0
Tuesday 19 Aug 2014 23:44

انڈیا، فوج کی زیادتی کیخلاف 14 سال بھوک ہڑتال کرنیوالی خاتون رہا

انڈیا، فوج کی زیادتی کیخلاف 14 سال بھوک ہڑتال کرنیوالی خاتون رہا
اسلام ٹائمز۔ انڈیا کی ایک عدالت نے ملک کے دوردراز شمال مشرق میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر احتجاجاً چودہ سال تک بھوک ہڑتال کرنے والی ایک خاتون کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اپنے غیر متزلزل حوصلے اور پرامن احتجاج کی وجہ سے  آہنی خاتون سمجھی جانے والی منی پور کی آروم شرمیلا نے اپنی بھوک ہڑتال کی وجہ سے کئی سال عدالتی تحویل میں گزارے۔ ان کی بھوک ہڑتال کا مقصد فوج کے مبینہ زیادتیوں پر توجہ دلانا تھا۔ شرمیلا کو احتجاج شروع کرنے کے فورا بعد خودکشی کی کوشش کرنے کے الزامات پر گرفتار کیا گیا۔ منگل کو وکیل مانی خادم نے بتایا کہ ان کی موکل شرمیلا کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ریاست منی پور کے دارالحکومت امپھل میں شرمیلا کے بھائی آروم سنگھ جیت نے اے ایف پی کو بتایا کہ عدالت کے مطابق شرمیلا پر خودکشی کرنے کی کوشش کے محض الزامات ہیں، لہذا انہیں زیر حراست نہیں رکھا جا سکتا اور انہیں فوراً رہا کیا جائے۔

یاد رہے کہ شرمیلا نے منی پور میں اپنے گھر کے قریب ایک بس سٹاپ پر فوج کے ہاتھوں دس لوگوں کو قتل کئے جانے کے بعد نومبر، 2000ء میں اپنی بھوک ہڑتال شروع کی۔ کچھ دنوں بعد شرمیلا کو گرفتار کرنے کے بعد ایک جیل کے ہسپتال بھیج دیا گیا، جہاں انہیں روزانہ کئی مرتبہ ڈرپ کے ذریعے جبری طور پر خوراک جسم میں منتقل کی گئی۔ سنگھ جیت نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کی بہن کو رہائی کے فوراً بعد دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ شرمیلا نے کبھی بھی اپنا احتجاج ختم نہیں کیا۔ سنگھ جیت نے اے ایف پی کو بتایا کہ جب تک منی پور میں مسلح فوج کو حاصل خصوصی اختیارات کا خوفناک قانون واپس نہیں لیا جاتا شرمیلا اپنا احتجاج جاری رکھیں گی۔ اسی لئے مجھے خوف ہے کہ انہیں رہائی کے ایک دو دن بعد دوبارہ گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 405654
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب