1
0
Monday 5 Aug 2019 11:02

ملت کی یتیمی اور برسی کا اجتماع

ملت کی یتیمی اور برسی کا اجتماع
تحریر: ارشاد حسین ناصر
 
آج پانچ اگست ہے، ٹھیک اکتیس برس قبل اس دن ہمارے عظیم قائد علامہ سید عارف الحسینی کو ہم سے چھین لیا گیا، ہمیں یتیم کر دیا گیا، ہمیں محروم کر دیا گیا، ایسا محروم جس کو پھر وہ شفقت نہ ملی، ایسا یتیم جس کے بعد دوبارہ وہ سایہ نہ ملا، ایسا یتیم جس کے بعد دوبارہ وہ خوشبو نہ ملی، ایسا یتیم جس کے بعد ہم اکتیس برس ہوئے بھٹک رہے ہیں، ایسا یتیم جس کے بعد اکتیس برس ہوئے ہم مارے مارے پھرتے ہیں۔ ہمیں آج اکتیس برس بعد بھی اس خوشبو کی تلاش ہے، جس نے ہمیں اپنے سحر میں جادوئی طور پر جکڑ لیا تھا۔ ایسا یتیم جس کے بعد ہمیں وہ لہجہ نہیں ملا جس نے ہماری سماعتوں کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا اور اکتیس برس سے ہم اس لہجہ کو پانے کیلئے تڑپ رہے ہیں۔ ہم نے اس پیاس میں دھوکے کھائے ہیں، ہم نے جسے سمندر سمجھا وہ سراب تھا، ہم نے جسے خوشبو سمجھا، وہ وہ کاغذی پھول تھا، ہم نے جسے سایہ سمجھا، وہ ساتھ چھوڑ گیا۔

ہم جسے مضبوط، طاقتور، بلند و بالا چٹان بنائے ہوئے تھے، وہ معمولی جھٹکے سے دھڑام سے آن گرا، اس وقت ہمیں علم ہوا کہ وہ تو اندر سے کھوکھلا تھا، اس کیفیت کو اکتیس برس ہوگئے، وقت کب ٹھہرتا ہے، وقت کب انتظار کرتا ہے، وقت تو اپنی رفتار سے چلتا ہی رہتا ہے۔ آج ہم اس کیفیت سے دوچار اکتیسویں برسی منا رہے ہیں، آج نوحہ کا دن ہے، آج گریہ کا دن ہے، آج ماتم کا دن ہے، آج آنسووﺅں کا دن ہے، آج اپنی محبتیں ایک بار پھر اس ہستی کی طرف نچھاور کرنے کا دن ہے، جس کی عقیدت، جس کی چاہت، جس کی محبت، جس کی قربت، جس کی خوشبو، جس کا لہجہ، جس کی آواز، جس کی صورت، جس کے کردار، جس کے عمل، جس کے اخلاق، جس کی عبادت، جس کی شجاعت، جس کی مناجات، جس کی دعائیں، جس کا گریہ، جس کی نمازیں، جس کے افکار ہمارے لئے حجت قرار پائے، مگر کیا کریں کہ
تیری خوشبو نہیں ملتی، تیرا لہجہ نہیں ملتا
 
بہت سے لوگ ممکنہ طور پہ میری اس جذباتی اور عقیدتی تحریر کو غلو قرار دیں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ گذشتہ روز بھی جب میں برسی کے سالانہ اجتماع میں شریک تھا تو ایسی ہی کیفیات سے دوچار تھا، میں شہید کی برسی کے سالانہ اجتماعات جو 2008ء سے اسلام آباد میں ہو رہے ہیں، ان میں مسلسل شریک رہا ہوں، اس سے قبل ہم ہر سال چار اگست کو پیواڑ میں ہوتے تھے اور شب شہادت مزار پہ گریہ و مناجات اور شہید سے توسل کیساتھ گزرتی تھی، ہم نے شہید کو اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں کے سامنے ان حالات و واقعات اور کیفیات میں دیکھا ہے، ان کے لہجہ کو اپنے اندر سمویا ہے، ان کی خوشبو کو بہت ہی قریب سے محسوس کیا ہے، ان کی شیریں بیانی کا لطف اٹھایا ہے، ان کے اخلاص کے نمونے ملاحظہ کئے ہیں، انہیں اجتماع میں اور تنہائی میں دیکھا ہے، ایسی کشش اور جاذبیت کہ اس کا احساس اکتیس برس گذر جانے کے بعد بھی محسوس ہوتا ہے تو لطف لیتے ہیں، دست بوسی کرنے کی ہماری کوشش اور شہید کا ہاتھ کھینچنا، بھلا کیسے بھلایا جا سکتا ہے۔ شہید کے نام کا نعرہ لگانا اور ان کا منع کرنا اور تاکید فرمانا کہ امام خمینی کا نعرہ لگائیں اور یہ بنا کسی تصنع اور بناوٹ کے شائد ہمیں ایسا کوئی مل جائے، شہید کی ایسی ہی بے شمار اور ان گنت باتیں ہیں، تبھی ہماری یہ کیفیات رہتی ہیں اور پانچ اگست کو تو ہمیں شہید کا گریہ کرنا ہوتا ہے، اگر کوئی غمگسار مل جائے تو اس کے گلے لگ کے اور کوئی نہ ملے تو تنہائی میں آنسوﺅں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔

بات چل نکلی ہے سالانہ اجتماعات کی، جو برسی کے موقعہ پر منعقد ہوتے ہیں اور اس میں ہزاروں عقیدت مند شریک ہوتے ہیں، گذشتہ روز ہونے والا اجتماع جو ناصران ولایت کانفرنس کے عنوان سے منعقد ہوا، اس میں اب تک ہونے والے تمام اجتماعات سے زیادہ شرکت تھی اور مجھے بہت ہی اچھا لگ رہا تھا، جب اس اجتماع میں اس ملت کے بہت سے بزرگان، سفید ریش جو شہید کے زمانے میں بلا شبہ جوانی میں ہونگے، ملت کے جوان جنہوں نے شہید قائد کو دیکھا نہیں، بس ان کی باتیں کسی سے سنی ہیں، ان کی زندگی کے واقعات سے آشنا ہوئے ہیں اور بہت سے ایسے جوان بھی جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچے، جبکہ خواہران کی ایک اچھی تعداد اور علماء جن میں زیادہ تر نئی نسل کے لوگ ہیں، دیکھے جا رہے تھے۔ مجھے یہ سب ان حالات میں بہت اچھا اور غنیمت لگا کہ جب مایوسیوں کے بادل منڈلا رہے ہوں اور جب مشکلات کے پہاڑ کھڑے کئے جا رہے ہیں، جب سایہ بھی ساتھ چھوڑ جائے، جب کوئی ہمدرد، مونس غمخوار نہ ہو، ایسے میں اتنی بڑی تعداد میں شہید کے نام پہ لوگوں کا جمع ہونا کسی غنیمت سے کم نہیں۔

لوگ سفر کی صعوبتیں برداشت کرکے شہید کے نام پہ جمع ہو جاتے ہیں، یہ بھی ایک معجزانہ کیفیت ہے، اس لئے کہ یہ منتظمین کی محنتوں اور کاوشوں کیساتھ شہید کی شخصیت کا اثر ہے، ایسے قومی اجتماعات سے قوم میں حوصلہ پیدا ہوتا ہے، ایسے بڑے اجتماعات سے قوم میں ایک احساس جنم لیتا ہے کہ وہ بھی میدان میں ہے، میدان خالی نہیں چھوڑا اور ریاستی اداروں اور حکمرانوں کو بھی یہ پیغام جاتا ہے کہ اس مکتب کے لوگ اپنا وجود رکھتے ہیں اور اپنی قوت رکھتے ہیں، جس کا اظہار کیا جا رہا ہے، اس قوم میں بھی کوئی ہے، جس کی آواز پہ اتنے لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ کہا جائے اتنا خرچہ کرکے قوم کو کیا دیا گیا تو عرض ہے کہ سب سے پہلے تو اس شہید کا حق ادا ہوا، جس نے اپنی زندگی کو قوم پر قربان کر دیا، امام خمینی نے حکم صادر فرمایا تھا کہ شہید کے افکار کو زندہ رکھیں، لوگوں نے آج اکتیس برس بعد بھی شہید قائد سے عہد وفا کی تجدید کی، جو میری ذاتی رائے میں بہت ہی ضروری ہے، اس کیساتھ ساتھ جو لوگ اس اجتماع میں سفر کی صعوبتیں برداشت کرکے موسم کی تلخیوں کو پس پشت ڈال کے تشریف لائے، انہوں نے ایک قومی یکجہتی اور اس مکتب کے ایک زندہ فرد ہونے کا عملی ثبوت دیا۔ خداوند کریم و مہربان ان مخلصین کی آرزوﺅں کو پورا کر دے، ان کے ارمانوں کو پورا کر دے، جو اکتیس برس سے اپنے شہید کا لہجہ سننا چاہتے ہیں اور ان کی خوشبو کو پھر سے محسوس کرنا چاہتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 808992
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
احسنتم
منتخب