0
Sunday 14 Aug 2016 12:07

ٹھیک عراق اور شام کی طرح

ٹھیک عراق اور شام کی طرح
تحریر: جعفر بلوری

فرانس میں پیدا ہونے والا ایک نوجوان ہے جس کا سلسلہ نسب چند نسلوں کے فاصلے سے ایک ایشیائی یا افریقی ملک تک جا پہنچتا ہے لیکن مغرب میں چند عشروں تک زندگی بسر کرنے کے باعث اس کا طرز زندگی مکمل طور پر مغربی ہو چکا ہے۔ جب وہ صدر بشار اسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے شام جانا چاہتا تھا تو کوئی اس کے فیصلے میں رکاوٹ نہ بنا۔ بہت آسانی سے شام گیا، قتل و غارت کی اور انسانوں کو قتل کرنے کے مختلف طور طریقے اچھی طرح سیکھے۔ اچھی طرح وحشی ہونے کے بعد کسی نہ کسی طرح اپنے یورپی وطن واپس آنے میں کامیاب ہو گیا۔ اب وہ ایک خونخوار حیوان صفت انسان میں تبدیل ہو چکا ہے اور انسانوں کو قتل کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ گلے کاٹنا، عزتیں لوٹنا اس کا معمول کا کام بن چکا ہے۔ اگر اس سے ان بہیمانہ اقدامات کی وجہ پوچھی جائے جن میں وہ بہت حد تک ماہر بھی ہو چکا ہے تو اس کے ذہن میں موجود وہابی طرز تفکر جواب دے گا: "جو شخص ہم جیسا نہیں اس کا خون بہانا جائز ہے۔۔۔ سب مشرک اور کافر ہیں مگر وہ افراد جو ہم جیسا سوچتے ہیں، ہم جیسا لباس پہنتے ہیں اور ہم جیسی زندگی بسر کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہم شیرخوار بچوں کو قتل کر کے ان پر احسان کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے بڑا ہو کر مشرک، کافر، مجوسی اور رافضی ہی تو بننا تھا جس میں ہم رکاوٹ بن گئے"۔

یہ ان نیلی آنکھوں والے تکفیری دہشت گردوں کی صورتحال کا مختصر تذکرہ ہے جو جس وقت عراق یا شام جا رہے تھے کسی نے انہیں نہیں روکا کیونکہ یہ طے پا چکا تھا کہ یہ افراد اسلام کے نام پر عام شہریوں کے قتل عام اور اپنے مجرمانہ اقدامات کی تصاویر اور ویڈیوز شائع کر کے وہ کام کر دکھائیں گے جو گذشتہ کئی صدیوں سے عالمی استعماری طاقتیں مظلوم اسلام کے ساتھ نہ کر پائیں۔ ان افراد نے اپنے مجرمانہ اقدامات کے ذریعے کچھ سالوں میں ہی استعماری اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا اور ایران کی سربراہی میں خطے میں سرگرم اسلامی مزاحمتی بلاک میں شامل اہم ملک شام میں اسلامی مزاحمت کے حامی صدر بشار اسد کی حکومت کا تختہ الٹ کر اسرائیل کی قومی سلامتی کی ضمانت فراہم کرنا تھا تاکہ اس طرح غاصب صیہونی رژیم سکھ کا سانس لے سکے۔ لیکن گذشتہ چند ماہ سے جنگ کا پانسہ ہی پلٹ چکا ہے۔ عراق، شام، لیبیا اور افغانستان کے عوام کی بہادری اور شعور و آگاہی، عوامی رضاکار فورسز کی تشکیل اور جنرل قاسم سلیمانی کی شجاعانہ قیادت کے باعث نام نہاد اسلامی خلافت کا تصور وہم بن کر ختم ہو چکا ہے۔ اب ماضی کی طرح تکفیری دہشت گرد عناصر کی جانب سے قتل و غارت، جنگ افروزی اور مغربی ایشیا اور افریقہ کے مختلف شہروں پر قبضے کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ عراق میں صرف موصل کا شہر داعش کے قبضے میں ہے جبکہ شام میں حلب کی آزادی کے بعد تکفیری دہشت گرد عناصر کا کام تمام ہونے والا ہے (انشاءاللہ)۔

اگر ہم کچھ عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ تکفیری دہشت گرد عناصر خودکش دھماکوں کے ذریعے عام شہریوں کے قتل عام میں مصروف ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ حالات میں تبدیلی نے انہیں اپنی اسٹریٹجی میں تبدیلی لانے پر مجبور کر دیا ہے۔ البتہ صرف خودکش حملوں میں اضافہ جیسا کہ بغداد کے بازار میں بڑا خودکش دھماکہ ہوا جس میں 300 عام شہری جاں بحق ہو گئے اور عراق کی تاریخ کا سب سے بڑا دہشت گرد حملہ قرار پایا، ہی اس تبدیلی کا بنیادی حصہ نہیں بلکہ داعش کی اسٹریٹجی میں تبدیلی کا بنیادی حصہ دہشت گرد عناصر کی مغربی ایشیا سے مرکزی یورپ منتقلی اور نقل مکانی پر مشتمل ہے۔ آج داعش ٹھیک اسی طرح جیسے عراق اور شام میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتا تھا پیرس، نائس، نارمنڈی، برسلز، میونخ، اوہائیو وغیرہ میں طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ عراق اور شام سے واپس پلٹنے والے تکفیری دہشت گردوں کو قتل و غارت کی لت پڑ چکی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مغربی ایشیا اور افریقہ میں لاکھوں بیگناہ انسانوں کے قتل نے ان کی درندگی کی پیاس نہیں بجھائی۔ داعش نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب تک پیرس میں 200 افراد، نائس میں 84 افراد، آرلینڈو میں 54 افراد، برسلز میں 40 افراد، سان بیرنارڈینو میں 14 افراد، نارمنڈی میں 3 افراد اور سڈنی میں 2 افراد کو قتل کر چکے ہیں۔ اسی طرح ان کے اعلان کے مطابق وہ جرمنی کے دو شہروں آنسباخ اور وورٹسبورگ میں بالترتیب 23 اور 14 افراد کو زخمی کر چکے ہیں۔ یہ حملے خودکش، بم دھماکوں، فائرنگ، تلوار، خنجر اور کلہاڑی کے ذریعے انجام دیے گئے ہیں۔ ٹھیک عراق اور شام کی طرح داعش نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گرد حملے جاری رہیں گے۔

اس وقت مغربی ممالک میں دہشت گردانہ حملے اس قدر زیادہ ہو چکے ہیں کہ کوئی ان حملوں کی خبر سن کر حیرت کا اظہار نہیں کرتا۔ ٹھیک شام اور عراق کی طرح۔ یورپ اور امریکہ میں بھی دہشت گردانہ حملوں کی خبریں آہستہ آہستہ معمول کی خبروں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دس سے کم ہو تو وہ کوئی اہم خبر محسوب نہیں ہوتی۔ ٹھیک عراق اور شام کی طرح۔ جب ہم یورپ میں بیگناہ شہریوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی تصاویر کا مشاہدہ کرتے ہیں تو واضح طور پر شہریوں کے خوف اور وحشت اور اسی طرح حکمرانوں کے اضطراب اور پریشانی کو دیکھ سکتے ہیں۔ یورپی شہری ایک گولی یا دھماکے جیسی چیز کی آواز سن کر تعجب کا اظہار نہیں کرتے اور کسی کا انتظار کئے بغیر فرار کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور پرامن پناہگاہ کی تلاش میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر لمحہ دہشت گردانہ حملہ انجام پانے کی توقع رکھتے ہیں۔ ٹھیک عراق اور شام کے عوام کی طرح۔ تکفیری دہشت گرد عناصر کا قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ وہ آج جدید یورپ میں سرگرم عمل ہو چکے ہیں۔

ابھی چند دن پہلے ہی یہ خبر سننے میں آئی کہ ایک 19 سالہ نوجوان نے اپنے دوستوں کی مدد سے فرانس کے شہر سینٹ ایٹن میں نارمینڈی چرچ (پیرس کے شمال مغرب میں 125 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبہ) کے پادری سمیت چند افراد کو یرغمال بنایا اور آخر میں پادری کا گلا کاٹ دیا اور یہ نعرہ بلند کیا: "میں ایک داعشی ہوں"۔ البتہ یہ خبر مغربی ممالک میں اس سے قبل انجام پانے والے دہشت گردانہ حملوں کے برعکس ایک معمولی خبر نہ تھی۔ اس دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کم ہونے کے باوجود جس چیز نے اس کی خبر کو اہم بنایا وہ اخبار ڈیلی میل کے بقول داعش سے وابستہ دہشت گرد کی جانب سے قتل ہونے والے شخص کا گلا کاٹنا تھا۔ یہ وہ اقدام تھا جس کے بارے میں کوئی بھی مغربی حکومتی عہدیدار وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ گذشتہ 5 برس کے دوران مغربی ممالک نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی کسی بھی مدد – زور دے کر کہتا ہوں کہ کسی بھی مدد – سے دریغ نہیں کیا تھا۔

جب ہم رائٹرز (Reuters) اس رپورٹ کا مطالعہ کرتے ہیں جس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ "دہشت گردوں نے مغربی انٹیلی جنس اداروں کو مشکل میں ڈال دیا ہے" اور اس کے ساتھ ساتھ یورپی حکمرانوں کے بار بار دیے جانے والے اس بیان کہ "عراق اور شام سے سینکڑوں دہشت گرد واپس لوٹ چکے ہیں اور مختلف یورپی ممالک میں موجود ہیں اور دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں" پر نظر دوڑاتے ہیں اور فورا یہ سننے میں آتا ہے کہ برطانوی حکومت نے کہا یقینا برطانیہ میں بھی مشابہہ دہشت گردانہ حملے رونما ہوں گے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یورپ میں دیگر وحشیانہ دہشت گردانہ حملوں کی توقع رکھنی چاہئے۔ اب مغربی دنیا ٹھیک عراق اور شام کی طرح صرف اقتصادی بحران سے ہی روبرو نہیں بلکہ اسے سیکورٹی بحران کا بھی سامنا ہے۔ یہ سب کچھ صرف آغاز ہے۔ خدا جانتا ہے ان بے عقل اور بے شعور حیوان صفت دہشت گردوں کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے مغربی دنیا کو کس قدر وقت اور پیسے صرف کرنے پڑیں گے۔ یہ وہ خطرہ تھا جس کے بارے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تین سال قبل جب مغربی ممالک میں کوئی ایسا واقعہ رونما بھی نہیں ہوا تھا مغربی دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا: "وہ وقت زیادہ دور نہیں جب یہ (دہشت گرد) گروہ انہیں ممالک کیلئے وبال جان بن جائیں گے جو آج اس کی مدد کر رہے ہیں اور آخرکار یہ ممالک بہت زیادہ اخراجات اور نقصان برداشت کر کے انہیں ختم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے"۔ [2 جون 2014ء، امیر کویت سے ملاقات کے دوران]۔

مغربی ممالک آج ماضی کی طرح اس خودساختہ سیکورٹی بحران کو اسلام فوبیا میں تبدیل کر کے خطرے کو موقع میں تبدیل کرنے پر بھی قادر نہیں رہے۔ مغربی طاقتوں کی جانب سے تمام تکفیری دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اور موثر اقدام کے علاوہ ہر دوسرا اقدام نہ صرف انہیں درپیش اس خطرے کو برطرف نہیں کرے گا بلکہ درپیش خطرے کو مزید بڑے خطرے میں تبدیل کر دے گا۔ جرمنی میں نسل پرستانہ حملوں میں 8 گنا اضافہ سیکورٹی بحران کے مقابلے میں مغربی ممالک کے انہیں غلط اقدامات اور پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ آج کے بعد مغربی حکمرانوں کی جانب سے دہشت گردانہ حملوں کو اسلام فوبیا پھیلانے کیلئے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا نتیجہ برعکس ہو گا اور ان کو درپیش سیکورٹی بحران اور بدامنی شدید سے شدیدتر ہوتی جائے گی۔ ہماری نظر میں اس مسئلے کا راہ حل لیبیا یا عراق پر فوج کشی یا ہوائی حملے نہیں بلکہ تمام مسائل اور مشکلات کا واحد راہ حل یہ ہے کہ مغربی طاقتیں ان ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر مبنی پالیسی اور اقدامات ترک کر دیں۔ تکفیری دہشت گردی کا شکار ممالک میں عوامی رضاکار فورسز اور ان کی اپنی مسلح افواج تکفیری گروہوں کا خاتمہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔

اگر مغربی ممالک اپنے سے دہشت گردی کا خطرہ دور کرنے کے خواہاں ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ پہلے مرحلے پر خود سے شروع کریں۔ دہشت گردی کا اچھا یا برا ہونا یا سیاہ اور سفید ہونا کوئی معنی و مفہوم نہیں رکھتا۔ تمام دہشت گرد برے ہیں اور سیاہ ہیں۔ عالمی سطح پر موجود سیکورٹی بحران کا واحد راہ حل دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور مدد ختم کرنے میں مضمر ہے۔ دہشت گرد عناصر اپنے لئے خوبصورت نام انتخاب کرتے ہیں جیسے "فرینڈز آف سیریا" یا "فری آرمی" لیکن اس کے باوجود وہ برے ہیں ہیں۔ وہ 11 سالہ فلسطینی بچہ جو تالیسمیا کا مریض بھی تھا امریکہ کی نظر میں اعتدال پسند گروہ "نورالدین زنکی" کے دہشت گردوں سے درخواست کرتا رہا کہ میرا گلا نہ کاٹو، اگر مجھے مارنا ہی ہے تو گولی مار دو لیکن ان درندہ صفت دہشت گردوں نے ان کی ایک نہ سنی اور اس کا گلا کاٹ دیا۔

دوسرے مرحلے پر مغربی ممالک خطے میں اپنے اتحادی ممالک پر توجہ دیں۔ خطے میں موجود آل سعود، آل ثانی وغیرہ جیسی رجعت پسند عرب حکومتوں پر دباو بڑھا کر تکفیری دہشت گرد گروہوں کو کمزور کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح تکفیری طرز فکر کا پرچار کرنے والے دینی مدارس کی بندش جیسا اقدام تکفیری دہشت گردی کے خاتمے میں موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر میں مذہبی رجحانات رکھنے والے جوانوں کو دینی آگاہی اور شعور فراہم کرنے سے بھی تکفیری طرز فکر کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ وہی اقدام ہے جس کے تحت ولی امر مسلمین امام خامنہ ای چند بار مغربی جوانوں کے نام محبت آمیز خط لکھ چکے ہیں اور اس میں انہیں اسلام کے بارے میں آزاد ذہن سے تحقیق کی دعوت دے چکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی بانی قوتوں نے اسے ہمیشہ باقی رہنے کیلئے تشکیل نہیں دیا۔ داعش کی تشکیل سے ان کا اصل مقصد اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔ لہذا جب تک اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم دنیا میں موجود ہے اس وقت تک داعش جیسے اور دہشت گرد گروہ تشکیل پاتے رہیں گے اور دنیا میں بدامنی اور سیکورٹی بحران موجود رہے گا۔ ٹھیک عراق اور شام کی طرح مغربی ممالک کی نجات کا واحد راہ حل بھی اسرائیل کا خاتمہ اور نابودی ہے۔
خبر کا کوڈ : 557907
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے