0
Sunday 2 Jun 2013 21:06

انقلاب اسلامی ایران دراصل قیام امام حسین (ع) کا پرتو اور آغازِ انقلاب مہدویت ہے، مقررین

انقلاب اسلامی ایران دراصل قیام امام حسین (ع) کا پرتو اور آغازِ انقلاب مہدویت ہے، مقررین
رپورٹ: ایس زیڈ ایچ جعفری 

بانی انقلاب اسلامی ایران امام امت حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی برسی کے موقع پر کراچی سمیت ملک بھر میں مختلف تقریبات، سیمینارز، کانفرنسز، اجتماعات، مجالس عزا کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی سلسلے میں برسی امام امت امام خمینی (رہ) کی مناسبت سے شہر قائد میں مختلف شیعہ تنظیموں کی جانب سے مرکزی اجتماع بریٹو روڈ سولجر بازار میں منعقد کیا گیا۔ اجتماع سے اصغریہ آرگنائزیشن کے سرپرست حجتہ السلام و المسلمین علامہ حیدر علی جوادی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی شوریٰ عالی کے سربراہ حجتہ السلام والمسلمین علامہ شیخ محمد حسن صلاح الدین، معروف اہلسنت عالم دین اور متحدہ علماء محاذ پاکستان کے چیئرمین مفتی اسلم نعیمی، حجتہ السلام و المسلمین علامہ سید علی مرتضٰی زیدی، حجتہ السلام و المسلمین علامہ عقیل ساقی و دیگر نے خطاب کیا جبکہ علی دیپ رضوی نے اپنے کلام کے ذریعے امام خمینی (رہ) کو نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ برسی امام خمینی ﴿رہ﴾ کے مرکزی اجتماع میں ایران سے خصوصی طور پر تشریف لانے والے قاری جناب ولی اللہ احمدی پور کی انہتائی خوش الحان تلاوت قرآن پاک نے اجتماع کی روحانیت میں مزید اضافہ کر دیا۔ مرکزی اجتماع امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، مجلس وحدت مسلمین، ناصران امام فاونڈیشن، امامیہ آرگنائزیشن، ہیئت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان اور اصغریہ آرگنائزیشن کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقد کیا گیا تھا۔ اجتماع میں خواتین و حضرات کثیر تعداد میں شریک تھے۔ اس موقع پر مختلف تنظیموں نے اسٹالز لگا رکھے تھے۔

برسی امام خمینی (رہ) کے مرکزی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ حیدر علی جوادی نے کہا کہ اسلام میں گوشہ نشینی کی کوئی گنجائش اور جگہ نہیں ہے۔ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے میدان کربلا میں اپنے اور آل و اصحاب کے خون سے آبیاری کرکے اسلام کا دوبارہ احیاء کیا ہے۔ کربلا کے بعد آج تک تاریخ میں جب بھی اسلام پر مشکل وقت آیا عاشقان مولا امام حسین (ع) نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر اس کی حفاظت کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں اسلام گم ہو چکا تھا، اسلام کو بھلایا جا چکا تھا، اسلامِ ناب کی جگہ اسلامِ غلامیہ، اسلام امریکائی نے لے لی تھی مگر امام خمینی (رہ) نے ایران میں انقلاب اسلامی برپا کر کے نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا میں اسلام ناب محمدی کا احیاء کر دیا جس کے اثرات تیزی سے پھیل کر اسلام امریکی کو ہر جگہ نابود کرتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انقلاب اسلامی ایران نے تمام مستضعفین جہاں کو ہمت و حوصلہ دیا، جس کے باعث انہوں نے عالمی استعمار و استکبار سے پنجہ آزمائی شروع کی اور اس کے نتیجے میں اقوام عالم کی طاغوت مخالف بیداری میں روز بروز تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ علامہ حیدر علی جوادی کا مزید کہنا تھا کہ افریقہ سے لے کر ایشیاء تک دنیا میں جب بھی کسی مظلوم پر ظلم و ستم ہوتا ہے تو وہ خمینی زمان کو تلاش کرتا ہے، خدا سے خمینی عطا کرنے کیلئے دعا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جب کہ امام خمینی رحلت فرما چکے ہیں تو ہمیں چاہیئے کہ انکے افکار سے استفادہ کرکے حقیقی معنوں میں جدوجہد کرتے ہوئے اسلام ناب محمدی کا دفاع کریں کیونکہ ہم جسم پرست نہیں بلکہ افکار پرست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج الحمدللہ رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای، خمینی دیگر کی صورت میں ہماری ویسے ہی رہنمائی فرما رہے ہیں کہ جیسے امام خمینی فرمایا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کل بھی جب امریکہ نے ایران پر حملے کی دھمکی دی تو خمینی بت شکن نے کہا تھا کہ تم حملہ کرو گے، سب سے پہلے میں میدان شہادت میں جنگی لباس میں حاضر ہوں گا۔ آج بھی رہبر معظم سید علی خامنہ ای کے الفاظ فضاء میں گونج کر دشمنان اسلام پر لرزا طاری کرتے ہیں کہ تم حملہ کرو سب سے پہلے مجھے جنگی لباس میں میدان حسینیت میں حاضر پاﺅ گے۔ انہوں نے کہا کہ فرزندانِ بی بی سیدہ فاطمہ زہرا خمینی و خامنہ ای کی حسینی سیرت کا اثر ہے کہ پوری دنیا میں اسلام ناب محمدی کے حقیقی پیروکار عالمی استعمار امریکا اور صیہونیت اسرائیل کے مقابلے میں کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے نہیں گھبراتے اور مسلسل ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر ہمیں قومیت، صوبائیت، لسانیت سمیت مختلف تعصبات میں جلانے کی سازش کی جا رہی ہے جس کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ لہٰذا ہر خاص و عام خصوصاَ علماء اور تنظیموں پر سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس قسم کی کسی بھی سازش کو پاکستانی عوام میں کامیاب نہیں ہونے دیں۔

علامہ علی مرتضیٰ زیدی نے برسی امام خمینی (رہ) کے مرکزی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب لوگ دین کے نام پر ذاتی تقویٰ و پرہیزگاری پر اصرار کر رہے تھے جو کہ بہت ضروری تھا مگر اس کے نتیجے میں دین اسلام خشک مقدسی کی طرف جا رہا تھا مگر معاشرتی عدل و انصاف کی بات نہیں ہو رہی تھی۔ امام خمینی (رہ) نے اس طرز فکر و عمل کو تبدیل کردیا، عوام و خواص کو انبیاء کے راستے پر گامزن کر دیا جو کہ معاشرے کی تبدیلی کا راستہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب اسلامی ایران کا براہ راست پاکستان کے اہل تشیع و اہل تسنن پر بہت گہرا اثر ہوا اور اس وقت ہر دو کی زبان پر یہ نعرہ عام ہو گیا تھا کہ پاکستان کو بھی ایک خمینی کی ضرورت ہے۔ مگر استعمار نے بہت زیادہ محنت کر کے ہمارے درمیان سے اس نعرے کو ختم کر دیا۔ علامہ علی مرتضیٰ زیدی نے کہاکہ عوام اور روحانیت کا جو خاص رابطہ ہونا چاہیئے وہ ابتک بدقسمتی سے ہم پاکستان میں قائم نہیں کر سکے ہیں، اس کے اوپر بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے، ادارے بننے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے اندر جو بنیادی دینداری تھی، اس میں کمی نظر آ رہی ہے۔ عوام میں دینداری کی کمی کو ختم کرنے کیلئے بھرپور تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ علامہ مرتضیٰ زیدی کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے جو لوگ مختلف حوالوں سے فعال ہیں جن میں دفاعیات، قومیات، علم، تحریک، تبلیغات، فلاح و بہبود وغیرہ شامل ہیں، ان سب کے درمیان رابطے کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اس حوالے سے معاہدوں کی پابندی کا خیال رکھنا بہت اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آج بھی ہم نے منصوبہ بندی نہیں کی، ترجیحیات کا تعین نہیں کیا تو پھر ہم کسی بھی کام کو مقصد کو آگے بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے، غلط جگہوں پر سرمایہ کاری کرتے چلے جائیں گے اور نتائج کم نکلیں گے۔

معروف اہلسنت عالم دین اور متحدہ علماء محاذ پاکستان کے چیئرمین مفتی اسلم نعیمی نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ اس وقت اتحاد امت اور وحدت و بیداری مسلمین کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ آج دشمنان اسلام و قرآن ساری دنیا میں یکجا ہو کر شعائر اسلام پر حملہ آور ہے۔ اس کا جواب فقط اور فقط امام خمینی (رہ) کے انقلاب اسلامی سے درس حاصل کرتے ہوئے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلمان تو کیا غیر مسلم بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ ہمیں خمینی کی ضرورت ہے جو آ کر عالمی استکبار، استعمار و طاغوت سے ہمیں چھٹکارا دلائے اور ہم اس کی سربراہی و رہنمائی میں ظالم جابر کے مقابلے میں ڈٹ جائیں۔ انہوں نے کہاکہ آج علمائے عالم اسلام کو چاہئیے کہ کردار خمینی اپناتے ہوئے حقیقی معنوں میں امت کی رہبریت کی ذمہ داری کو انجام دیتے ہوئے اتحاد و وحدت مسلمین قائم کریں، جس کے بغیر طاغوت کا مقابلہ ممکن نہیں ہے۔ مفتی اسلم نعیمی نے مزید کہا کہ اس وقت عالمی استعمار امریکہ و اسرائیل کی پوری کوشش ہے کہ مسلمانان عالم کو باہم دست و گریباں کرکے ایک ایک کرکے تمام اسلامی ممالک اور انکے وسائل پر قابض ہو جائیں اور اسلام کو نابود کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام سازشوں کا تسلسل ہمیں پاکستان کی سرزمین پر بھی نظر آیا مگر پاکستان کے سنی شیعہ مسلمانوں نے بیداری و ہوشمندی کاثبوت دیتے ہوئے ہر بار استعمار کی فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کو ناکام بنایا ہے اور ہمیشہ اہنے اتحاد و وحدت سے ناکام بناتے رہیں گے۔

برسی امام خمینی کے مرکزی پروگرام کے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے علامہ شیخ محمد حسن صلاح الدین نے کہا کہ ہمیں چاہیئے کہ امام خمینی کی انقلابی تحریک کو فقط جلسے جلوسوں تک محدود نہ کریں، صرف تقاریر کرنے اور سننے تک ان کی یاد منانے تک محدود نہ کریں بلکہ امریکی اسلام کی نابودی کیلئے امام خمینی (رہ) کی اسلام ناب محمدی کی تحریک سے سبق حاصل کرتے ہوئے عملی طور پر حقیقی معنوں میں اس تحریک حسینیت کا حصہ بن جائیں جو دراصل کربلا میں قیام امام حسین (ع) کا پرتو ہے اور آغازِ انقلاب مہدویت ہے۔ برسی امام خمینی کے مرکزی اجتماع کا اختتام علامہ شیخ محمد حسن صلاح الدین نے دعا سلامتی امام زمانہ ﴿عج﴾ کی تلاوت سے کیا۔
خبر کا کوڈ : 269996
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب