0
Sunday 29 Jan 2012 01:01

باچا خان اور ولی خان کی برسی، اے این پی کا پشاور میں جلسہ

باچا خان اور ولی خان کی برسی، اے این پی کا پشاور میں جلسہ
اسلام ٹائمز۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرحوم قائدین باچا خان اور خان عبدالولی خان کی برسی 26 جنوری کو بھرپور انداز میں منائی گئی، اس موقع پر ملک کے مختلف حصوں بالخصوص خیبر پختونخوا میں تقاریب، جلسوں اور اجلاسوں کا انعقاد کیا، جبکہ مرکزی جلسہ پشاور کے طہماش خان سٹیڈیم میں منعقد ہوا، جس کا اہتمام صوبائی تنظیم نے کیا، اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی، وزیراعلٰی خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی، پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی عدیل، صوبائی صدر افراسیاب خٹک، غلام بلور، بشیر بلور اور اسفند یار ولی کی والدہ بیگم نسیم ولی سٹیج پر موجود تھیں، جلسے کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کے بعد پشتو ملی نغمے پیش کئے گئے، بعدازاں عمران آفریدی کے زیر قیادت اے این پی کی ذیلی تنظیم پختون ننگیالے کے چاک وچوبند دستے نے مرکزی قائد کو سلامی پیش کی، سرخ لباس میں ملبوس خواتین رضاکار بھی دستے کا حصہ تھیں۔

طہماش خان سٹیڈیم کا وسیع و عریض احاطہ عوام سے کھچا کچھ بھرا ہوا تھا، جس میں خواتین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے، صبح سے جلسہ شروع ہونے کے بعد تک مرکزی اور صوبائی قائدین اور اراکین اسمبلی کی زیرقیادت جلوسوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، اس موقع پر کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے 1122 کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شمس الحق کی سربراہی میں ریسکیو ٹیم بھی موجود تھی، پختون ننگیالے تنظیم کے سرخ پوش رضاکار جلسہ میں شرکت کرنے والوں کی رہنمائی کرتے رہے، سٹیج کے عقب میں باچا خان، عبدالولی خان اور اسفندیار ولی خان کی قد آور تصاویر کا بینر آویزاں تھا جبکہ سٹیج کے سامنے ''ہم اپنی سرزمین پر امن چاہتے ہیں'' کا جملہ تحریر تھا، پنڈال کے چاروں اطراف مرکزی اور صوبائی قائدین، وزیراعلٰی امیر حیدر خان ہوتی اور دیگر رہنمائوں کی تصاویر کے بینرز بھی لگے ہوئے تھے۔

پنڈال میں اقلیتوں کی بھی ایک بہت بڑی تعداد نظر آئی، جو اپنے اراکین اسمبلی کی قیادت میں آئی تھی، قائدین کی آمد سے قبل معروف فنکار میراوس خان جلسے کے شرکاء کو اپنی شاعری اور چٹکلوں سے محظوظ کرتے رہے، پی ایس ایف کے مرکزی صدر بشیر شیرپائو، صوبائی صدر ماجد خان اور جنرل سیکرٹری ریاض مروت کی زیر قیادت نوجوان وقفے وقفے سے موجودہ حکومت اور اے این پی کے قائدین کے حق میں فلک شگاف نعرے لگاتے رہے، جلسے سے اے این پی کے مختلف صوبائی اور مرکزی رہنمائوں نے خطاب کیا، جب سٹیج سیکرٹری نے وزیراعلٰی امیر حیدر ہوتی کو خطاب کی دعوت دی تو پنڈال نعروں سے گونج اٹھا، لیکن کارکنوں کے بے حد اصرار کے باوجود بیگم نسیم ولی کو خطاب کی دعوت نہ دی گئی، بعدازاں (آخر میں) جب عوامی نیشنل پارٹی کے قائد اسفند یار ولی کو خطاب کیلئے بلایا گیا تو سرخ پوش کارکنوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔

اس موقع پر پرجوش انداز میں خطاب کرتے ہوئے اسفند یار ولی خان نے کہا کہ اے این پی کے کارکن باچا خان کے عدم تشدد کے فلسفے کے پیروکار ہیں اور اسی پر عمل پیرا ہیں، انہوں نے کہا کہ میں عسکریت پسندوں کو کہتا ہوں کہ اگر اس خطے میں اسفندیار ولی خان کے خون سے امن آسکتا ہے تو میں اپنا سر پیش کرنے کو تیار ہوں، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں سینکڑوں کارکنوں کی قربانی دیکر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اے این پی پختونوں کی اصل وارث ہے، ہم اب بھی تمام عسکریت پسندوں سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن ان کو حکومت کی عملداری تسلیم کر کے یہ یقین دلانا ہو گا کہ پاکستان کی سرزمین کو اندرونی یا بیرونی دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں کیا جائیگا، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو خطے میں حقیقی امن و امان کے قیام کیلئے جنگ کے بجائے مذاکرات کا عمل شروع کرنا ہو گا اور دونوں ممالک کو اس بات کی یقین دہانی کرانی ہو گی کہ اپنی سرزمین کو دوسروں کیخلاف استعمال نہیں کیا جائیگا۔

اے این پی کے قائد نے کہا کہ باچا خان اور ولی خان صرف تاریخی نہیں بلکہ تاریخ ساز شخصیتیں ہیں جو آج بھی عوام کے دلوں پر عدم تشدد کے فلسفے کی بدولت حکومت کر رہی ہیں، باچا خان نے عدم تشدد کا فلسفہ بیسویں صدی کے آغاز میں پیش کیا جبکہ ولی خان نے 80ء کی دہائی میں افغان جنگ کے متعلق کہا تھا کہ یہ جنگ ہماری نہیں پرائی ہے، اس وقت ان دونوں رہنمائوں پر غداری اور کفر کے فتوے لگے اور اسی فلسفے کی بنیاد پر ہم نے سوات کے فضل اللہ اور صوفی محمد سے مذاکرات کئے، جس پر ہمیں برا بھلا کہا گیا لیکن آج مغربی قوتیں اور پوری دنیا خود عدم تشدد کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے مذاکرات کر رہی ہے، اسفند یار ولی خان نے جب پشاور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا نام دینے کا اعلان کیا تو عوام نے بھرپور انداز میں اس کا خیرمقدم کیا اور کافی دیر تک جلسہ گاہ پُرجوش تالیوں اور نعروں سے گونجتی رہی۔

اسفند یار ولی کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ملک کا سب سے سپریم ادارہ ہے اور تمام اداروں کو آئین کی مقررہ کردہ حدود میں رہ کر کام کرنا ہو گا، اسی عمل میں جمہوریت کی بقاء ہے، اے این پی کسی بھی غیر جمہوری اور ماورائے قانون اقدام کی حمایت نہیں کریگی، فاٹا کے حوالے سے اسفند یار ولی خان نے کہا کہ قبائلی عوام کو خود اس بات کا فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ خیبر پختونخوا کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا اپنے لئے علیحدہ صوبہ چاہتے ہیں اور وہ جو فیصلہ کرینگے میں اس کو صدق دل سے تسلیم کرونگا، تاہم پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ رواں سال کو فاٹا کے سال کے طور پر منایا جائے اور اس حوالے سے قبائلی علاقہ جات میں تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔

اے این پی کے سربراہ کے خطاب کے بعد جلسے کی کارروائی انتہائی منظم انداز میں اختتام پذیر ہوئی، اور پھر قائدین کے بعد جلسہ میں شریک کارکن بھی پنڈال سے باہر جانا شروع ہو گئے، باچا خان اور خان عبدالولی خان کی برسی کے موقع پر خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت میں شامل پیپلز پارٹی کے اراکین اس جلسہ سمیت صوبہ بھر میں ہونے والی تمام تقریبات سے غیر حاضر رہے، واضح رہے کہ این این پی نے دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بھی جلسہ میں شرکت کی دعوت دی تھی، تاہم پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے تقریبات میں شرکت نہیں کی۔
خبر کا کوڈ : 133580
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے