0
Friday 29 Jun 2012 12:11

سسٹم کی تبدیلی

سسٹم کی تبدیلی
 تحریر: جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم

 ملکی معاملات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم اس علاقائی اور بین الاقوامی ماحول کو بھی ضرور سامنے رکھیں، جس نے ہماری ملکی سیاست، معیشت، ثقافت اور سلامتی کو بری طرح متاثرکیا ہوا ہے۔ تناظر سے ہٹ کر کسی بھی چیز کو تنہا دیکھنے سے اس کی اصلیت، ممکنہ مضمرات اور اُن کے تدارک کے طریقوں کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
 
قارئین، اس میں شک نہیں کہ پاکستان آج جس بدحالی کا شکار ہے اُس کی ہماری تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اس سے بھی خطرناک اور بدتر امریکہ کی ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت اور پھر ہماری بین الاقوامی سطح پر سفارتی تنہائی ہے۔ جس نے دنیا بھر میں ہماری ساکھ کو بری طرح مجروح کرکے رکھ دیا ہے۔ اس بدحالی کی اصل وجہ ہماری وہ قیادت ہے جس نے اپنے اقتدار کی طوالت کی خاطر ملکی مفادات کو قربان کیا۔ 

آیئے اب ہم سب سے پہلے اُن بین الاقوامی معاملات پر ایک طائرانہ نظر دوڑائیں جو اس وقت ہمارے ملکی حالات کو متاثر کر رہے ہیں اور جن کو بہترین سفارتکاری سے سلجھائے بغیر ہم اپنے داخلی استحکام کی منزل کو نہیں پاسکتے۔
بین الاقوامی سطح پر اس وقت عسکری اور معاشی لحاظ سے دنیا کا مضبوط ترین ملک امریکہ ہے۔ جو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی دنیا کے سنگل پولر (status) سٹیٹس کو تبدیل نہیں ہونے دینا چاہتا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کو اپنی فوجی طاقت کو قائم رکھنے کیلئے اپنی بگڑتی ہوئی معاشی حالت کو نہ صرف بحال کرنا ہے بلکہ اسے مزید تقویت بھی دینی ہے۔ جس کیلئے یہ ضروری ہے کہ امریکہ کا دنیا کے اُن حصوں پر قبضہ ہو جو تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال ہیں۔ اس لئے امریکہ مشرقِ وسطی، خلیج فارس اور وسطی ایشائی ریاستوں پر ہر حالت میں اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتا ہے۔
 
پاکستان خوش قسمتی یا بدقسمتی سے مشرق وسطٰی اور وسطی ایشا کے سنگم پر واقعہ ایک سنہری زمینی پل سمجھا جاتا ہے۔ خوش قسمتی اس لئے کہ پاکستان کے سیاسی و عسکری حکمران اپنی جیو اسٹرٹیجک اہمیت کا بے حد فائدہ اٹھا سکتے تھے اور بدقستمی اس لئے کہ ایسا نہ ہوسکا اور قائداعظم محمد علی جناح رہ کی وفات کے بعد قیادت کے بدترین قحط میں ہم اپنی جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے ہی بڑی طاقتوں کے عذاب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان اگر نیوزی لینڈ کی جگہ ایک جزیرہ ہوتا تو ہمارے حالات مختلف ہوتے۔ 

اب جب امریکہ وسطی ایشائی ریاستوں کے تیل کی خوشبو سونگتا سونگتا پاکستانی آزادی، خود مختاری اور قومی وقار کو روندتا ہوا اس خطے میں رعونت کے ساتھ داخل ہوا تو اس کی اپنی گردن افغانی کڑوکی (trap) میں پھنس گئی۔ گاؤں کے چوہدری یا وڈیرے کو اگر خود زیادہ لسی پی کر اپنے پیٹ میں درد ہو جائے تو وہ یہ غصہ اپنے مزارعوں پر ہی نکالتا ہے۔ اسی طرح امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں دس سالہ جنگ کے بعد دنیا کے 48 مضبوط ترین ممالک کی شکست کا ذمہ دار صرف اور صرف پاکستان کا وہ حقانی قبیلہ ہے، جس کے افراد کے پاس تعلیم ہے نہ ان کے تن پر ڈھنگ کا کپڑا، ہتھیار ہیں نہ مالی معاونت کا کوئی ذریعہ، طبی امدار ہے نہ پیٹ کے اندر ضروری خوراک۔
 
ادھر امریکی عوام اوباما کی صدارت کے آخری انتخابی سال میں بار بار اپنی سیاسی قیادت سے پوچھ رہی ہے کہ افغانستان سے ہمارے فوجیوں کی لاشیں آنا کب بند ہوں گی۔ عوام کو کوئی معقول جواب دینے کے بجائے امریکہ پاکستان پر ہوائی اور زمینی حملے جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن ہمیں یہ ضرور سمجھنا چاہیے کہ مسائل کی اصل جڑ پاکستان پر زمینی اور ہوائی حملے یا پاکستان کی طرف سے زمینی راستوں کی بندش نہیں بلکہ امریکہ کی ہر حالت میں وسطی ایشائی ریاستوں پر قابض رہنے کی خواہش ہے۔ 

اس لئے امریکہ افغانستان کے کٹ پتلی صدر کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت 2014ء کے بعد افغانستان کے اہم ہوائی اڈوں پر اپنی تقریباً 50 ہزار کی فوج تعینات رکھنا چاہتا ہے اور اس کو وہ کسی بڑی جھیل میں اُگنے والے للی پھولوں کے پیڈ (Pad) کہتا ہے، اس مقصد کے حصول کیلئے اگر اس کو پاکستان پر مزید حملے کرکے ایٹمی اور معاشی طاقت اور جغرافیائی وحدت کو توڑنا بھی پڑا تو ایسا بلنڈر وہ کر سکتا ہے، چونکہ امریکہ کی تاریح ایسی غلطیوں سے بھری پڑی ہے۔ 

پاکستان میں خراب سول ملٹری تعلقات کا ذمہ دار بھی امریکہ ہے۔ چونکہ اُس نے کیری لوگر قانون اور میمو کا دانہ ڈالا تھا۔ یہ ذہن میں رکھا جائے کہ روس اور چین جیسی طاقتیں بھی ابھی تک اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کھل کر امریکہ کے عزائم کے سامنے کھڑی ہوں۔ دوسری طرف ہماری مشرقی سرحدوں کے سامنے ہندوستان کی ایک بہت بڑی فوج کھڑی ہے، جس کے لئے آج امریکہ دنیا کا سب سے بڑا ہتھیاروں کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔ پچھلے چار سالوں میں ہماری حکومت نے مچھیروں سمیت1100 ہندوستانی قیدی رہا کئے، لیکن اپنے 760 پاکستانیوں کو ہندوستانی جیلوں سے واپس نہ لاسکی اور اب اگر حامد میرا اپنا پروگرام نہ کرتے تو پاکستان میں درجنوں لوگوں کا ایک اور قاتل بھی رہا ہو جاتا۔(شاباش حامد میر) 

ہندوستان کے ساتھ دوستی پر بغلیں بجانے والے اور امن کی آشا پر یقین کرکے ہندوستان کو Most Favoured قوم کا درجہ دینے والے ہمارے سادہ لوح پاکستانی بھائی یہ لکھ کر رکھ لیں کہ پاکستان کی سلامتی پر یلغار کرتے وقت بغل میں چھری اور منہ سے رام رام کہنے والا ہندوستان بین الاقوامی سازش میں پیش پیش ہوگا۔ آپ خوش فہمی میں نہ رہیں، ہندوستان کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزاد ہونے دے گا نہ ہمارے دریاؤں پر اربوں ڈالرز خرچ کرکے بنے ہوئے ڈیم توڑے گا، چونکہ آج ہندوستان مقبوضہ افغانستان میں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے اور امریکہ کا سیکرٹری دفاع ہندوستانی سرزمین سے ہی زور زور سے یہ کہہ رہا ہے کہ ہم افغانستان میں ہندوستان کے کردار کو مزید وسعت دیں گے۔
 
اپنے ان مزموم عزائم کی تکمیل کیلئے بیرونی طاقتوں نے پاکستان میں ڈیکٹیٹروں کی مدد کی، این آر او کے تحت نالائق حکومت مسلط کی، کیری لوگر لا بنایا، ریمنڈ ڈیوس بھیجے اور بدنام زمانہ میمو کی تخلیق کی۔ ایسی صورتِحال کا مقابلہ کرنے کیلئے پاکستان کو اہل بصیرت، بے لوث قیادت اور مضبوط معیشت کے علاوہ ایک Motivated مضبوط لڑاکا سپاہ چاہیے، جو عوامی پذیرائی اور دعاؤں کے ساتھ ملک کی سرحدوں کا موثر دفاع کرے۔ آج اگر ہم بدحالی کا شکار ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستانی قوم کے اندر حب الوطنی کے جذبے کا فقدان ہے یا ہماری پاک سرزمین میں زر خیزیت کم ہوگئی ہے یا یہ کہ ہماری خواہش نہیں رہی کہ ہم قوموں کی برادری میں ہر لحاظ سے ایک قابل تکریم نام کما سکیں۔
 
ہماری خستہ حالی کی وجہ اس ملک میں رائج برائے نام جمہوری نظام ہی نہیں، بلکہ دیانتدار قیادت کا زبردست فقدان بھی ہے۔ دراصل موجودہ نظام، جمہوریت ہے نہ آمریت۔ اب ہم پر مسلط یہ ایک ایسا نظام ہے، جس میں ہر طرح کے ڈاکو، چور، اچکے، بدمعاش، کرپٹ، بے اصول اور بداخلاق مالی لحاظ سے مضبوط تر ہو رہے ہیں، بے حیائی بڑھ رہی ہے اور اس پر کسی کی کوئی پکڑ نہیں، کوئی احتساب نہیں، حاکم امیر ہو رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں 12فیصدی مقبولیت والا شخص صدر بن کر ایٹمی پاکستان کی قسمت کے فیصلے کر سکتا ہے اور 12فیصدی سے بھی کم مقبولیت والا ایک شخص غیر مقبول صدر کی ایما پر ملک کا چیف ایگزیکٹو بن سکتا ہے۔
 
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ملک کا اٹارنی جنرل عدالت کے اندر تضحیک کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ سسٹم اس بات کی بھی حاکموں کو کھلی چھٹی دیتا ہے کہ دنیا کے اہم ترین ملک میں ایک ایسے شخص کو سفیر لگا دیا جائے جو ملکی مفادات کے خلاف کام کر رہا ہو اور تعینات کرنے والے حاکموں سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہوسکے۔ یہ ایسا نظام ہے جس میں وزیراعظم، اُس کی اولاد، وزیر اور اُن کے چمچے کھلے عام رشوت اور مراعات لیں بھی تو کوئی پکڑ نہیں ہوسکتی۔ ملک کی اعلٰی ترین عدالتوں کا تمسخر اڑایا جائے۔ امیر لوگ ٹیکس نہ دیں تو بھی کوئی اُن پر ہاتھ نہ ڈال سکتا ہو۔ 

حکومتی ایوانوں میں ناخواندہ پراپرٹی مافیا کا قبضہ بھی ہو تو سینٹ اور اسمبلیاں اس سلسلے میں کوئی موثر کارروائی نہ کرسکیں۔ حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوں لیکن اپنی وزارتوں اور مفادات کیلئے حکومت نہ ٹوٹنے دیں۔ ان حالات میں جناب پرویز اشرف کے وزیراعظم یا پرویز الہی کے نائب وزیراعظم بننے پر اُن کا اپنا کوئی قصور نہیں، یہ قصور سسٹم کا ہے، جو غیر نمائندہ قیادت کو لایا۔ جس کو اگر نہ بدلا گیا تو بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ بین الاقوامی اور علاقائی حالات اس وقت متقاضی ہیں کہ موجودہ نظام میں اصلی جمہوری روح کو پھونکا جائے۔
خبر کا کوڈ : 175212
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

متعلقہ خبر