0
Tuesday 14 Oct 2014 09:06
سردی شروع ہوتے ہی توانائی بحران شدت اختیار کر گیا

امریکہ کیجانب سے توانائی منصوبوں کی مخالفت، متبادل منصوبے بھی قابل عمل نہیں

امریکہ کیجانب سے توانائی منصوبوں کی مخالفت، متبادل منصوبے بھی قابل عمل نہیں
رپورٹ: این ایچ نقوی

پاکستان میں سرد موسم کی آمد کے ساتھ ہی توانائی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ کمرشل صارفین کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کو بھی گیس دستیاب نہیں۔ پاکستان توانائی کے بدترین بحران میں گھرے رہنے کے باوجود بجلی کی پیداوار کے لئے زیادہ قابل قبول اور سستے ذرائع استعمال کرنے کے بجائے امریکہ کی جانب سے دی گئی گائیڈ لائن اپنانے پر مجبور ہوگیا۔ انرجی سیکٹر کے مقامی ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران سے گیس درآمد میں پاکستان کو امریکہ کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا ہے جبکہ تھر کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں بھی امریکہ نے کسی قسم کی معاونت یا تعاون فراہم نہیں کیا۔ پاکستان ایران سے گیس پائپ لائن کے ذریعے 75 کروڑ مکعب فٹ گیس یومیہ درآمد کا ارادہ رکھتا تھا جس کے نتیجے میں 3 ہزار تا ساڑھے 3 ہزار میگا واٹ سے زائد بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جبکہ تھر میں 175 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر سے برسوں تک ہزاروں میگا واٹ بجلی حاصل ہونے کا اندازہ ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران سے درآمدہ گیس اور تھر کے کوئلے سے فرنس آئل کے مقابلہ میں کہیں زیادہ سستی بجلی حاصل کی جاسکتی ہے، تاہم بدقسمتی سے پاکستان کے دیرینہ دوست امریکہ کی ایران سے مخاصمت کے باعث گیس پائپ لائن منصوبے کی مخالفت کی گئی جبکہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے پر امریکہ کو تحفظات ہیں کہ اس کے نتیجہ میں ماحولیاتی آلودگی کے مسائل جنم لیں گے، امریکہ کی جانب سے پاکستان کو ان دو منصوبوں کی بجائے قطر سے ایل این جی کی درآمد اور سنٹر اینڈ ساوتھ ایشیا الیکٹرسٹی ٹرانسمیشن پراجیکٹ (کاسا) کے ذریعہ تاجکستان سے 1000 میگا واٹ بجلی کی درآمد کے منصوبوں کی تجویز دی گئی جبکہ اس سلسلہ میں پاکستان اور افغانستان نے گذشتہ دنوں ٹرانزٹ فیس کے معاہدے پر دستخط بھی کئے۔ تاہم توانائی سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں بجلی کی قلت 4 سے 6 ہزار میگا واٹ کے درمیان رہتی ہے، وہاں ہزار میگا واٹ بجلی کی درآمد کیا معنی رکھتی ہے۔ قطر سے ایل این جی درآمد کے حوالے سے بھی قیمتوں کا مسئلہ درپیش ہے اور ایک طبقے کا خیال ہے کہ قطر سے درآمد کی جانے والی ایل این جی پاکستان کو مہنگی پڑے گی جبکہ اس منصوبے سے پاکستان سے زیادہ دیگر ممالک کا مفاد وابستہ ہے۔ پاکستان کو جوہری توانائی سے سستی بجلی کے لئے بھی امریکہ کا کوئی تعاون حاصل نہیں جبکہ دوسری جانب امریکہ نے بھارت کے ساتھ سول جوہری معاہدہ کیا ہوا ہے اور پاکستان کے ساتھ ایسے ہی معاہدے کے امکانات کو یکسر مسترد کیا جاچکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وقت امریکی دباو کو مسترد کرتے ہوئے ملکی مفاد میں توانائی کے منصوبوں پر فوری کام شروع کرے۔
خبر کا کوڈ : 414512
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے