0
Monday 11 Feb 2013 23:46

ایران میں آنیوالا انقلاب شیعی نہیں اسلامی ہے، علامہ سید جواد نقوی

ایران میں آنیوالا انقلاب شیعی نہیں اسلامی ہے، علامہ سید جواد نقوی
اسلام ٹائمز۔ لاہور کے علاقہ شادمان کے قومی مرکز میں انقلاب اسلامی ایران کی سالگرہ کی مناسبت سے سیمینار بعنوان ’’انقلاب جو آ چکا، انقلاب جو آنا ہے‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے پرنسپل، ممتاز عالم دین علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران دشمنوں کی ہزاروں سازشوں کے باوجود آج بھی قائم و دائم ہے اور تاقیامت قائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی نور ہے اور یہ نور، نور حقیقی کے ظہور تک قائم رہے گا اور پر حضرت حجت(ع) کے نور میں شامل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تبدیلی کی ہر لہر کو انقلاب سے تعبیر کر دیا جاتا ہے، ہر تبدیلی کو انقلاب کہنا درست نہیں، انقلاب اسلامی، عالم اسلام کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب ایک خاص آئیڈیالوجی کے تحت سیاسی نظام، معاشی نظام اور دیگر پورے سسٹم میں تبدیلی لانے کو کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی یکسر رونما ہوتی ہے، جو عمومی تبدیلی ہوتی ہے وہ اصلاحات ہوتی ہیں، انقلاب نہیں، لیکن پاکستان میں ایسے ہر تبدیلی کو انقلاب کہہ دیا جاتا ہے جس سے کچھ لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انقلاب میں شائد ان کا جینا مشکل ہو جائے گا۔

علامہ سید جواد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی ایران کو پہلے دن سے ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، انقلاب کے بعد جو پہلی عبوری حکومت قائم کی گئی اس میں ایسے لوگ نہیں تھے جو نظریاتی طور پر انقلاب کو مضبوط بنا سکتے، اس کے علاوہ زد انقلاب لوگوں کی کثیر تعداد تھی ایران میں جنہوں نے کوشش کی کہ یہ انقلاب ختم کر دیا جائے اور ایران سمیت دنیا بھر کے سیاسی نجومیوں نے انقلاب اسلامی کی عمر صرف چھ ماہ بتائی، ان کا کہنا تھا کہ انقلاب بس چھ ماہ سے زیادہ نہیں چل سکے گا اور ختم ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا اور آج آپ نے دیکھا کہ انقلاب اپنے جوبن پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے انقلاب اسلامی سے قبل دو انقلاب وارد ہو چکے تھے، ایک انقلاب فرانس اور دوسرا انقلاب روس۔ فرانس کے انقلاب نے پوری دنیا پر اپنے اثرات مرتب کئے اور اس سے بہت سے ممالک میں جمہوری حکومتیں قائم ہوئیں۔ اس کے بعد روسی انقلاب نے پوری دنیا میں سوشلزم اور کمونزم کو فروغ دیا۔ روسی انقلاب کے اثرات ہی تھے کہ ہر طرف کیمونزم کی باتیں ہونے لگیں اور بہت سے ممالک میں کمیونسٹ حکمران برسر اقتدار آ گئے۔ اس انقلاب کی وجہ سے دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی حتی ٰ یورپ بھی دو حصوں میں بٹ گیا۔

علامہ جواد نقوی نے کہا کہ روسی انقلاب نے جب دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تو ایک شرقی اور دوسرا غربی حصہ بن گیا، اسی لئے امام خمینی (رہ) نے فرمایا کہ ’’لاشرقیہ، لاغربیہ، الاسلامیہ الاسلامیہ‘‘ امام خمینی (رہ) نے اسلام کی بات کی اور دنیا میں تیسرا انقلاب ایران کا اسلامی انقلاب ہے۔ اس انقلاب نے دنیا پر وہ اثرات مرتب نہیں کئے جو ہونے چاہئے تھے، ایک تو پہلے دن سے ہی اسے شیعہ انقلاب کہہ کر سنی مسلمانوں کو ڈرا دیا گیا کہ یہ شیعہ انقلاب ہے جس میں سنی مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہو گی لیکن امام خمینی(رہ) نے دشمنان انقلاب کے اس نظریے کو بھی رد کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ امام خمینی(رہ) نے پوری دنیا میں بتایا کہ یہ انقلاب شیعی نہیں بلکہ اسلامی ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک نے اس بات کا اعتراف کیا۔ اس کے علاوہ انقلاب اسلامی ایران کے زیادہ اثرات مصر اور پاکستان میں پڑنے چاہئے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پاکستان میں شیعہ قوم نے بھی اس انقلاب کا ادراک نہیں کیا۔ ہاں البتہ جب تک شہید عارف حسین الحسینی تھے، وہ انقلاب کی روشنی یہاں پھیلا رہے تھے، دشمن نے ادراک کر لیا کہ اگر یہ بندہ رہا تو انقلاب کے اثرات عوام تک پہنچ جائیں گے اس لئے انہیں راستے سے ہٹا دیا گیا۔ اسی طرح مصر میں بھی انقلاب کو اثرانداز نہیں ہونے دیا گیا۔

علامہ سید جواد نقوی نے مزید کہا کہ انقلاب کو باہر کے دشمنوں کے ساتھ ساتھ گھر سے بھی دشمن مل گئے اور ایسے لوگ جو شاہ کے وفادار تھے انہوں نے انقلاب کی راہ میں روڑے اٹکائے اور ایسے زد انقلاب لوگ اب بھی ایران میں موجود ہیں حتیٰ کہ ایک سیکولر مائینڈ آدمی تو صدارت کے عہدے تک پہنچ گیا اور اس کے دور صدارت میں پاکستان کے سب سے بڑے اردو اخبار میں انقلاب اور ولایت فقہیہ کے خلاف ایرانی قونصلیٹ کی جانب سے کالم لکھوائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ امریکا میں ایسے ایرانیوں کی کثیر تعداد موجود ہے جو انقلاب کے خلاف مصروف عمل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انقلاب کی ناکامی کے لئے سی آئی اے، بلیک واٹر اور ان جیسی اور بہت سی دہشت گرد تنظیمیں اور ایران میں مجاہدین خلق ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں لیکن انہیں کامیابی نہیں مل رہی۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی کے حقیقی مقاصد سے آشنا ہونے کی ضرورت ہے جس دن ہمیں انقلاب اسلامی کے مقاصد کا علم ہو گیا اس دن پاکستان کے مسائل اور بحران ختم ہو جائیں گے۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں جو بھی حکومت آتی ہے وہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والی بات ہوتی ہے وہ مسلمان ہو کر سیکولر بننے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسا کرنے والوں کا انجام ترکی کی طرح ہوتا ہے جو غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہیں۔
خبر کا کوڈ : 238946
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے