2
0
Wednesday 23 Oct 2013 14:22

ضلع جھنگ کے بعد رحیم یار خان کالعدم لشکر جھنگوی کا گڑھ بن گیا!!!

ضلع جھنگ کے بعد رحیم یار خان کالعدم لشکر جھنگوی کا گڑھ بن گیا!!!
رپورٹ: مہدی خان

ضلع رحیم یار خان جو ماضی میں بدترین دہشتگردی اور فرقہ وارانہ واقعات کے باوجود محفوظ شہر قرار دیا جاتا تھا اب آتش فشاں کے دہانے پر ہے۔ کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق تیلی کی رہائی اور پنجاب حکومت کی اعلانیہ پشت پناہی نے اس ضلع کے امن کو تہ و بالا کردیا ہے۔ اس وقت شہر نہ صرف غیر محفوظ بن گیا ہے بلکہ ہر کسی کیلئے خوف کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ شہر کی در و دیوار اس وقت کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کی وال چاکنگ سے بھرا پڑا ہے۔ انتظامیہ انتی بےبس ہے کہ اس وال چاکنگ کو مٹانے کی کوئی جرات تک نہیں کر سکتا۔ جبکہ شہر کے قلب میں تقریباً ہر کھمبے پر سپاہ صحابہ کے جھنڈے ہر آنے والے کو پیغام دے رہے ہیں کہ اب اس شہر پر کس کا راج ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک میں مسلم لیگ ن اور سپاہ صحابہ کی مخلوط حکومت ہے جس کے باعث شہر کے ڈی پی او سے لیکر ایس ایس پی کالعدم جماعت کے جلسوں اور ریلیوں کو منعقد کرانے میں نہ صرف تعاون فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں ہر طرح کے سہولیات سے بھی نوازہ جاتا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ شہر میں ہونے والے کالعدم جماعت کے جلسے اور ریلیاں ماضی کی نسبت کئی گنا بڑی اور افرادی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔


گذشتہ سالوں میں کالعدم جماعت کے جن جلسوں میں بمشکل پانچ سو افراد جمع ہوتے تھے اب ان پروگراموں میں ہزاروں کی شرکت ہوتی ہے۔ رواں ماہ تین اکتوبر کا جلسہ اس بات کی دلیل ہے کہ کالعدم جماعت نے دوبارہ اپنا نیٹ ورک مضبوط بنا لیا ہے اور اس کی جڑی نچلی سطح تک منتقل کی جارہی ہیں۔ ضلع رحیم یار خان کی جس تحصیل میں چلے جائیں کالعدم جماعت کے دفتر، وال چاکنگ اور جگہ جگہ جھنڈے واضح پیغام دے رہے ہیں کہ اس جماعت کو حکومتی سرپرستی حاصل ہے۔ 3 اکتوبر کو سپاہ صحابہ نے رحیم یارخان سٹی میں دفاع صحابہ کے نام پر کانفرنس کرائی گئی جو اس بار مسجد کے بجائے سکول گراونڈ میں منعقد ہوئی۔ ایک اندازے کے مطابق، تقریباً10 ہزار سے زائد افراد کو اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کیلئے جمع کیا گیا۔ ضلعی انتظامیہ نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے خصوصی معاونت کی۔ اس پروگرام کیلئے خصوصی ٹرانسپورٹ کا بھی اہتمام کیا گیا جبکہ کالعدم جماعت کی مرکزی قیادت سے لیکر تمام ضلعی قیادت اسٹیج پر موجود تھی۔ مصور نواز جھنگوی سے لیکر غلام رسول تک تمام افراد نے خصوصی شرکت کی۔ حد تو یہ ہے کہ کانفرنس رات بھر جارہی اور لوڈ اسپیکر کا کھلا استعمال کیا گیا۔ ساری رات تکفیری نعرے گونجتے رہے لیکن اتنظامیہ کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور اسے کچھ سنائی نہیں دیا۔ پورا شہر کافر کافر کے نعرے سنتا رہا، جبکہ مکتب اہل بیت (ع) سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی بے بسی کا نوحہ پڑھتے رہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اسی روز صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ بھی رحیم یار خان میں موجود تھے اور کالعدم تنظیم کے رہنماؤں سے ملتے رہے لیکن یہ بات نہ تو میڈیا نے اٹھائی اور نہ ہی کسی اور نے اس پر احتجاج کیا۔



حماد اللہ مدنی کی طرف سے کانفرنس میں پیش کی گئی قرار داد قارئین کو واضح کر دینے کیلئے کافی ہے کہ ان دہشتگردوں کا ایجنڈا کیا ہے۔ ملک میں خلافت راشدہ کا نظام لایا جائے، خفیہ ایجنسیاں لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں، پاکستان میں امریکی اور ایرانی مداخلت بند کی جائے، عراق، شام اور مصر میں شیعہ حکومتیں عوام کا قتل عام کر رہی ہیں، حکومت پاکستان اس قتل عام کو بند کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے، خلفاء راشدین کے ایام پر عام تعطیل کی جائے، ملک اسحاق کو فی الفور رہا کیا جائے، گستاخ صحابہ کی سزا موت قرار دی جائے اور اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔ ملک بھر میں شیعہ ازان کو بند کرایا جائے اور شیعوں کو قادیانیوں کی طرح غیرمسلم قرار دیا جائے، اس قرار داد کا حصہ تھا۔ کانفرنس کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ ملک اسحاق کو رہا نہ کیا گیا تو ملک بھر میں گرفتاریاں دی جائیں گے اور اہم شاہرائیں بلاک کر دی جائیں گی، اس تحریک آغاز کا رحیمیار خان سے کیا جائے گا جہاں 100افراد اپنی گرفتاریاں دیں گے۔



شہر میں مکتب اہل بیت علیہ السلام سے تعلق رکھنے والے افراد کا دن بدن گھیر ا تنگ کیا جا رہا ہے۔ کالعدم سپاہ صحابہ کی جانب سے شہر میں بیسیوں سالوں سے جاری مجالس عزا کو بند کرایا جارہا ہے اور جہاں کہیں کوئی مجلس ہوتی ہے تو ملک اسحاق کا بیٹا دہشتگردوں کا جھتا لیکر وہاں پہنچ جاتا ہے اور نقص امن کا شوشا چھوڑ کر مجلس عزا رکوا دی جاتی ہے۔ رکن پور، سردار گڑھ اور خان بیلہ میں کئی سالانہ مجالس رکوا دی گئیں لیکن اس پر کسی شیعہ جماعت کی طرف سے کوئی احتجاج یا انتظامیہ پر پریشر نہیں ڈالا گیا۔ شیعہ علماء کونسل کے صدر شیخ منظور اور ان کے صاحبزادے کے بیہمانہ قتل کے بعد شہر کی فضاء جہاں آج بھی سوگوا رہے وہیں خوف کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ شیخ منظور اور ان کے صاحبزادے حیدر کے قتل کی ایف آئی آر نامعلوم افراد کیخلاف کٹوائی گئی۔ جبکہ ہر بندہ جانتا ہے کہ اس دہشتگردی میں ملک اسحاق کا بیٹا عثمان ملوث ہے مگر مقامی شیعہ قیادت اس دہشتگرد کا نام تک نہیں لینا چاہتی یا پھر خوف اتنا ہے کہ کوئی بھی دہشتگردوں کے خلاف سامنے آنے کیلئے تیار نہیں۔ یار رہے کہ پندرہ جنوری 2011ء میں بھی چہلم امام حسین علیہ السلام کے موقع پر بم دھماکہ میں اکیس افراد شہید ہوگئے تھے لیکن ان کے قاتل آج بھی آزاد ہیں اور کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی ان کیسز کی کوئی پیروی کرنے والاہے۔ اخباری بیانات اور جلسوں میں تقریریں اپنی جگہ لیکن عملی اقدام کہیں نظر نہیں آتا۔

ضلعی پولیس افسر کے ایک قریبی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر ''اسلام ٹائمز'' کو بتایا کہ شام میں دہشتگرد بھجوانے میں رحیم یار خان میں ملک اسحاق گروہ فعال رہا ہے، تقریباً اپنے حلقہ احباب کی ہر مسجد میں اس حوالے سے خصوصی پروگرام کرائے گئے اور لوگوں کو شام کے محاذ پر جانے کی ترغیب دی گئی۔ یوں قوی امکان ہے کہ اس شہر سے بھی ایک تعداد جہاد کے نام پر لڑنے گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ضلعی افسران کو ملک اسحاق اور اس کے صاحبزادے کی سکیورٹی کی خصوصی ہدایت ہے، پولیس اہلکاروں کے علاوہ ایلیٹ فورس کے اہلکار بھی سکیورٹی پر مامور ہیں۔ جبکہ شیعہ شخصیات جو دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں ان کی سکیورٹی کیلئے کسی اہلکار کو تعینات نہیں کیا گیا۔ شہر میں ملک اسحاق کے بیٹے عثمان معاویہ اکثر و بیشتر کھلے عام اسلحہ کی نمائش کرتا ہے اور درجنوں گاڑیوں کے ہمراہ شہر کا دورہ کرتا ہے۔ اس دوران پولیس کی نفری بھی اس کے ہمراہ ہوتی ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ چند روز قبل پولیس کانسٹیبلز کی بھرتی ہوئی جس میں ملک اسحاق کے تقریباً سات افراد کو وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے کوٹہ پر بھرتی کیا گیا۔

ایک طرف کالعدم جماعت کی دن بدن بڑھتی ہوئی فعالیت ہے تو دوسری جانب شیعہ جماعتوں اور قائدین کی عدم دلچسپی سے شہر میں مایوسی کے بادل گہرتے ہوتے دکھائی رہے ہیں۔ عزاداری کے کئی پروگراموں کی بندش نے یہ سوال اٹھانا شروع کردیا ہے کہ اگر قائدین نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو یہ سلسلہ رکنے والا نہیں اور دیگر شہروں میں بھی مجالس عزا کے پروگراموں کو رکوایا جاسکتا ہے۔ کیا قائدین اس ساری صورتحال سے آگاہ ہیں؟، کیا اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے کوئی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے یا پھر قوم ہی اسے بھگتے گی۔ ان سوالوں کے جوابات تشنہ ہیں۔
خبر کا کوڈ : 313461
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

شیعہ جماعتوں اور قائدین کی دلچسپی شیعہ کی مظلومیت پر ذاتی مفادات حاصل کرنے میں ہے۔
Pakistan
ye kaya ho raha hay is mulk may hamare sath