0
Sunday 6 Nov 2011 01:30

خانہ فرہنگ لاہور میں تقسیم اسناد کی تقریب

خانہ فرہنگ لاہور میں تقسیم اسناد کی تقریب
رپورٹ:نذیر علی ناظر
 
اسلام ٹائمز۔ لاہور کا جیل روڈ اس دن بہت مصروف نظر آ رہا تھا۔ سکیورٹی معمول سے زیادہ تھی، کیونکہ خانہ فرہنگ ایران کے آڈیٹوریم میں پروقار تقریب جاری تھی۔ جس میں مردوں کے ساتھ خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ٍ یہ تقریب خانہ فرہنگ اسلامی جمہوری ایران لاہورکے زیر اہتمام فارسی کلاسز سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا و طالبات کے اعزاز میں منعقد کی گئی، تاکہ ان کی صلاحیتوں کے اعتراف میں ان کے درمیان سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے جائیں اور انہیں انعامات سے نوازا جائے۔
بڑے آڈیٹوریم اور خانہ فرہنگ کی لابی کو مختلف فن پاروں سے مزین کیا گیا تھا۔ جن میں 3 تا 5 نومبر 2011ء دیدہ زیب پینٹنگز رکھی گئی تھیں۔ پاکستانی اور ایرانی پرچموں، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح، بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رہ، رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای اور شاعر مشرق علامہ اقبال کی تصاویر سے سٹیج کو سجایا گیا تھا۔ نمائش میں آٹھ طلباء نے واٹر کلر، چار نے تذہیب، دس نے خطاطی اور دس نے سکیچز کے فن پاروں رکھے گئے تھے۔ جن میں حاضرین نے بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔
محسور کن آواز میں سٹیج سے نام پکارے جاتے تو فارغ التحصیل طلبا و طالبات تالیوں کی گونج میں مہمانان گرامی تک پہنچتیں اور انعام وصول کرتیں۔ ابتدائی فارسی کورس میں اول فوزیہ رشید اور دوئم حنا رفیق، درجہ وسطی فارسی کورس میں اول سیدہ مکاشفہ بتول اور دوئم ارشد حسین صدیقی، جبکہ جدید فارسی کورس میں اول فاطمہ فیاض اور دوئم پوزیشن توفیق انصاری نے حاصل کی۔ جنہیں انعامات سے نوازا گیا۔
تقریب کی صدارت خانہ فرہنگ اسلامی جمہوریہ ایران لاہور کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد عباس فاموری نے کی، معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی، پنجاب یونیورسٹی میں فردوسی چیئر کے چیئرمین ڈاکٹر آفتاب اصغر اور ڈائریکٹر محکمہ اوقاف حکومت پنجاب ڈاکٹر طاہر رضا بخاری، پرنسپل نقش سکول آف آرٹ محمود الحسن رومی اور معروف خطاط استاد عرفان نے مہمانان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد عباس فاموری نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان صدیوں پرانے تہذیبی اور ثقافتی مشترکات ہیں، جن میں ایک فارسی زبان بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو کے 60 سے 70 فیصد الفاظ فارسی کے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال لاہوری کے 60 فیصد اشعار فارسی میں ہیں، جبکہ صوفی بزرگ حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کی پہلی کتاب کشف المحجوب بھی فارسی زبان میں ہی تحریر کی گئی۔
 اسی طرح دیگر صوفی شعرا حضرت لعل شہباز قلندر اور حضرت میر سید علی ہمدانی کی تعلیمات بھی زبان فارسی میں ہیں۔ ڈاکٹر عباس فاموری نے کہا کہ آرٹ، کلچر، خطاطی اور تذہیب (miniatures) بھی دونوں ممالک میں مشترک ہیں۔ انہوں نے نمائش میں رکھے گئے فن پاروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قلیل مدت میں نوجوان آرٹسٹوں نے خانہ فرہنگ میں آرٹ، خطاطی اور پینٹینگز کو سیکھا اور پھر ان کی نمائش لوگوں نے دیکھی اور تعریف کی۔
معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی نے کہا کہ ایران سے ہمارا ثقافتی اور مذہبی تعلق صدیوں پرانا ہے، شیخ سعدی کی گلستان اور بوستان ہمار ے نصاب کا حصہ ہوتی تھیں، جو بدقسمتی سے ہماری قدیم روایت اب ختم ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عربی ہماری دینی، فارسی تہذیبی، اردو قومی اور پنجابی ہماری مادری زبان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مغربی یلغار نے ہماری یہ قابل فخر اقدار ہم سے چھین لی ہیں ا ور اب ہم خالی ہاتھ ہو گئے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی میں فردوسی چیئر کے چیئرمین ڈاکٹر آفتاب اصغر نے اس افسوس کا اظہار کیا کہ فارسی سے پاکستانی دور ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہمار ے ہاں فارسی کے مایہ ناز اساتذہ انور مسعود، خواجہ زکریا، ظہیرالحسن عابدی اور دیگر ہوتے تھے، مگر اب یہ زبان پاکستان میں سکڑنا شروع ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب فارسی کو اختیاری مضمون کے طور پر پڑھا جاتا ہے، لیکن اس کا وہ حق ادا نہیں کیا جا رہا جو ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس فرض کی ادائیگی کے لئے ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔
تقریب کے اختتام پر انعامات حاصل کرنے والے خوش نصیوں نے مہمانان گرامی کے ساتھ گروپ فوٹو بنوائے اور خانہ فرہنگ ایران کی اس کاوش کو سراہا۔
خبر کا کوڈ : 111974
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب