0
Friday 27 Mar 2015 23:08

یمن پر سعودی عرب کی احمقانہ جارحیت

یمن پر سعودی عرب کی احمقانہ جارحیت
تحریر: عبدالباری عطوان

عرب دنیا کے معروف سیاسی تجزیہ نگار اور اخبار "رای الیوم" کے چیف ایڈیٹر عبدالباری عطوان نے اپنے تازہ ترین مقالے میں یمن پر سعودی عرب کی سربراہی میں غرب نواز عرب اتحاد کی فوجی جارحیت کا جائزہ لیا ہے۔ اسلام ٹائمز اردو کے قارئین کی خدمت میں اس مقالے کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے:
 
صنعا اور دیگر شہروں میں حوثی فوجی اتحاد کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کیلئے 185 جنگی طیاروں کو یمن ارسال کیا جانا، سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے جس کی بنیاد پر اس ملک نے ضبط و تحمل ترک کرتے ہوئے فوجی طاقت کے استعمال کو اپنے دستور العمل کا حصہ قرار دیا ہے۔ لیکن سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں یہ اچانک تبدیلی نہ فقط ایک بڑی رسک ہے بلکہ اس فیصلے کے صحیح ہونے کی کوئی گارنٹی بھی نہیں پائی جاتی۔ اگرچہ سعودی عرب کو جدید F-15 اور F-16 جنگی طیاروں اور نیز فضائی دفاعی نظام اور ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کی بابت یمن پر فوجی برتری حاصل ہے، خاص طور پر یہ کہ سعودی عرب نے گذشتہ تین سال کے دوران امریکہ، جرمنی اور یورپی ممالک سے 150 ارب ڈالر کا فوجی سازوسامان خریدا ہے جس میں جنگی طیارے اور ٹینک بھی شامل ہیں، اور یہ رقم یمن کے 40 سال کے بجٹ یا حتی اس سے بھی زیادہ ہے، لیکن ہمیں ہر گز یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ فوجی برتری اور ہوائی حملے ایک جنگ میں کامیابی کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتے۔ ہمارے اس دعوے کا زندہ ثبوت امریکہ کی سربراہی میں بننے والا مغربی و عربی ممالک کا داعش مخالف اتحاد ہے، جو اب تک شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر 3500 ہوائی حملے انجام دینے کے باوجود اس دہشت گرد گروہ کو شکست نہیں دے سکا۔ 
 
یمن کی سرزمین جغرافیائی اعتبار سے انتہائی ناہموار اور کٹھن علاقہ ہے جو اپنی لمبی تاریخ کے دوران کئی بار بیرونی قوتوں کی جارحیت کا نشانہ بنی ہے لیکن ہر بار جارح قوت کے دانت کھٹے ہوئے ہیں۔ عثمانی فوج، پرتگالی فوج، برطانوی فوج اور سعودی فرمانرواوں نے اسے تسخیر کرنے کی کوشش کی لیکن انتہائی صعب العبور ہونے کی وجہ سے اپنے اس ارادے سے عقب نشینی کرنے پر مجبور ہو گئے۔ ایک وقت ایسا تھا جب آل سعود رژیم اپنے حکومت کو وسعت دینے کے درپے تھی لہذا اس نے یمن پر قبضے کا منصوبہ بنایا۔ لیکن بہت جلد اس وقت کے سعودی فرمانروا یعنی ملک عبدالعزیز آل سعود یمن کے ناقابل تسخیر ہونے کو جانچ گئے اور فورا اپنے بیٹے کو عقب نشینی کا پیغام بھجوا دیا۔ اس وقت تک شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز آل سعود یمن کے سرحدی علاقوں "نجران" اور "جیزان" پر قبضہ کر چکا تھا۔ دوسری طرف یمنی عوام، چاہے وہ حوثی قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں یا دوسرے قبیلوں سے، انتہائی درجہ کے جنگجو اور سخت جان انسان ہیں۔ اگر سعودی عرب ایک عاجلانہ اقدام کے نتیجے میں دس سے زائد عرب اور اسلامی ممالک جیسے مصر، سوڈان، اردن اور پاکستان وغیرہ پر مشتمل اتحاد تشکیل دینے میں کامیاب ہو گیا ہے تو اسے یاد رکھنا چاہئے کہ اس کے مدمقابل کو بھی ایک ایسے اتحاد کی حمایت حاصل ہے جس کی طاقت اور اہمیت سعودی عرب کی سربراہی میں تشکیل پانے والے اتحاد سے کم نہیں۔ یمن کا حامی اتحاد ایران، روس، عراق، شام اور برکس (BRICS) گروپ کے رکن ممالک پر مشتمل ہے۔ 
 
بیرونی اتحادوں سے زیادہ داخلی اتحادوں کو اہمیت حاصل ہے۔ حوثی گروہ نے علی عبداللہ صالح کے ساتھ اتحاد قائم کر رکھا ہے۔ علی عبداللہ صالح کی فورسز کئی سالوں سے اس کی وفادار ہیں۔ اسے یہ طرہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کی حکومت کا عرصہ یمن کی تاریخ کی طولانی ترین حکومت سمجھی جاتی ہے۔ اس نے ایسی مسلح افواج تشکیل دیں جنہوں نے اس کے ساتھ اپنی وفاداری کو ثابت کر دکھایا اور آج تک فوج کے اعلی کمانڈرز اس کے ساتھ اظہار وفاداری کرتے ہیں۔ جبکہ اس اتحاد کے مقابلے میں ایک ایسا کمزور اتحاد پایا جاتا ہے جس کی سربراہی عبد ربہ منصور جیسا کمزور شخصیت کا مالک، ناتجربہ کار اور عوام میں مقبولیت نہ ہونے کے برابر شخص کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ فوجی ٹکراو میں جو چیز افراد کو لڑنے میں مدد فراہم کرتی ہے وہ "لڑنے کا جذبہ" ہے۔ ایسا فوجی یا جنگجو جو اپنی سرزمین کا دفاع کر رہا ہو اور اپنے مورچے میں بیٹھ کر یہ تصور کر رہا ہو کہ وہ اپنے قومی وقار اور قومی سلامتی کا محافظ ہے، اس میں لڑنے کا ایسا جذبہ پایا جاتا ہے جو آسمان کی بلندی سے ہوائی حملے کے ذریعے مخصوص ٹھکانوں پر بمباری کرنے والے پائلٹس یا فوجیوں میں ہر گز موجود نہیں ہو سکتا۔
 
سعودی عرب نے یمن پر ہوائی حملوں کی وجہ اپنے بقول یمن کے "قانونی" صدر عبد ربہ منصور ہادی اور ان کی حاکمیت کا دفاع بیان کیا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی کے "قانونی" یا "غیرقانونی" ہونے کی تشخیص کون دے گا؟ کیا اس کا معیار فوجی بغاوت کا انجام پانا یا نہ پانا ہے؟ یا اس کا معیار آزاد اور شفاف جمہوری انتخابات کا انعقاد ہے؟ اگر یہ مان لیا جائے کہ انجام شدہ عمل کسی کے قانونی جواز یا مشروعیت کی بنیاد ہے تو لیبیا، یمن اور عراق میں فوجی حملوں سے قبل باقی ایسے تمام ممالک کی طرح جہاں وراثتی نظام حکومت برسراقتدار ہے، قانونی حکمران موجود تھے۔ لیکن اگر ہم جمہوری معیاروں کو اپنے مدنظر قرار دیں، تو عبد ربہ منصور ہادی کو قانونی اور جائز صدر کے طور پر تسلیم کرنے کی صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسی معیار کی بنیاد پر مصر کے سابق صدر محمد مرسی کو کیوں قانونی اور جائز صدر کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا؟ کیا وجہ ہے کہ جب مصر میں صدر محمد مرسی کو فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا تو سعودی عرب نے انہیں واپس اقتدار میں لانے کیلئے کوئی فوجی اتحاد تشکیل نہیں دیا اور اس ضمن میں کوئی موثر اقدام انجام نہیں دیا؟
 
چونکہ آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں منطق اور منطقی اصولوں کی کوئی گنجائش نہیں لہذا اس بارے میں بات کرنے کا بھی کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ اب دیکھتے ہیں کہ اگلے پانچ سال میں سعودی عرب، یمن اور ان کے ہمسایہ ممالک کی صورتحال کیا ہو گی۔ سب سے پہلے ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ سعودی عرب نے درحقیقت ایران کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے، نہ حوثی گروہ کے خلاف۔ سعودی عرب نے پراکسی وار میں ناکامی کے بعد براہ راست جنگ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ وہ اس طرح اپنا کھویا ہوا اثرورسوخ واپس لوٹا سکتا ہے۔ یہ اثرورسوخ ایران کے بارے میں امریکی پالیسی میں تبدیلی، سعودی عرب کی حمایت یافتہ تخریب کاری کے مقابلے میں شام حکومت کی استقامت اور کامیابیوں، لیبیا کی بگڑتی سیاسی صورتحال اور ایران کی جانب سے چار اہم عرب ممالک یعنی عراق، شام، یمن اور لبنان اور فلسطین کے بعض حصے (حماس اور اسلامک جہاد) میں براہ راست اور بالواسطہ اثرورسوخ بڑھانے کی وجہ سے کھو چکا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سعودی عرب کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال کا راستہ اپنانے سے اس کا کھویا ہوا اثرورسوخ واپس لوٹ آئے گا؟ یا ایران کا اثرورسوخ کم ہو جائے گا؟
 
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سعودی حکمران اس خطرے سے اچھی طرح آگاہ ہیں جس کا انہیں یمن میں سامنا ہے۔ درست ہے کہ حوثی گروہ اور ان کے حامیوں کے پاس جدید جنگی طیارے نہیں اور وہ حتی پرانے جنگی طیارے بھی نہیں رکھتے یا اگر سوویت یونین کے زمانے کے پرانے اور ٹوٹے پھوٹے جنگی طیارے رکھتے بھی ہوں تو سعودی عرب نے اپنے ابتدائی ہوائی حملوں میں انہیں تباہ کر دیا ہے، لیکن اس کے عوض جو چیز حوثی گروہ اور ان کے حامیوں کے پاس موجود ہے وہ میدان جنگ میں لڑنے کیلئے عظیم جنگی قوت ہے اور عین ممکن ہے کہ حزب اللہ لبنان یا غزہ میں حماس یا اسلامک جہاد کے تجربات کو یمن میں دہرایا جائے اور یمن کے انقلابی گروہ صعدہ اور سعودی عرب کی سرحد پر واقع علاقوں میں عظیم میزائل طاقت کو معرض وجود میں لے آئیں۔ 
 
ماضی میں نیٹو اتحاد نے لیبیا میں جنرل قذافی کی حکومت گرانے کیلئے فوجی کاروائی انجام دی، لیکن آج ہم اس کے کیا نتائج دیکھ رہے ہیں؟ آج لیبیا چھوٹے چھوٹے مسلح اور شدت پسند گروہوں جیسے القاعدہ، انصار الشریعہ اور داعش وغیرہ سے بھر چکا ہے۔ اگر یمن میں بھی یہی عمل تکرار ہو جائے تو اس کا مقابلہ کیسے کریں گے؟ لہذا یہ کہنا چاہئے کہ سعودی عرب نے انتہائی خطرناک کام کا آغاز کیا ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ خود ہی اپنے دام میں پھنس کر رہ جائے۔ اسے لمبی مدت والی "تھکا دینے والی جنگ" کا نام دیا جاتا ہے۔ ممکن کوئی یوں کہے کہ سعودی عرب کے پاس Desert Storm کی طرز پر Decisive Storm نامی آپریشن شروع کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا تھا۔ ڈیزرت اسٹارم وہ آپریشن تھا جو امریکی جنرل شورازکف نے عراقی مسلح افواج کو کویت سے نکال باہر کرنے کیلئے انجام دیا تھا۔ لیکن ان دو آپریشنز میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے۔ ڈیزرٹ اسٹارم امریکہ کی کمان میں طیارہ بردار کشتی، ایئرفورس اور 5 لاکھ فوجیوں کی مدد سے انجام پایا اور اس میں 30 سے زائد ممالک نے ایک جارح قوت کو کویت سے نکال باہر کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شروع کیا گیا "فیصلہ کن طوفان" ایسا نہیں۔ یہ آپریشن یمنی فورسز کے خلاف شروع کیا گیا ہے جو اپنے ملک میں موجود ہیں۔ علاوہ ازایں، خود امریکہ اور اس کے اتحادی صحرائی طوفان کے منفی اثرات کو ختم کرنے کیلئے 15 سال تک خطے میں ذلیل ہوتے رہے، اور اس کے بعد عراق پر فوجی حملہ کیا اور اس کے 10 سال بعد ذلت آمیز شکست کھا کر خطے سے رخصت ہوئے۔ 
 
یمن شہد کی مکھیوں کا چھتا ہے، یا زیادہ بہتر الفاظ میں یہ کہ زہریلے سانپوں کا اڈہ ہے۔ لہذا بہترین راہ حل اس کے قریب نہ جانے میں مضمر ہے۔ عراق کا بحران 10 سال تک جاری رہا، شام کا بحران 4 سال تک رہا اور خدا جانتا ہے کہ یمن کا بحران کتنے سال تک جاری رہے گا اور ہم اس میں پھنسے رہیں گے؟
مترجم : سید ضیغم عباس ھمدانی
خبر کا کوڈ : 450450
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب