور ہمیں نقصانات بھی بہت ہوئے ہیں۔
لہذا اب وقت آ گیا ہے کہ اس سلسلے میں تاخیر نہ کی جائے، پاکستان دوست قوتوں کو اکٹھا کیا جائے اور عالمی استکبار کے ہاتھوں کو کاٹ دیا جائے۔ یہ ہمارے اہم اھداف میں سے ہے۔
دوسرا یہ کہ پاکستان کے اندر اس سوچ کو پیدا کیا جائے کہ ریجنل ریلیشنز کو ڈویلپ کیا جائے۔ خطے کے ہمسایہ ممالک بالخصوص ایران اور چین کے ساتھ اچھے روابط قائم کئے جائیں۔ اور ان ممالک میں پاکستان کے ذریعے جو مداخلت اور دہشت گردانہ اقدامات ہوتے ہیں انہیں روکا جائے۔
ایک اور اہم ھدف شیعہ سنی اتحاد کا فروغ ہے۔ صرف میٹنگز کی حد تک نہ رہا جائے بلکہ عملی اور رسمی طور پر ایک چارٹر ڈیزائن کیا جائے۔ اس چارٹر میں ایسے نکات ذکر کئے جائیں جنکی بنیاد پر پاکستان میں بسنے والے تمام مکاتب فکر کے افراد باہمی طور پر زندگی گزار سکیں، مشترکہ سیاسی فعالیت انجام دے سکیں اور عالمی استکبار کے مقابلے میں اسٹینڈ لے سکیں۔ جس طرح بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان چارٹر
آف ڈیموکریسی لکھا گیا تھا اسی طرح پاکستان کی دینی جماعتوں کے درمیان ایک چارٹر لکھے جانے کی ضرورت ہے جسکی بنیاد پر انکی سیاسی فعالیت انجام پا سکیں۔ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں عالمی استکبار امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سب سے زیادہ نفرت پائی جاتی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جو حکمران آتے ہیں وہ انہیں کے نوکر ہوتے ہیں۔ تو انشاءاللہ پاکستان کے اندر، پاکستانی ملت کے اندر اور اہل تشیع کے اندر بیداری، اپنے حقوق کے حوالے سے بیداری، ملک کو درپیش خطرات کے حوالے سے بیداری، اپنے ووٹ کی طاقت کے حوالے سے بیداری، اور پاکستان کو ان خطرات سے نکالنے کیلئے لائحہ عمل کے حوالے سے بیداری ہمارا ہدف ہے تاکہ عوامی جدوجہد اور عوامی طاقت کے ذریعے ہم حالات کا مقابلہ کر سکیں اور دشمن کو اپنے وطن اور خطے سے نکال باہر کر کے ملک میں آزادی اور خودمختاری کو لوٹا سکیں اور ترقی کی راہیں کھل سکیں۔
اسلام ٹائمز: اہل تشیع کے اندر وحدت بین المومنین کے حوالے سے آپکا لائحہ عمل کیا ہے؟
علامہ ناصر جعفری: جیسا کہ آپ جانتے ہیں مجلس وحدت مسلمین خاص حالات میں معرض وجود میں آئی ہے۔ جب ہر طرف خاموشی تھی، سناٹا تھا، جیسا کہ پہلے کہا مایوسی تھی۔ دشمن جری ہو چکا تھا، پاکستان دشمن قوت یعنی امریکہ نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے شیعہ قوم کو تقسیم کرنے، توڑے اور ختم کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ کیونکہ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد سب سے زیادہ اثرات پاکستان میں نظر آتے تھے۔ اور امریکی نہیں چاہتے تھے کہ اس خطے کے اندر، پاکستان میں بسنے والے مسلمانوں کے اندر جہاں امریکہ سے بہت نفرت پائی جاتی ہے اس انقلاب کے اثرات لوگوں کے دلوں تک پہنچیں اور یہاں سے بھی امریکہ کو نکلنا پڑے۔ لہذا اس نے شیعہ سنی کا مسئلہ اٹھایا، تفرقہ ڈالا تاکہ شیعہ سنی میں جھگڑا ہو، پھر سنیوں کے اندر اختلافات پیدا ہوں، پھر شیعوں کے اندر اختلافات پیدا ہوں اور مسلمان اندرونی طور پر اتنے الجھ کر رہ جائیں کہ وہ انقلاب کو بھی بھول جائیں اور اپنے اصلی دشمن سے بھی غافل ہو جائیں۔ یہ انکی اس پورے خطے میں کلی پالیسی تھی جسکے تحت انہوں نے کام کیا۔ انہوں نے سنیوں کے درمیان بھی عجیب و غریب قسم کے اختلافات پیدا کئے اور انہیں بھی اندر سے توڑا اور کمزور کیا اور انکے ٹکڑے کئے اور شیعوں کے اندر بھی انہوں نے کام کیا۔
لہذا اس صورتحال کے اندر جب دشمن اپنی کاری ضرب لگا چکا تھا مجلس وحدت مسلمین دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے وارد عمل ہوئی۔ طبیعی ہے کہ اسکی بنیاد شیعوں نے فراہم کی لہذا اگر شیعوں کے درمیان اتحاد ہو گا تو ہماری طاقت میں اضافہ ہو گا۔ ہماری کوشش ہے کہ اہلسنت کے ساتھ بھی اتحاد پیدا ہو، اور خود اہلسنت کے اندر بھی وحدت ہو، یہ پاکستان کے فائدے میں ہے، اسلام کے فائدے میں ہے۔ اہلسنت کے درمیان بھی لڑائی اور جھگڑا پاکستان اور اسلام کے نقصان میں ہے۔
اس کیلئے ہم نے یہ پالیسی بنائی کہ ہم اندرونی طور پر کسی اختلاف کا حصہ نہیں بنیں گے، رواداری اور احترام کو رواج دیں گے اور لوگوں کو محبت کے ذریعے جذب کریں گے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں بسنے والے تمام طبقات، چاہے وہ جوان ہوں، آئی ایس او یا عسکریہ اسٹوڈنٹس کی شکل میں، دوسری علاقائی تنظیموں کی شکل میں، علاقائی انجمنیں ہوں، ماتمی انجمنیں ہوں، بانیان مجالس ہوں، ذاکرین ہوں، خطباء ہوں، شعراء ہوں، جتنے بھی طبقات ہیں، علماء ہیں، انکے ساتھ اچھے روابط، رواداری اور ان تک اپنی آواز اور اپنے اہداف درست طور پر بہنچانا اور انہیں ان معاملات سے آگاہ اور آشنا کر کے ساتھ ملانا۔ مجلس وحدت مسلمین الحمدللہ گذشتہ ایک سال اور چند ماہ میں اس حوالے سے کافی حد تک کامیاب رہی ہے۔ ذاکرین کے اندر وہ مخالفتیں جو ہمارے بارے میں ہونی چاہئے تھیں نہیں ہیں، خطباء میں نہیں ہیں، شعراء میں نہیں ہیں، بانیان مجالس اور عزادار بھی ہمارے بارے میں حساس نہیں ہیں بلکہ ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، ہمارے پروگرامز میں شریک ہوتے ہیں، خطاب کرتے ہیں اور حتی مدد کرتے ہیں۔
بعض شیعہ جماعتوں اور شخصیات کے ساتھ بھی ہماری کوشش یہی رہی ہے کہ اچھے روابط ہوں۔ یعنی ہم نے محاذ آرائی کی کیفیت پیدا نہیں ہونے دی۔ الحمدللہ پاکستان میں بسنے والے شیعہ علماء و بزرگان محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے انکے احترام میں اضافہ کیا ہے، انکے ساتھ رواداری کو رواج دیا ہے اور پاکستان میں کوئی بڑا مسئلہ ہماری وجہ سے پیدا نہیں ہوا بلکہ ایک اچھی فضا بن رہی ہے جو انشاءاللہ دن بدن تقویت پائے گی۔ اس حوالے سے مجلس وحدت مسلمین کی یہ پالیسی ہے کہ جتنی بھی شیعہ جماعتیں ہیں انہیں کمزور نہ ہونے دیا جائے، وہ طاقتور رہیں تاکہ ایک مثبت کردار ادا کر سکیں۔ علاقائی انجمنیں بھی طاقتور بن جائیں، ہماری وجہ سے
طاقتور ہو جائیں، علاقائی سطح پر عزاداری کی تنظیمیں اور ماتمی تنظیمیں ہماری وجہ سے طاقتور ہو جائیں۔ تاکہ عزاداری کو بہتر سے بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔ یہ ہمارے دست و بازو ہیں، ہمارے ساتھی ہیں، ہماری قوم کا حصہ ہیں، یہ جتنے بھی طاقتور ہوں گے قوم بھی طاقتور ہو گی۔ دینی مدارس ہیں، دینی مراکز ہیں، مساجد ہیں، یہ سب بھی طاقتور ہونی چاہئیں۔
الحمدللہ پاکستان میں مختلف شیعہ طبقات کے ساتھ مناسب روابط موجود ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ آئندہ بہتر سے بہتر ہوں۔ پہلے مرحلے پر جو ہمارا ہدف تھا کہ اندرونی سطح پر کسی سے ٹکراو پیدا نہ ہو، الجھاو پیدا نہ ہو الحمدللہ پیدا نہیں ہونے دیا۔ ایک ایسی فضا بنا دی گئی ہے جس میں ایکدوسرے سے ملا جا سکتا ہے، اور ملتے بھی ہیں، بزرگوں کے پاس جاتے بھی ہیں، ملاقاتیں ہوتی ہیں، اور امید ہے کہ آئندہ ہم اس سے آگے بڑھیں گے اور ایکدوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔
اسلام ٹائمز: پاکستان کی سطح پر جو اہل تشیع میں مسائل ہیں اُن کے حوالے سے وضاحت کریں۔
علامہ ناصر جعفری: عالمی استکبار امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ جیسی حکومتیں مسلمانوں کی چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی اور ہماری دشمن ہیں۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ انہیں آپس میں لڑائیں اور اندر سے کھوکھلا کریں۔ کیونکہ آگر وہ براہ راست مقابلے میں آئیں تو شکست کھا جاتے ہیں جیسا کہ افغانستان اور عراق میں کھا چکے ہیں۔ جہاں بھی خود ہمارے سامنے مقابلے کیلئے آئے ہیں نہ آئڈیالوجی میں ہمارا مقابلہ کر سکے ہیں نہ جذبہ و ولولہ شہادت میں ہمارا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہی رہی ہے کہ اندرونی حوالے سے ہمیں الجھائیں اور کھوکھلا کریں۔ جب بھی کہیں مضبوط مرکز نہیں رہتا تو دشمن کو وہاں کام کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ شہید عارف حسین الحسینی کی شہادت کے بعد جب شیعہ قوم کمزور ہو گئی تو عوامی سطح پر دشمن کو زیادہ موقع ملا جو پہلے سے ہی قوم کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس نے physically ہم سے ہمارے قائد کو چھین لیا تھا اور شہید کر دیا تھا مگر وہ پھر بھی آرام سے نہیں بیٹھا، اس نے جیسے شیعوں کو باہر سے سپاہ صحابہ اور لشکر جھگنوی اور شدت پسند گروہوں کو مسلح کرنے کے ذریعے کوشش کی کہ یہ ہمیں باہر سے ماریں اسی طرح اندر سے ہمیں الجھانے، غیراہم موضوعات کو ایشوز بنانے اور ان انحرافی گروہوں کو ہمارے اندر لانے اور ہمیں الجھا دنے کی کوشش کی تاکہ ہمیں اپنی ہی پڑی رہے۔ جب ہمارا مرکز کمزور ہو گیا تو اس سلسلے میں اور قوت آ گئی۔
ہماری پوری کوشش یہ ہے کہ شیعہ قوم کے اندر جتنے بھی اختلافی مسائل کھڑے کئے جا رہے ہیں انکا حکمت و تدبیر سے مقابلہ کیا جائے، ذاکرین سے مل کر انہیں حقائق بتائے جائیں جیسا کہ اب ہم ان سے مل رہے ہیں، دشمن شناسی اور اسکی شناخت اور ملک کو درپیش مسائل کے بارے میں ان سے بات چیت ہو، پھر یہ خیال رکھنا کہ جو گفتکو ممبر پر ہو اس سے ہمارا دشمن استفادہ نہ کرے، ہماری اس حوالے سے بڑے بڑے ذاکرین جیسے صابر شاہ صاحب جو ذاکروں کے رئیس سمجھے جاتے ہیں، جعفر طیار، عارف شاہ صاحب، مختار کوکھر صاحب، ریاض حسین شاہ رتوال اور اسکے علاوہ دیگر ذاکرین اور خطباء کے ساتھ رابطے ہیں، تاکہ ہم سب سے پہلے ان کو درپیش مسائل سے آگاہ کریں، اور ان میں سے دوستوں نے کافی حد تک ساتھ دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ تاکہ جن لوگوں کو ہمارا دشمن استمعال کرتا ہے ہم ان ہی کے ذریعے سے اس کا مقابلہ کر سکیں، اور ممبر پر آنے والے لوگوں سے رابطے کے ذریعے عوام میں آنے والی خرافات کو روک سکیں۔
ماتمی اور عزادار طبقہ کے اندر بھی انہوں نے نفوذ کر رکھا ہے، جسکے ذریعے سے وہ مختلف کام کر رہے ہیں۔ جیسے علماء اور عوام کے درمیان دوری پیدا کرنا، مراجع سے دور کرنا، نظریہ ولایت فقیہ کے خلاف کام کرنا، ایسے ایسے مسائل اٹھانا کہ عوام ان میں الجھ جائیں، مثلا شہادت ثالثہ وغیرہ۔ اسی وجہ سے عزاداروں کے ساتھ ہمارے براہ راست تعلقات ہیں اور ہم ان سے ملتے ہیں اور انکو بتاتے ہیں کہ تشیع کی دشمنی آج کی تو نہیں ہے۔۔۔۔ یہ تو چودہ سو سالہ تاریخ ہے، تو یہ قوتیں جو یہ مسائل کھڑی کر رہی ہیں یہ ہماری ہمدرد قوتیں نہیں، لہذا ان کو باشعور اور بیدار کر کے ان خرافات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ کام ہم نے شروع کیا ہوا ہے اور انشاء اللہ مجلس وحدت مسلمین جتنی مضبوط ہوتی چلی جائے گی یہ چیزیں بالواسطہ حل ہوتی چلی جائیں گی اور بہت ہی کم چیزیں ہوں گی جن کو بلاواسطہ حل کرنے کی ضرورت پڑے گی۔
اسلام ٹائمز: پاکستان کے سیاسی حالات خاص طور پر کراچی اور کوئٹہ میں شیعوں کے خلاف ٹارگٹ کلنگز کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
علامہ ناصر جعفری: پاکستان اس وقت سیاسی، سماجی ، معاشی، اور مختلف حوالوں سے مشکلات کا شکار ہے۔ ہر لحاظ سے مشکلات ہیں، اور تقسیم در تقسیم
ہے۔ مثلا آپ دیکھیں کے معاشرے کو کتنے ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔ مذہب کے نام پر گہری تقسیم ہے حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ قوم اور قبیلے کے نام پر تقسیم، عالمی طاقتوں کا خطرناک حد تک نفوذ، سیاسی پارٹیوں کا آپس میں دست بہ گریباں ہونا، سیاسی گروہ کے اندر مسلح گروہوں کا نفوذ رکھنا بھی ایک خطرناک چیز ہے۔ پاکستان کے مختلف حلقوں کا پاکستان کے مفادات کے حوالے سے درست تشخیص نہ دینا، پاکستان میں کسی بھی حکومت کو طاقتور نہ ہونے دینا، شفاف الیکشن کا نہ ہونا، وطن دوستی اور وطنیت کے جذبے کو کمزور کرنا، پاکستان کے اندر دینی اقدار کی پامالی، میڈیا میں ہر حوالے سے دینی اقدار کو کچلنا ، پھر دہشتگردی، خودکش حملے، ٹارگٹ کلنگز فقط شیعہ ہی اس کا شکار نہیں ہر پاکستانی اس کا شکار ہے، سنی شیعہ دونوں مر رہے ہیں۔
ماضی میں پاکستان میں جو آگ جلائی گئی تھی اس میں فقط شیعہ جلتے تھے مگر اب اس میں اتنی وسعت آ گئی ہے کہ آگ جلانے والے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ پاکستان اقتصادی طور پر بہت کمزور ہو چکا ہے، سرمایہ کار ملک چھوڑ رہے ہیں، اغواء کے کیسز بہت زیادہ ہو رہے ہیں، لوگوں کے بچوں کو اغواء کیا جاتا ہے اور ان سے تاوان مانگا جاتا ہے اور یہ سرمایہ دار طبقہ ہے جسکے کارخانے بھی ہیں اور یہ بڑی تیزی سے پاکستان سے اپنے سرمایہ کو افریقہ، بنگلہ دیش اور ملائیشیا منتقل کر رہے ہیں۔
مرکزی حکومت بہت کمزور حکومت ہے جس کی کوئی رٹ ہی نہیں ہے، ایسا لگتا ہے کہ جیسے ملک آزاد ہے، ایسے حالات میں پاکستان کا بسنے والا شیعہ پاکستانی کے طور پر بھی مظلوم ہے اور شیعہ کے طور پر بھی مظلوم اور مسلمان ہونے کے ناطے بھی مظلوم ہے۔ وہ قوتیں جو مسلمانوں کو مارتی ہیں وہ شیعوں پر بھی ظلم کرتی ہیں، وہ جو فقط انٹی شیعہ ہیں وہ شیعوں پر ہی ظلم کرتی ہیں اور وہ جو پاکستان دشمن ہیں وہ بھی پاکستانی شیعوں پر ظلم کرتی ہیں۔ شیعہ تین حوالوں سے پاکستان میں مظلوم ہیں اور مشکلات کا شکار ہیں اور ان سے نکلنے کا حل یہی ہے کہ پاکستان کے اندر سسٹم کو درست کیا جائے۔ اس جیسے فاسق نظام کی گود میں ایسے ہی لوگ جنم پائیں گے جو کرپٹ، ظالم اور بکے ہوئے ہوں گے۔
لہٰذا اگر ہم پاکستان کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں تو پہلی چیز یہ ہے کہ پورے پاکستان میں وطن دوستی کو ترویج دی جائے، دینی اور مشرقی اقدار کی پامالی کی روک تھام کے حوالے سے اقدام کئے جائیں، شفاف الیکشن منعقد کئے جائیں اور لوگوں کو یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنے حکمران خود بنائیں اور انکے بنائے ہوئے لوگ ہی حکومت کریں، حکومت اور الیکشن کے حوالے سے بیرونی قوتوں کی مداخلت ختم کی جائے تاکہ ہم پاکستان کو عالمی استکبار کے چنگل سے نکال سکیں۔
اسلام ٹائمز: پارا چنار میں تازہ ترین صورتحال کیا ہے اور مستقبل میں مجلس وحدت مسلمین کا اُس حوالے سے کیا لائحہ عمل ہے؟
علامہ ناصر جعفری: بدقسمتی سے پاکستان کا مسئلہ افغانستان کے مسئلہ سے جڑ چکا ہے۔ پارا چنار کے امن کیلئے افغانستان کا امن ضروری ہے۔ پاراچنار پاکستان کا مظلوم ترین خطہ ہے اور اسکے عوام مظلوم ترین عوام ہیں۔ پاکستان کی 8 ایجنسیوں میں فقط کرم ایجنسی ہے جہاں منشیات اور اسلحہ بنانے کے کارخانے نہیں ہیں، یہ وہ جگہ ہے جہاں کوئی سکول منھدم نہیں ہوا، کبھی فوج پر حملہ نہیں ہوا، کبھی پولیس پر حملہ نہیں ہوا، پاکستان کا پرچم وہاں بلند ہے، محب وطن اور اہل بیت علیھم السلام کے ماننے والے لوگ وہاں پر رہتے ہیں اور باقی 7 ایجنسیوں میں ہر برائی ہے۔ قتل و غارت، علم دشمنی، انسان دشمنی و انسان کشی، ثقافتی حوالوں سے انتہائی پست، اسلحہ اور منشیات کے کارخانوں سے پُر، ڈاکے اور اغواء کے کیسز یہاں تک کہ کون سی برائی ہے جو ان سات ایجنسیوں میں نہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کی حکومت جسکی اخلاقی، قانونی اور آئینی ذمہ داری تھی کہ ان مظلوموں کو تحفظ اور امن فراہم کرے، انکے راستے کھلوائے مگر حکومت اورمختلف حلقوں کی مجرمانہ غفلت اور مجرمانہ علماء کی ہم رقابی ان مجرموں کے ساتھ ہے جنکی وجہ سے آج یہاں کے لوگ مظلوم ہیں۔ اور اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اس مسئلہ کو زیادہ عرصے تک چلائیں گے تو پاکستان کے حکمرانوں کو اس کا جواب دینا پڑے گا۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جس میں تمام سکیورٹی، سیاسی اور حکمرانوں کے ادارے ملوث اور جوابدہ ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے پارا چنار کے مسئلہ کو ملکی اور غیر ملکی سطح پر جلسے جلوسوں، کانفرنسوں، رابطوں اور دوروں کے ذریعے اُجاگر کیا تاکہ یہ مسئلہ دنیا تک پہنچے اور حکومت یہ نہ سمجھے کہ پاکستان کے لوگ اس سے غافل ہیں۔ اسی حوالے سے شہید حسینی ؒ کی برسی جو اسلام آباد میں منائی گئی کے بعد ایک امدادی کاروان بھیجا گیا تاکہ اس مسئلہ کو ملکی سطح پر اُجاگر کیا جائے اور
پارا چنار کے مظلوم عوام کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ لوگ تنہا نہیں ہیں بلکہ ہم اُنکے ساتھ ہیں۔
ہمارے لئے بہت رکاوٹیں اور مشکلات کھڑی کی گئیں تاکہ ہم مایوس ہو جائیں اور پارا چنار نہ جا پائیں مگر الحمدللہ دوستوں کی کاوش سے پہلا امدادی کاروان وہاں پہنچا اور لوگوں سے ملا۔ وہاں کے لوگ اس پر بہت خوش تھے اور اس سے انکی ہمت بڑھی۔ دوسرا کاروان بھی کچھ دن قبل پہنچ چکا ہے اور تیسرا کاروان بھی جلد روانہ ہو گا تاکہ پاراچنار کا مسئلہ بھی اُجاگر رہے اور وہاں کے لوگوں سے رابطہ بھی رہے اور حکومت کے اوپر دباؤ بھی بڑھتا رہے۔ اسی مسئلے کے حوالے سے یوتھ آف پاراچنار نے تین مہینوں تک اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال اور احتجاجی کیمپ لگائے اور اس مسئلے کو انسانی حقوق کی تنظیموں، پارلیمنٹ، بین الاقوامی سطح پر اُٹھایا گیا۔ تمام کے تمام قانونی اور مہذب طریقے اپنائے گئے تاکہ پاراچنار کے مسئلہ کو اجاگر کیا جائے اور حکومت پر دباؤ ڈالا جائے، انشاء اللہ آئندہ بھی اس سلسلے کو جاری رکھیں گے اور کوشش کریں گے کہ پاراچنار کے لوگ جلد اس مشکل سے باہر نکل آئیں۔
اسلام ٹائمز: خطے میں اسلامی بیداری کی تحریک شروع ہو چکی ہے، آپ اس بارے میں کیا کہیں گے اور آپکی نظر میں مستقبل میں اسکے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
علامہ ناصر جعفری: اسلامی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں جو بیداری کی تحریک ہے یہ اس بیداری کی تحریک کا تسلسل ہے جو امام خمینی ؒ کے اسلامی انقلاب سے اس پورے خطے میں شروع ہوئی اور جس کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت اسلامی ایران پر عراق سے حملہ کروایا گیا اور عرب و عجم کی جنگ شروع کروائی گئی، شیعہ سنی مسائل کھڑے کئے گئے، سیاسی اور اقتصادی حوالوں سے پابندیا ں لگائی گئیں، تنہا کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ جو بیداری، عزت، آزادی اور استقلال کی تحریک ہے یہ محصور اور محدود کر دی جائے، جمہوری اسلامی کے ایران کے اندر ہی اثرات رہیں، باہر نہ پہنچیں لیکن ایران میں بسنے والے مسلمانوں کی استقامت، رہبر کی بصیرت و شجاعت و حکمت وتدبیر اور ثابت قدمی موجب بنی کہ تمام کی تمام امریکی سازشیں ناکام ہو جائیں۔ اسکے نتیجے میں لبنان میں حزب اللہ اور فلسطین میں حماس اور اسلامی مزاحمت کا بلاک وجود میں آیا اور اس نے عالمی استکبار کے خلاف اپنی مزاحمت کو جاری رکھا۔
اس سے ملتوں میں یہ پیغام گیا کہ جب یہ لوگ اسلامی مزاحمت سے آزادی کی نعمت سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں تو ہمیں بھی ایسا کرنا چاہئے۔ لہٰذا یہ ملّتیں عالمی استکبار کے مقابلے میں اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ یہ بہار آزادی ہے جسکی بنیاد امام خمینی ؒ کا اسلامی انقلاب ہے۔ اب یہ بہار آزادی اس پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ اس خطے میں امریکہ کا بنایا ہوا نظام ختم ہو رہا ہے، وہ نظام جس سے اسرائیل کو تحفظ دیا گیا تھا اسکے ستون گر رہے ہیں۔ اس نظام سے سب سے پہلے ایران باہر ہوا پھر ترکی اور اب مصر میں حسنی مبارک ختم ہوچکا ہے اور آہستہ آہستہ تمام بت استکبار گریں گے۔
ان ممالک میں عوامی اجتماعات، انکے جمعوں کے اجتماعات یہ بتاتے ہیں کہ ان کی روح اسلامی ہے، انکے اندر اسلامی نظام کو قائم کرنے کی خواہش موجود ہے۔ نمازجمعہ میں آنا، اللہ اکبر کے نعرے لگانا اور جمعہ کے دن کو ہی طاغوتوں کے مقابلے کیلئے چُننا، اس میں ایک رمز ہے۔ پھر امریکہ کے حامی حکمرانوں کو سر نگوں کرنا، کوئی سوچ سکتا تھا کہ حسنی مبارک جن پنجروں میں مسلم مجاہدوں کو بند کروایا کرتا تھا ان میں خود اپنے بچوں اور وزیروں سمیت بند ہوگا؟۔ یہ نشان عبرت اور مکافات عمل ہے لہٰذا عوام کو جہاں وہ بیدار ہیں اور زیادہ باشعور ہونے کی ضرورت ہے تاکہ اگر عالمی استکبار اس موج پر سوار ہونے کی کوشش اور اس کے منطقی انجام سے دور کرنے کی کوشش بھی کرے تو کامیاب نہ ہو۔
ابھی اس کھیل کا آغاز ہے لہٰذا مستقبل کے حوالے سے ملّتوں کو حکمت عملی اور بیداری کے ساتھ مزید باشعور ہونے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی استکبار اس تحریک کو غلط رخ پر نہ موڑ سکے۔ اگر یہ بیدار ہوئے تو فقط یہ خطہ ہی نہیں بلکہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بقول یہ بیداری امریکہ اور یورپ تک جائے گی اور یہ پوری دنیا کو متأثر کرے گی۔
لہٰذا ضروری ہے کہ بیدار رہیں اور عالمی استکبار سے ہوشیار رہیں تاکہ وہ اس موج پر سوار نہ ہو سکے اور رہبر کے بقول اگر خدانخواستہ استکبار اس موج پر سوار ہو کر اس کے رخ کو بدلنے میں کامیاب ہو گیا تو اس کے بڑے نقصانات ہوں گے۔
بارگاہ خدا میں میری دُعا ہے کہ اُمّت مسلمہ کو بصیرت کی نعمت، ہمّت، حکمت اور شجاعت سے نوازے اور انکی تدبیر میں اضافہ ہو تاکہ دشمن کی شناخت اور اسکی سازشوں کی پیچیدگیوں کو سمجھتے ہوئے اپنے راستے پر قائم رہیں اور اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔
خبر کا کوڈ : 96599
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
الحمد للہ خدا آپ کی تو فیقات خیر میں اضافہ فرمائے آمین

میثم تمار
سرگودھا پاکستان
Iran, Islamic Republic of
ماشاءاللہ
خدا وندمتعال آپ کی سعی و کوشش قبول فرمائے اور انصار امام(ع) میں شامل فرمائے آمین
محسن فانی
ساہیوال سرگودھا