0
Tuesday 6 Apr 2010 12:01

تیمر گرہ خودکش حملہ،50 افراد کی نماز جنازہ،5 گرفتار

تیمر گرہ خودکش حملہ،50 افراد کی نماز جنازہ،5 گرفتار
تیمرگرہ:اسلام ٹائمز-اے آر وائی نیوز کے مطابق لوئر دیر کے ہیڈ کوارٹر تیمر گرہ میں اے این پی کی ریلی میں خودکش حملے میں جاں بحق ہونے والے پچاس افراد کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ضلع میں دو ماہ کے لئے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر دی گئی،جس کے تحت جلسے جلوسوں اور عوامی اجتماعات پر پابندی ہے،خودکش حملے کے الزام میں پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 53 ہو گئی ہے جبکہ ستر سے زائد زخمی ہیں،جن میں سے چالیس کو پشاور منتقل کر دیا گیا ہے،گزشتہ روز ہونے والے خودکش حملے کے بعد علاقے میں فضا سوگوار ہے،جبکہ سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیئے گئے،خودکش حملے میں مرنے والوں میں اے این پی لوئر دیر کے جنرل سیکرٹری محمد اعظم خان،ان کے دو کزن اور محافظ بھی شامل ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے،صوبے کے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں تعزیتی پروگرام منعقد کئے جا رہے ہیں،عمارتوں پر عوامی نیشنل پارٹی کا پرچم سرنگوں ہے۔
روزنامہ نوائے وقت کے مطابق تیمرگرہ میں اے این پی کے جلسہ میں خودکش دھماکہ میں 56 افراد جاں بحق اور 80 سے زائدشدید زخمی ہو گئے،جاں بحق ہونے والوں میں اے این پی کا مقامی رہنما ملک سلطان زیب شامل ہے۔زخمیوں کو تیمرگرہ ہسپتال میں داخل کر دیا گیا،ہسپتال میں جگہ کم پڑنے پر زخمیوں کو فرش پر لٹا کر طبی امداد فراہم کی گئی،واقعات کے مطابق صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کی خوشی میں گذشتہ روز اے این پی ضلع دیر پائین کے کارکنوں اور رہنماوں نے تیمرگرہ میں جلوس نکالا اور ضلع کونسل ریسٹ ہاوس میں جلسہ منعقد کیا،جلسہ سے ضلعی رہنماوں کی تقاریر جاری تھی کہ دوپہر 12 بجے 14، 15 سالہ نوجوان خودکش حملہ آور جس نے سیاہ رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھا،ریسٹ ہاوس میں داخل ہوا اور پنڈال میں پہنچتے ہی بلند نعرہ لگاتے ہوئے خود کو اڑا دیا، جس سے زوردار دھماکہ کے نتیجے میں 15 افراد موقع پر جاں بحق جبکہ درجنوں شدید زخمی ہو گئے،زور دار دھماکہ سے جلسہ گاہ میں بھگدڑ مچ گئی اور دھماکے کی آواز سن کر پولیس کی موبائل گاڑیاں جائے وقوعہ پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں،بعد میں محکمہ صحت اور رضاکار تنظیموں کی ایمبولینس گاڑیاں اور کارکنان بھی بڑی تعداد میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔انہوں نے زخمیوں اور نعشوں کو گاڑیوں میں ڈال کر تیمرگرہ ہسپتال پہنچا دیا،جہاں آخری اطلاعات آنے تک 56 سے زائد افراد جاں بحق اور 80 کے لگ بھگ شدید زخمی ہوئے ہیں۔مرنے والوں میں 11 افراد کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ باقی ماندہ کے نام اور سکونت معلوم نہیں ہو سکی،زخمیوں میں کئی پولیس اہلکار اور تیمرگرہ کا مقامی صحافی بہرہ مند سید بھی شامل ہے،اکثر زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
دھماکہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ حکام نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور ہسپتال جا کر طبی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی،بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ہسپتال پہنچ کر حالات کنٹرول کئے جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد میں زخمیوں کو خون دینے اور امدادی کارروائیوں کے لئے ہسپتال پہنچی دھماکے کے فوراً بعد تیمرگرہ میں موبائل فون سروس کی نیٹ ورک بھی خراب ہو گئی جس سے عوام کو اپنے احباب،دوستوں کی تلاش اور خیریت دریافت کرنے میں سخت مشکلات اور دشواریوں کا سامنا رہا،جائے وقوعہ اور تیمرگرہ ہسپتال میں زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث قیامت صغرٰی کا منظر تھا جبکہ ہسپتال کی ایمرجنسی اور وارڈ زخمیوں کے خون سے رنگ برنگے ہو چکے تھے۔
ادھر تیمرگرہ بم دھماکہ کے فوراً بعد قرب و جوار کے تعلیمی ادارے اور تیمرگرہ بازار کو بند کر دیا گیا دھماکہ کی اطلاع ضلع بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے سے والدین کو سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی فکر پڑ گئی،زخمیوں اور ہلاک شدگان کے لواحقین اپنے پیاروں کو جائے وقوعہ اور ہسپتال میں دیوانہ وار ڈھونڈتے رہے۔خبررساں ایجنسیوں کے مطابق زخمیوں میں سینیٹر زاہد خان کا بھائی بھی شامل ہے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور اس کی آواز دور دور تک سنائی دی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق جلسے میں آٹھ سو کے قریب افراد موجود تھے۔
پولیس اہلکار نیک بہادر نے بتایا کہ گذشتہ روز بارہ بجے کے قریب لوئر دیر کے صدر مقام تیمر گرہ کے ریسٹ ہاوس میں اے این پی کے جلسے میں اس وقت ایک خودکش دھماکہ ہوا جب خیبر پختونخوا کی خوشی میں لوگ دور دور سے آ کر جشن منا رہے تھے۔نیک بہادر نے کہا کہ خودکش حملہ آور پیدل تھا اور رش کے دوران ریسٹ ہاوس میں داخل ہو گیا۔ادھر اے این پی کے ترجمان زاہد خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوئر دیر میں ہمارے کارکن خوشی منا رہے تھے،لیکن پختونخوا اور پاکستان کے دشمنوں نے جلسے کے اندر دھماکہ کر دیا ہے،واقعہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردوں کا اسلام اور انسانیت سے تعلق نہیں اور انہوں نے خوشی کے لمحات کو غم میں بدلنے کی کوشش کی ہے،انہوں نے کہا کہ دھماکہ کرنے والے انگریز کے وہی پٹھو ہیں جو اس قوم اور ملک کو تباہی کی جانب لے جانا چاہتے ہیں اور اپنے چھوٹے مفادات کی خاطر قوم اور ملک کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 23150
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش