0
Saturday 29 Nov 2014 08:59

امریکی داعش پاکستان میں؟ (1)

امریکی داعش پاکستان میں؟ (1)
تحریر: عمران خان

انتہائی حیران کن امر ہے کہ پاکستان کے پرنٹ میڈیا سے لیکر عالمی پرنٹ میڈیا تک، داعش کے حوالے سے کسی بھی آرٹیکل، یا رپورٹ کا سرسری جائزہ بھی لیں تو ان سب کے ابتدائی پیرا گراف میں عراق، شام، سعودی عرب، ترکی، افغانستان یا پاکستان کا نام بھلے ہی نظر نہ آئے، لیکن لفظ امریکہ ضرور لکھا ملتا ہے، جس سے گمان ہوتا ہے کہ داعش اور امریکہ کے بیچ تعلق رسمی نہیں بلکہ گہرا ہے۔ یہ وہی امریکہ ہے جو طالبان کے ذریعے سرخ خطرے سے گلو خلاصی کے بعد افغانستان میں طالبان کے خلاف ایک طویل جنگ بھی لڑ چکا ہے۔ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود طالبان کے ان گروہوں کے سر پر دست شفقت بھی رکھ چکا ہے جو پاک فوج کو ناپاک یا ملحد قرار دینے پر مصر تھے اور پھر پاکستانی فوج پر یہ دباؤ بھی ڈال چکا ہے کہ تمارے قبائلی علاقے دہشتگردوں کی آماجگاہیں ہیں، لہذٰا انہیں صاف کرو۔ اسی طرح صدام حکومت کے ذریعے ایران پر غلبہ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کے بعد صدام حکومت کا تختہ بھی الٹ چکا ہے اور شام میں بشار الاسد حکومت کے خلاف نام نہاد جہادی گروہوں کو وسائل بھی فراہم کر چکا ہے۔

اتفاق سے وہی امریکہ ان دنوں عراق میں داعش کے خلاف مصروف ’’جنگ‘‘ ہے، یہ وہی داعش ہے جسے کچھ عرصہ قبل امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام میں حکومت کی تبدیلی کی غرض سے ہر قسم کے وسائل فراہم کئے جا رہے تھے۔ داعش اسی القاعدہ کی ٹوٹی ہوئی شاخ ہے جس القاعدہ کا دوسرا نام امریکی فائدہ کے طور پر لیا جاتا ہے۔ امریکہ داعش کے خلاف جو جنگ لڑ رہا ہے، اس کی حقیقت سمجھنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ داعش کے خلاف لڑنے والے قبائل کو اسلحہ دینے کے لیے امریکی جہازوں نے مختلف علاقوں میں اسلحہ گرایا، مگر کمال غلطی سے یہ اسلحہ ان علاقوں میں گرایا گیا، جو داعش کے زیر تسلط تھے۔ جس کے باعث یہ اسلحہ دفاع کرنے والے قبائل کے بجائے داعش کے دہشتگردوں کے ہتھے چڑھ گیا اور انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے تھینک یو امریکہ کے الفاظ بھی کہے ہیں۔ جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ داعش اور امریکہ کے درمیان کتنا گہرا ربط اور تعلق ہے۔ 

ہولناک مظالم کے ساتھ اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان، مختلف ممالک کی سرحدی حدبندیوں کو کسی خاطر میں لائے بغیر اسلامی خلافت کے جاری ہونیوالے نقشوں نے جہاں داعش کو شہرت سے نوازا وہیں دنیا بھر کے عوام میں بالعموم اور مسلمانوں میں بالخصوص فکر اور تشویش کا باعث بھی بنے۔ جہاں عالم اسلام اس فتنے سے رنج و الم میں مبتلا ہے وہیں ڈیڑھ، ڈیڑھ اینٹ کی اپنی مساجد بنانے والے مخصوص مذہبی گروہ داعش کو اپنا ذاتی حریف یا حلیف قرار دے رہے ہیں۔ داعش کس کی دشمن اور کس کی دوست ہے۔ کون اس کے سرپرست ہیں اور کون مددگار، داعش کے اپنے مقاصد اور اس کے سرپرستوں کے مفادات میں ٹکراؤ کہاں ہے۔ بالاآخر اس کا انجام کیا ہوگا۔؟ پاکستان میں داعش کے پنپنے کی کتنی گنجائش ہے؟ اس تحریر میں ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔ سامراجی طاقتوں نے مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو انتہائی مہارت سے اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اور اسی ہتھیار کے بل بوتے پر وہ تمام عزائم و مقاصد حاصل کئے جو بظاہر انتہائی مشکل تھے۔ عراق پر امریکی حملے کے واقعات اور جزئیات پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار اس بات پر حیران تھے کہ صدام کی فوج کی جانب امریکہ کو متوقع ردعمل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ عراق پر امریکی قبضے کے بعد صدام کی فوج کے کئی اہم جرنیل اور کمانڈرز امریکی فوج یا بعد میں بننے والی عراقی حکومت کے ہاتھ نہیں آئے۔ ان میں سے بیشتر کمانڈرز آج داعش کے ٹاپ ٹونٹی لیڈر شپ میں شامل ہیں۔ دوسری جانب پوری دنیا میں جس وقت القاعدہ کے خلاف امریکہ کی نام نہاد مہم جاری تھی، اس وقت بھی عراقی القاعدہ کے ساتھ امریکہ کا سلوک بڑا نرم رہا۔ عراقی القاعدہ کا سربراہ ابومعصب الزرقاوی کی ایک جنگی جھڑپ میں ہلاکت کے بعد ابو عمر بغدادی اور بعدازاں ابوبکر البغدادی کانام سامنے آیا۔ خلیفہ ابوبکر البغدادی دوہزار چار میں امریکی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور بوکا چھاونی میں رکھا گیا۔ دوہزار نو میں اسے رہا کردیا گیا۔ البغدادی امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں کام کرتا رہا تھا۔ اس دوران شام کے سرحدی علاقوں مگر عراق میں اس گروہ کی عملداری بڑھتی گئی۔ اسرائیل کو محفوظ کرنے کیلئے بشار الاسد حکومت کے خلاف دہشتگرد گروپوں کی امریکہ اور اس کے اتحادیوں بشمول عربوں کی جانب سے دہشت گردوں کی سرپرستی شروع ہوئی تو سب سے زیادہ اس گروہ کو نوازا گیا۔ جس نے پہلے اپنا نام اسلامک اسٹیٹ عراق اینڈ لیوانت اور بعد ازاں اسلامک سٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا رکھا گیا۔ 

معروف تجزیہ نگارمسعود انور اس نام کی تبدیلی کی وجہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔
’’نام کی تبدیلی کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ لیوانت Levant کا لفظ بحیرہ روم کے مشرقی علاقے میں موجود علاقے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں ترکی کے ساحل اناطولیہ سے لے کر قبرص کے جزائر، اسرائیل، فلسطین، اردن، شام اور لبنان تک کے علاقے شامل ہیں۔ چونکہ لیوانت کا نام استعمال کرنے کے نتیجے میں اس منصوبے میں اسرائیل و ترکی کے علاقے بھی شامل ہورہے تھے، جبکہ منصوبہ شام اور عراق کے چند علاقوں پر مشتمل ایک سنی ریاست کے قیام کا ہے، اس لیے اس تنظیم کا نام فوری طور پر تبدیل کردیا گیا۔ نام کی تبدیلی میں ایک بات اور نوٹ کرنے کی ہے شام کے ملک کو انگریزی میں Syria لکھا اور پکارا جاتا ہے جبکہ شام کا عربی میں سرکاری نام الجمہوریہ العربیہ والسوریہ ہے۔ تو پھر اس نئے نام میں سوریہ یا سوریا کی جگہ پرانا عربی لفظ شام کیوں استعمال کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شام کے لفظ کے استعمال سے تنظیم کے نئے نام کا مخفف ISIS بنتا ہے جو کہ شیطان کے پیروکاروں کی سب سے بڑی دیوی کا انگریزی میں نام ہے۔ اس دیوی کے یونان، مصر اور دیگر ممالک میں اور بھی کئی نام ہیں مگر ISIS سب سے زیادہ عام ہے۔اس طرح داعش کی صورت میں علامتی طور پر شیطان کے پجاریوں کی دیوی کام کررہی ہے۔‘‘ 

یہ وہی دور تھا جب شام سے منسلک سرحدوں سے اس گروہ کو ہر قسم کی امداد جاری تھی۔ امریکی تجزیہ نگار برملا اس امر کا اظہار کررہے تھے کہ اردن کی فوجی چھاؤنیوں میں داعش کے دہشتگردوں کی تربیت کی جارہی ہے۔ ترکی کے سرحدی علاقے داعش کے بیس کیمپ بنے ہوئے تھے، اور غیر جانبدار تجزیہ نگار اس حقیقت کا اظہار کر رہے تھے کہ ترکی بھی پاکستان کی راہ پر چل کر دہشتگردوں کی پرورش میں مصروف ہے اور آخر کار اسی خطرے کا وہ خود بھی شکار ہوجائے گا۔ بعض رپورٹس میں یہاں تک بیان کیا گیا کہ داعشیوں کے زیراستعمال وہ ہتھیار ہیں جو فقط امریکہ اور برطانیہ کی افواج کے پاس ہیں۔ شام میں وسائل کی لوٹ مار کے دوران داعش کے دیگر دہشتگرد گروپوں سے اختلاف بڑھ گئے، اور نوبت ان گروپوں کے درمیان جنگ تک پہنچ گئی۔ 2011 میں شام کی حکومت کیخلاف اخوان المسلمون کے ایما پر سیاسی محاذ کھولا گیا جو جلد عسکری جنگ و جدل کی صورت اختیار کر گیا۔ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجووں نے شام میں نصرہ فرنٹ کے نام سے کاروائیوں کا آغاز کیا۔ ترکی کے راستے، پاکستانی، یورپی، روسی اور امریکی دہشت گرد شام آنا شروع ہوئے۔ شروع میں انکی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ مصر میں مرسی حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں نصرہ فرنٹ کو مصر اور حماس کے ذریعے ملنے والی امداد رک گئی، مصر کے اخوانی حکمرانوں کیساتھ گہرے مراسم کی وجہ سے سعودی عرب، ترکی، اسرائیل اور امریکی سی آئی اے نے ابوبکر بغدادی کی تنظیم کا دائرہ کار بڑھانا شروع کیا۔ شام میں ابوبکر بغدادی کی مداخلت کے متعلق القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے ابوبکر بغدادی کو حکم دیا کہ وہ شام میں کاروائیوں سے باز رہیں لیکن داعش نے القاعدہ کیخلاف بغاوت کا اعلان کر دیا۔ نصرہ فرنٹ اور داعش کی جنگ شروع ہو گئی، نصرہ فرنٹ کی سرپرستی کرنے والی مرسی حکومت ختم ہو گئی اور داعش کو سعودی عرب اور امریکہ سمیت تمام شام دشمن اتحادیوں کی سرپرستی مل گئی اور یہی سرپرستی داعش کو فوج کی طاقت اور صلاحیت سے مالا مال کرگئی۔ دہشتگردوں کی آپسی جنگ کی وجہ سے ایک طرف شام کی حکومت کو دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کا موقع ملا تو دوسری جانب داعش کے جنگجوؤں نے اپنے طور یہ باور کرلیا کہ حقیقی قوت ان کو وسائل فراہم کرنیوالے سعودی عرب، ترکی، امریکہ یا دیگر ممالک نہیں بلکہ حقیقی قوت وہ خود ہیں۔ اگر دولت کے وسائل پر وہ قابض ہوجائیں تو بذات خود وہ ریاستی قوت کے مالک ہیں۔ شام میں تیل کے پیداواری علاقوں میں قابض ہونے کے بعد اسلحہ ساز کمپنیاں بھی داعش سے روابط میں آگئیں، جوکہ تیل کے بدلے اسلحہ اور دیگر ضروریات انہیں باہم پہنچانے کا وعدے کررہے تھے۔ یہاں بھی داعش سے ان کاروباری روابط کی وجہ سے داعش سے پیار محبت نہیں بلکہ دونوں تاریخی ممالک یعنی شام اور عراق کی تقسیم در تقسیم کا مزموم ایجنڈا تھا۔ شام میں مخالف گروپوں اور بشارد حکومت سے نقصان اٹھانے کے بعد عراق سے شام جانیوالی داعش نے دولت، قوت اور علاقے کے حصول کیلئے دوبارہ عراق کا رخ کر لیا۔ شام سے عراق اور یکے بعد دیگر ے عراقی شہروں پرداعش کے قبضے نے کئی سوالات کھڑے کئے۔ بیرونی میڈیا نے داعش کی پیشقدمی کو کچھ ایسے رنگ میں پیش کیا، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ جیسے یہ تنظیم اپنے اہداف حاصل کرنے کے بالکل نزدیک پہنچ چکی ہیں۔ وہی عراقی فوج جسے امریکہ نے مضبوط فوج قرار دیکر کھڑا کیا تھا، امریکی سرپرستی میں چلنے والی داعش کے سامنے لحظہ بھر بھی نہیں ٹک پائی۔ واضح رہے کہ عراقی حکومت کے پاس ڈھائی لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل ریگولر آرمی ہے۔ ڈرون، ٹینکس، بکتر بند،سمیت وہ سب کچھ بھی تھا جو کسی بھی فوج کی ضرورت ہوتی ہے، مگر عراقی فوج نے اپنے ہتھیار داعش کے چند ہزار دہشتگردوں کے سامنے ڈال دیئے۔ یہاں تک کہ اپنے اسلحہ خانے کے منہ کھلے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ داعش کے حملے کے وقت موصل میں تیس ہزار عراقی فوجی موجود تھے، مگر وہاں موجود جرنیلوں نے فوج کو داعش کے خلاف کاروائی کرنے سے روک دیا۔ بعد ازاں ان میں سے کچھ جرنیل باقاعدہ طور پر داعش میں شامل ہوگئے اور کچھ جرنیلوں نے یورپی ممالک میں پناہ لے لی۔ عراقی صوبے الانبار اور سعودی عرب کی سرحد پر کاروائیاں کرنے تک امریکہ سمیت اس کے تمام اتحادیوں نے داعش کو خطرہ قرار نہیں دیا تھا، سعودی عرب کی سرحد پر داعش کی کاروائیوں، ابوبکر البغدادی کی خلافت کے اعلان کے بعد وہ تمام ممالک داعش کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے لگے، جو داعش کو طاقتور بنانے کے ذمہ دار تھے۔ اس دوران جن علاقوں سے داعش گزرتی گئی ان علاقوں میں شدت پسند نوجوان بھی اس کا حصہ بنتے گئے۔ سنی علاقوں پر باآسانی قبضے کے بعد داعش نے جب شیعہ آبادی کے علاقوں کی جانب رخ کیا تو اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی پیشقدمی بھی وہیں پر رک گئی۔ ایک جانب آزاد کرد ریاست، دوسری جانب سنی علاقوں پر داعش کا قبضہ اور شیعہ اکثریتی علاقوں میں عراقی حکومت کی عملداری واضح طور ماضی کے اس سامراجی منصوبے کی تکمیل ہی ہے، جس کے تحت عراق کو تین حصوں میں تقسیم کیا جانا تھا، اور اب یہ تقسیم واضح ہوکر سامنے بھی آچکی ہے۔ اسلامی خلافت کے طور پر داعش کے سرپرستوں نے جو ریاست متعارف کرائی ہے، انتہائی سخت گیر نظریات، سفاکانہ اور ظلم و زیادتی کی نمائندہ ہے۔ مخالفین نوجوان، بچوں، خواتین کے سرکاٹنا، معمولی جرائم پر اعضاء کاٹنا، سنگسار کرنا، سرعام کوڑے مارنا یہ وہ سزائیں ہیں جن پر روزانہ کی بنیادوں پر عمل جاری ہے۔ سنی اکثریتی علاقوں پر داعش کا کنٹرول اور پھر وہاں ایسی سزاؤں اور قوانین کا اجراء جس کا سنی مسلک سے تو درکنار اسلام سے بھی دور تک کا واسطہ نہیں، آنے والے دنوں میں قتل و غارت میں اضافے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ 

امریکہ نے عراق میں داعش کے خلاف کاروائیاں کرنے اور عالمی اتحاد کے قیام کا بیڑا اس وقت اٹھایا، جب عملداری کے لحاظ سے عراق منقسم ہوچکا ہے۔ امریکہ نے ایک جانب داعش کے خلاف اتحادیوں کے ساتھ ملکر فضائی کاروائیوں کا سلسلہ (جس کے تاحال کوئی خاص اثرات سامنے نہیں آئے) شروع کیا۔ دوسری جانب شام میں بشارد حکومت کے خلاف سرگرم دہشتگرد گروپوں کے لیے پانچ ملین امداد کا بھی عندیہ دیا۔ واضح رہے کہ شام کے کئی علاقوں میں بھی داعش ابھی تک موجود ہے اور امریکی امداد سے براہ راست مستفید ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ امریکہ کی اس مبہم پالیسی پر ماہر امور خارجہ اور پاکستان وزارت خارجہ کے سابق سیکرٹری جنرل اکرم ذکی کہتے ہیں کہ ’’بش انتظامیہ کی بیرونی خصوصاً اسلامی دنیا سے متعلق پالیسی کے مقابلے میں اوبامہ انتظامیہ نے یہ پالیسی اختیار کی ہے کہ اس نے سی آئی اے کے ذریعے اسلامی ممالک میں مختلف مسلح گروپس تشکیل دیئے ہیں۔ ان تمام گروپوں کو وسائل امریکہ کی جانب سے ہی فراہم کئے جارہے ہیں اور انہیں آپس میں برسر پیکار کیا جارہا ہے۔ یہی اندرونی انتشار ریاستوں کو امریکی دباؤ سے آزاد نہیں ہونے دے گا، اور امریکہ بجائے اپنی افواج اتارنے کے وہی مقاصد انہی گروپس کے ذریعے حاصل کرے گا۔ چاہے وہ نئی سرحدی حد بندیوں کی تشکیل ہو یا کسی ریاست کے وسائل پر دسترس حاصل کرنے کی خواہش، داعش میں صدام دور کے فوجی جرنیلوں کی شمولیت سے اس کی طاقت اور حکمت عملی کی استعداد میں اضافہ ہوا ہے، ‘‘
خبر کا کوڈ : 421866
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش