0
Saturday 11 Feb 2012 21:12

ایران جیسا انقلاب ہر جگہ آنا چاہئے، میاں افتخار حسین

ایران جیسا انقلاب ہر جگہ آنا چاہئے، میاں افتخار حسین
اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و ثقافت میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ ان کے حالیہ دورہ ایران کے موقع پر خیبر پختونخوا اور ایران کے مابین مختلف شعبوں میں کئے گئے معاہدوں سے تعلقات مزید مضبوط و مستحکم ہوں گے، ان معاہدوں کو عملی شکل دینے کے لئے ان کی سربراہی میں ایک اعلٰی سطح کی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈینز ٹریڈ سنٹر پشاور میں انقلاب اسلامی ایران کی 33ویں سالگرہ، میلادالنبی ص اور ہفتہ وحدت کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، تقریب سے ایرانی قونصل جنرل حسن درویش وند اور پریس کلب پشاور کے صدر سیف الاسلام سیفی نے بھی خطاب کیا، صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے، جس کے ساتھ ہمارے مثالی تعلقات ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران پوری دنیا خصوصاً مسلم امہ کے لئے قابل تقلید ہے کیونکہ یہ عوامی خواہشات کا آئینہ دار اور سب کو بلا تفریق اور بلا امتیاز آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کر رہا ہے، اس لئے ایران جیسا انقلاب ہر جگہ آنا چاہئے۔

میلاد النبی ص کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ روئے زمین پر آقائے نامدار حضرت محمد مصطفٰی ص سب سے عظیم اور انقلابی شخصیت ہیں، آپ ص نے کم ترین عرصہ میں ایسا معاشرتی، سماجی اور فکری انقلاب برپا کیا جس کی کوئی مثال نہیں ملتی، انہوں نے کہا کہ آ پ ص تشدد، تنگ نظری اور انتہاء پسندی سے نفرت کرتے تھے اور ہمیشہ اعتدال کی تلقین کی، آپ ص کی پوری زندگی میانہ روی سے گزری، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ص کی تعلیمات صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں آپ ص کو رحمت اللعالمین کہا گیا ہے، صوبائی وزیر نے کہا کہ اسلام کے تیزی سے پھیلنے اور دوسرے مذاہب کے سکڑنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلام اجتہاد کی شکل میں جدیدیت قبول کرتا ہے اور اس کا کسی کلچر سے ٹکرائو نہیں جبکہ دوسرے مذاہب میں یہ خصوصیت نہیں ہے۔ 

ہفتہ وحدت کے حوالے سے میاں افتخار حسین نے کہا کہ آج مسلمانوں کو وحدت کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اسلام دشمن عناصر نے ہمیں فرقوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا دیا ہے، حتٰی کہ ایک دوسرے کو کافر گرداننے پر تلے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم غیر فرقہ ورانہ سیاست کے حامی ہیں اور غیر فرقہ ورانہ سیاست کو تقویت دینا چاہتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 137032
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب