0
Wednesday 15 Oct 2014 22:14

اگر آپریشن ضرب عضب کامیاب نہ ہوا تو اسکے سنگین نتائج برآمد ہونگے، میاں افتخار حسین

اگر آپریشن ضرب عضب کامیاب نہ ہوا تو اسکے سنگین نتائج برآمد ہونگے، میاں افتخار حسین
اسلام ٹائمز۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جو آپریشن شروع کیا گیا ہے، اسے جاری رہنا چاہیئے۔ اگر خدانخواستہ یہ آپریشن کامیاب نہ ہو سکا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ آئی ڈی پیز کی نہ وفاقی حکومت نے مدد کی ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت نے مدد کی ہے۔ صوبائی حکومت اسلام آباد میں دھرنے کے درپردہ جو ثقافت پیش کررہے ہیں۔ وہ پاکستان کی ثقافت نہیں ہے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ گذشتہ انتخابات میں سب سے زیادہ نقصان اے این پی کو ہوا۔ ہمیں اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ ہم نے جلسے کرسکتے ہیں نہ جلوس نکال سکتے تھے۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے۔ ان کو چاہیئے کہ وہ عوام کی خدمت کریں مگر وہ عوام کی خدمت کرنے کی بجائے اسلام آباد آکر دھرنوں کے بہانے جو ثقافت رات کو پیش کرتے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ یہ دھرنے نہیں ہیں، بلکہ رات کی ثقافت ہے۔ وزیرستان میں طالبان کے خلاف کارروائی کی گئی اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے صوبوں میں منتقل ہوگئے مگر ان کی نہ وفاقی حکومت نے مدد کی ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت نے۔ جس کی وجہ سے بد زن ہو گئے ہیں اور لوگ اب واپس اپنے گھروں کو جا رہے ہیں اور ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ جو طالبان علاقہ چھوڑ کر چلے گئے تھے، وہ واپس دوبارہ آرہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی جہاں بھی ہوں، ہم نے اس کی مذمت کی ہے اور اے این پی واحد جماعت ہے جو سب سے زیادہ دہشتگردی کی لپیٹ میں رہی مگر ہم نے اپنے اصول نہیں چھوڑے۔ پشتونوں یا بلوچوں کے خلاف یا کسی بھی قوم کے خلاف زیادتی یا ظلم ہوگا۔ ہم اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے اور اٹھاتے رہینگے۔ میرے دورہ کوئٹہ کا مقصد ہمارے پارٹی کے رہنماؤں نواب ارباب عبدالظاہر کاسی کی بازیابی کے بعد ان کو مبارکباد دینا تھی اور یہ فیصلہ پارٹی کے ہائی کمان نے کیا تھا کہ ہم ان کو مبارکباد دیں۔ ہم جمہوریت پسند لوگ ہیں اور ہم ملک میں جمہوریت چاہتے ہیں۔ 1973ء کے آئین کو اگر چھیڑا گیا تو پھر دوبارہ اس طرح کا آئین نہیں ملے گا۔ اس وقت افغانستان اور انڈیا، پاکستان کے بارے میں جو خیالات رکھتا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ پاکستان کو احتیاط سے کام کرنا ہوگا۔ ہم کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دینگے کہ وہ 1973ء کے آئین کو پامال کریں اور اپنی مرضی کرنا چاہیئے۔ اختلاف رائے ہر سیاسی جماعت کا حق ہے مگر اپنی مرضی کسی پر نہیں تھوپنی چاہیئے۔ ہم پشتونوں کے حقوق کیلئے ہمیشہ آواز بلند کی ہے اور آئندہ بھی آواز بلند کرتے رہینگے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر علاقوں میں صحافیوں اور دیگر شخصیات جنہیں شہید کیا گیا ہے، ہماری پارٹی اس واقعے کی مذمت کرتی ہے اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 414816
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب