0
Tuesday 21 Oct 2014 23:13
عراقی حکومت کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے

داعش سے مقابلے کے دعویداروں کی نیت پر شک ہے، سید علی خامنہ ای

داعش سے مقابلے کے دعویداروں کی نیت پر شک ہے، سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی سے ملاقات کی اور خطے کے اہم ملک کے طور پر عراق کی سکیورٹی، ترقی، اقتدار اور عزت کو ایران کیلئے انتہائی اہم قرار دیا۔ انہوں نے عراق کی نئی حکومت کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عراق سمیت خطے کی موجودہ صورتحال عالمی طاقتوں اور خطے کے بعض ممالک کی جانب سے شام میں اپنائی جانے والی نامعقول اور غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ہمیں پکا یقین ہے کہ عراق کے عوام اور حکومت خاص طور پر اس ملک کے جوان دہشت گردوں کو شکست فاش دینے اور ملک میں امن و امان بحال کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کام کیلئے غیر ملکی قوتوں کی عراق میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔ 
 
ولی امر مسلمین جہان آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے ابتدا میں عراقی وزیراعظم کو ملک میں نئی حکومت کی تشکیل میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عراق خطے کا بڑا، اہم اور بااثر ملک ہے جو قومی سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد انتہائی موثر ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے گذشتہ حکومت کی جانب سے ملک میں امن و امان قائم کرنے اور عوام کی مشکلات حل کرنے کیلئے انجام پانے والے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم نوری المالکی کی جانب سے عراق اور خطے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کو کبھی بھی فراموش نہیں کریں گے۔ انہوں نے حیدر العبادی کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں اور گذشتہ حکومت کی مانند آپ کی حکومت کی بھی بھرپور حمایت کرتے رہیں گے۔ 
 
آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے ایران اور عراق کے درمیان تعلقات میں روز بروز مضبوطی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران عراق کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ انہوں نے امن و امان کی بحالی کو عراق کی پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ ہم پہلے بھی اعلان کرچکے ہیں، ہمیں پکا یقین ہے کہ عراق کی حکومت اور عوام ملک کی سکیورٹی مشکلات کو حل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور اس ضمن میں کسی قسم کی بیرونی مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں۔ ولی امر مسلمین جہان نے عراق کی سکیورٹی کو انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ خطے کی پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر خطے کے ممالک کی سکیورٹی صورتحال کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا اور ایران ہمسایہ اور برادر ملک ہونے کے ناطے عراق کی سکیورٹی اور اپنی سکیورٹی تصور کرتا ہے۔ 
 
اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے عراقی حکومت کی جانب سے اپنی سرزمین کو شام کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دینے کو ایک درست اور حکیمانہ پالیسی قرار دیا اور کہا کہ خطے کی صورتحال انتہائی نازک ہے، جس کی اصلاح کیلئے موثر اقدامات انجام دینے کی ضرورت ہے۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے امریکہ اور مغربی و عربی ممالک کی جانب سے داعش کے خلاف آپریشن کے دعووں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان دعویداروں کی سچائی اور صداقت پر یقین نہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ داعش اور دہشت گردی کا خاتمہ خود خطے کے ممالک کے ہاتھوں ہونا چاہئے۔ انہوں نے عراقی حکومت کی جانب سے قومی سطح پر مفاہمت کی پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل صحیح پالیسی ہے، کیونکہ عراق ایک واحد ملک ہے اور اس میں رہتے ہوئے شیعہ سنی یا عرب اور کرد کی تقسیمات بے معنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں بسنے والی مختلف قوموں اور قبیلوں کو بھی اس نکتے کی جانب توجہ کرنی چاہئے کہ ملکی سالمیت کے خلاف اٹھنے والے قدم ملکی مفاد میں نہیں۔ 
 
آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے گذشتہ حکومت کی مانند نئی عراقی حکومت کو بھی عوامی مینڈیٹ حاصل ہونے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ بعض قوتیں عراق میں جمہوری عمل کو قبول نہیں کرنا چاہتیں، لیکن یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے اور عراقی حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی پوری طاقت سے جمہوریت کی حفاظت کرے۔ انہوں نے عراقی جوانوں کو ملک کا عظیم سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات میں سب نے دیکھا کہ عراقی جوانوں نے کیسے اپنی جان پر کھیل کر ملک کا دفاع کیا۔ انہوں نے عراقی وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ ان جوانوں کی قدر کریں کیونکہ یہی جوان عراقی حکومت کی مدد کو آئیں گے۔
خبر کا کوڈ : 415822
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے