0
Saturday 17 Mar 2012 16:38
ہم نے آج تاريخ رقم کر دی

امریکہ کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کا تعین پارلیمنٹ کریگی، صدر کا پارلیمنٹ سے خطاب

امریکہ کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کا تعین پارلیمنٹ کریگی، صدر کا پارلیمنٹ سے خطاب
اسلام ٹائمز۔ صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کی چار سالہ کارکردگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ صدر مملکت نے کہا کہ آئین کو اسکی اصلی حالت میں بحال کرنا موجودہ حکومت اور پارلیمنٹ کا بڑا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیسیویں آئینی ترمیم کے ذریعے عام انتخابات کو شفاف بنانے اور نگران حکومت کی اتفاق رائے سے تشکیل کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ملک کو درپیش انتہاپسندی اور دہشتگردی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے جانوں کی قربانی دینے والے سیکورٹی فورسز کے افسروں اور اہلکاروں کے ساتھ دھماکوں میں شہید ہونے والے شہریوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کا جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا۔ صدر نے جمہوریت کے تسلسل کو یقینی بنانے پر وزیراعظم گیلانی کو خصوصی طور خراج تحسین پیش کیا۔

صدر نے جمہوریت کو مضبوط بنانے میں حکومت کی اتحادی جماعتوں کے سربراہان اور اپوزیشن کے کردار کو بھی سراہا۔ صدر زرداری نے بلوچستان کی صورتحال اور صوبہ کے عوام کی محرومیاں دور کرنے کیلئے موجودہ حکومت کے اقدامات کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچ سیاسی قیادت کو میز پر لانے اور بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر لانے کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ معاشی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ جس وقت موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کو سنبھالا، برآمدات اور ٹیکس وصولیوں میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا، زرعی شعبے کو سہارا دینے کیلئے کسانوں کو اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 125 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا اور سات ہزار سے زائد برطرف ملازمین کو بحال اور ہزاروں عارضی ملازمین کو مستقل کیا گیا ہے۔

توانائی بحران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال ماضی کی حکومتوں کی پیدا کردہ ہے اور موجودہ حکومت طرف سے بجلی کی پیدوار میں اضافے کے لئے بھاشا ڈیم کی تعمیر، تربیلہ اور منگلا ڈیمز کی توسیع اور چشمہ پاور پراجیکٹ قابل ذکر ہیں، تاہم انہوں نے بڑے زورشور سے شروع کئے گئے رینٹل پاور پروجیکٹ کا ذکر نہیں کیا۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر کے ممالک سے برابری کی بنیاد پر دوستانہ روابط چاہتا ہے۔ انہوں نے چین اور اسلامی ممالک سے دیرینہ دوستانہ روابط کے ساتھ روس اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی حکومتی کوششوں کو سراہا۔ صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مستقبل میں تعلقات کا تعین پارلیمنٹ کرے گی۔

اس سے قبل سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے صدر مملکت کو خطاب کی دعوت دی تو اپوزیشن ارکان نے لوٹ مار بند کرو کے نعرے لگانا شروع کر دیئے، اس پر صدر مملکت مسکراتے رہے۔ اسپیکر نے اپوزیشن ارکان سے نعرے بازی نہ کرنے کی اپیل کی، تاہم مسلم لیگ ن، ہمخیال گروپ، جے یو آئی ف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نعرہ بازی کرتے رہے اور بیس منٹ بعد واک آؤٹ کر گئے۔ اس کے بعد صدر زرداری نے اپنا خطاب کسی خلل کے بغیر مکمل کیا اور حکومتی ارکان ان کے ہر جملے پر ڈیسک بجا کر داد دیتے رہے، اس سے پہلے صدر زرداری جیسے ہی خطاب کے لیے آئے تو مسلم لیگ (ن) کی تہمینہ دولتانہ نے ان کے سامنے پلے کارڈ لہرانے کی کوشش کی تو وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے انتہائی چابک دستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے کتبہ چھین کر پھاڑ دیا۔ صدر کا خطاب سننے کے لئے تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور غیر ملکی سفراء بھی موجود تھے۔ 

دیگر ذرائع کے مطابق صدر آصف زرداری نے آئندہ سال کو انتخابات کا سال قرار دیا اور کہا کہ حکومت الیکشن کو صاف اور شفاف بنائے گی۔ صدر نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سیاسی دانش کو خراج تحسین پیش کیا۔ ماضی کی زیادتیوں پر ایک بار پھر بلوچستان کے عوام سے معافی مانگ لی۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم نے بے شمار چیلنجز کا مقابلہ کیا اور آگے بڑھتے رہے، انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے قانون کی بالادستی اور آئین کی حکمرانی کو یقینی بنایا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے اٹھارہ وزارتیں صوبوں کے حوالے کیں، تاکہ صوبائی خود مختاری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اپنے اختیارات وزیراعظم کو تفویض کئے تاکہ وہ بااختیار ہو سکیں۔ 

صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جمہوری حکومت نے مشکلات کے باوجود لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ صدر مملکت نے کہا ہے کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ جمہوریت کا سفر جاری ہے. انہوں‌ نے کہا کہ ہماری حکومت شفاف اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنائے گی۔ کنکرنٹ لسٹ ختم کی اور صوبائی مختاری کی طرف گئے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں‌ ریاست کی رٹ چیلنج نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں ‌نے کہا کہ وزیراعظم کی سیاسی دانشمندی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام سے ایک پھر ماضی کی غلطیوں‌ پر معافی مانگی۔ صدر زرداری واحد جمہوری صدر ہیں ‌جنہیں‌ مسلسل پانچویں‌ مرتبہ ایک ہی پارلیمنٹ سے خطاب کرنے کا موقع ملا۔

واضح رہے کہ حکومت کے ابتدائی چار سال کے دوران پارلیمنٹ کے دس مشترکہ اجلاس ہو چکے ہیں۔ 20 ستمبر 2008ء کو صدر زرداری نے پارلیمنٹ کے پہلے مشترکہ اجلاس سے پہلی بار خطاب کیا تھا۔ 8 سے 22 اکتوبر 2008ء کو ہونے والے مشترکہ ان کیمرہ اجلاس میں قومی سلامتی کے امور پر بریفنگ دی گئی۔ صدر زرداری نے 28 مارچ 2009ء کو ہونے والے تیسرے مشترکہ اجلاس سے اپنا دوسرا خطاب کیا۔ 26 اکتوبر 2009ء کو ہونے والے مشترکہ اجلاس سے ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے خطاب کیا۔ 24 نومبر 2009ء کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے آغاز حقوق بلوچستان پیکج کا اعلان کیا جبکہ 7 سے 9 دسمبر 2009ء کے مشترکہ اجلاس میں بلوچستان پیکج پر بحث کی گئی۔
5 اپریل 2010ء کو ہونے والے ساتویں مشترکہ اجلاس سے صدر زرداری نے اپنا تیسرا خطاب کیا۔ 19 دسمبر 2010ء کو ہونے والے مشترکہ اجلاس سے چین کے وزیراعظم وین جیا باؤ نے خطاب کیا۔ 22 مارچ 2011ء کو ہونے والے نویں مشترکہ اجلاس سے صدر زرداری نے اپنا چوتھا خطاب کیا جبکہ 17 مارچ 2012ء کو ہونے والے آخری مشترکہ اجلاس کے دوران عسکری قیادت نے ایبٹ آباد میں یکطرفہ امریکی آپریشن کے بارے میں ان کیمرہ بریفنگ دی۔
خبر کا کوڈ : 146294
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے