1
0
Saturday 11 Aug 2012 23:16

مکہ کانفرنس، پاکستان کا قابل ستائش موقف و کردار

مکہ کانفرنس، پاکستان کا قابل ستائش موقف و کردار
تحریر: عمران خان

 ہر طرح کے مسائل و چیلنجز کے باوجود عالمی خصوصاً اسلامی دنیا کے معاملات میں پاکستان کا کردار ہمیشہ سے بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ دنیا بھر میں کہیں بھی ملت اسلامیہ کو کوئی مشکل درپیش آئی تو پاکستان کی جمہوری حکومتوں اور عوام نے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاکر اس مشکل کو حل کرنے کی پرخلوص کوشش کی۔ دور حاضر میں امت مسلمہ جن کڑے مصائب و آلام سے گزر رہی ہے، اس کے لیے ضروری تھا کہ اسلامی ریاستوں کے حکمران مل بیٹھ کر کوئی مشترکہ و متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیں۔
 
فلسطین، کشمیر، برما، مالی، بحرین، شام، افغانستان کے مخدوش حالات کی وجہ سے پوری دنیا میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ سعودی عرب جو مسلمانوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اس کے اندرونی حالات بھی سیاسی اصلاحات کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ایسے موقع پر خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے 15-14 اگست کو مکہ معظمہ میں ہنگامی اسلامی سربراہی کانفرنس بلائی گئی ہے۔ 

رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں پہلی نظریاتی اسلامی ریاست کے جشن آزادی 14 اگست کے موقع پر جمعۃ الوداع یوم القدس کا قرب حاصل کئے اسلامی حکمرانوں کا یوں مل بیٹھنا دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اس صورت میں باعث فرحت و تسکین ہے، اگر اس کانفرنس میں مسلمانوں کے دیرینہ مسائل کے حل، اتحاد بین المسلمین کے فروغ اور اسلامی ریاستوں کے درمیان مشترکہ پراجیکٹ کے آغاز کے سلسلے میں کوئی عملی پیشرفت ہو۔ 

عالمی امور پر نظریں رکھنے والے تجربہ کار اذہان اس کانفرنس کے مقاصد پر تحفظات کا شکار نظر آتے ہیں۔ ان کی نظر میں یہ کانفرنس امریکہ و اسرائیل کی ایماء پر شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے اور بعدازاں وہاں امریکہ اسرائیل نواز حکومت کے قیام کے لیے پوری اسلامی دنیا کو اعتماد میں لینے کی غرض سے بلائی گئی ہے۔ یقیناً خادم حرمین شریفین، مکہ مکرمہ جیسی مقدس سرزمین کو ملت اسلامیہ کے حصے بخرے اور امریکہ و اسرائیل کی حمایت و ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہرگز استعمال نہیں کریں گے۔ اگر شام میں دہشت گردی اور گولہ بارود کی بنیاد پر حکومت کی تبدیلی کا امریکی و اسرائیلی تجربہ خدانخواستہ کامیاب قرار پا گیا تو مستقبل میں پوری اسلامی دنیا اسی کی لپیٹ میں رہے گی۔
 
سعودی تیل کے پیداواری علاقوں میں جو عوام اپنے حقوق اور نظام حکومت میں اپنے کردار کے لیے آج کوششیں کر رہے ہیں، کل ان کو بھی نام نہاد سپر پاور اسی طرح استعمال کرسکتی ہے، جیسے آج شام میں دہشت گردوں کو ڈالرز اور اسلحہ کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ سوات سے اٹھنے والی دہشت گردی کی لہر، جس نے شریعت محمدی کا لبادہ اوڑھ کر پاکستان کو یرغمال بنانے کی کوشش کی اور ہماری پاک افواج نے بڑی مہارت سے اس پر قابو پایا، ان کے لیے بھی دوبارہ منظم ہونا اس دلیل کے ساتھ ممکن ہوگا کہ اگر شام میں بندوق کے زور پر مٹھی بھر شدت پسند برسر اقتدار آسکتے ہیں تو ہمارے لیے کیوں ممکن نہیں۔
 
اسی طرح بحرین کی پرامن تحریک بھی خانہ جنگی کی جانب بڑھ سکتی ہے اور یمن کے وہ قبائل جو ایک طویل عرصہ سے بارود کی بارش سہہ رہے ہیں، وہ بھی اینٹی ائیرکرافٹ گنیں حاصل کرنے کی تگ و دو میں جاسکتے ہیں۔ ان کے لیے تو اسلحہ کے وسائل حاصل کرنا اس لیے بھی زیادہ آسان ہیں کیونکہ وہ ان سمندری راستوں تک بھی رسائی رکھتے ہیں، جہاں سے عالمی قزاقوں کو اسلحہ کی ترسیل ہوتی ہے۔ اسی طرح عراق و ترکی کی سرحدی پٹی میں موجود کرد قبائل بھی زیادہ منظم جدوجہد شروع کرسکتے ہیں۔
 
شام میں فوج اور دہشت گردوں کے درمیان جاری لڑائی اسی طرح ہی شام کا اندرونی معاملہ ہے، جس طرح سوات میں مولوی فضل اللہ اور وزیرستان میں القاعدہ و طالبان کے خلاف پاک فوج کی خیبرشکن جدوجہد ہے۔ جس میں کسی بیرونی قوت کو مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے شام کے موضوع پر تہران میں ہونیوالی کانفرنس میں پاکستان کے اصولی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے واضح الفاظ میں شام کے اندر بیرونی مداخلت کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ شام کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا حق صرف وہاں کے عوام کو حاصل ہے۔ کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت شام کو مسئلے کو انتہائی سنگین بنا دے گی۔ 

انھوں نے مزید کہا کہ القاعدہ و دیگر انتہا پسند دہشتگرد گروپ شام میں گھس رہے ہیں، جو نہ صرف شام کے لیے بلکہ پورے مشرق وسطٰی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ ہمیں ایسے گروپس کو مزید محفوظ ٹھکانے حاصل کرنے سے روکنا ہوگا۔ پاک قیادت کا یہ موقف انتہائی دوراندیشی اور سفارتی و عالمی اصولوں کے عین مطابق ہے، جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ پاکستان کے اس واضح موقف سے جہاں اسلامی دنیا میں اسرائیلی و امریکی مداخلت کی حوصلہ شکنی ہوگی، وہاں امت مسلمہ بھی شائد دو بلاکس میں تقسیم ہونے سے بچ جائے۔
 
واضح رہے کہ برما میں جب بدھ بھکشو مسلمانوں کو برچھیوں بھالوں سے تہ تیغ کرکے آگ میں ڈال رہے تھے تو اس وقت ایران کے بعد پاکستان ہی کی حکومت تھی جس نے نہ صرف اس قتل و غارت کا نوٹس لیا بلکہ او آئی سی کو بھی بیدار کیا، جس کے بعد او آئی سی نے اپنا ایک تفتیشی وفد برما بھیجنے کا اعلان کیا۔ 

تہران کانفرنس میں چین، پاکستان سمیت دنیا کے 29 ممالک نے شرکت کی ہے۔ اس کانفرنس میں ایران نے شام کے مسئلہ کا حل صرف مثبت بات چیت کو قرار دیا ہے۔ تہران کانفرنس کے بعد مکہ میں اسلامی کانفرنس منعقد ہونے جا رہی ہے۔ فلسطین کے مسلمان جو گزشتہ نصف صدی سے آزادی کا خواب دیکھ رہے ہیں مکہ کانفرنس سے بڑی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ مکہ کانفرنس کے مندوبین کے لیے یہ ایک مشکل مرحلہ ہوگا کہ وہ اسرائیل کے تحفظ اور امریکی خواہش پر بشارالاسد حکومت کے خلاف کوئی قراداد لاتے ہیں یا آزادی فلسطین کے دورس مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے شام میں جاری دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ کیونکہ اس میں تو کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ شام میں اسرائیل دوست حکومت کا قیام آزادی فلسطین کی جدوجہد سے انحراف کرنے کے مترادف ہے۔ 

ترکی جو کہ خلافت عثمانیہ کا دیرینہ خواب رکھنے کے ساتھ ساتھ ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے، شام میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اسرائیل سے متعلق بظاہر وہی جذبات رکھتا ہے جو کہ ایران کی انقلابی حکومت اور شام کی بشارالاسد حکومت رکھتی ہے۔ لہذا ترکی کا یہ عملی کردار جو درپردہ اسرائیل دوستی پر مبنی ہو، ناقابل فہم ہے۔ ترک پالیسی ساز اگر خلافت عثمانیہ کے دیرینہ خواب کے ساتھ مخلص ہیں تو انھیں شام میں حکومت کی تبدیلی سے زیاد ہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں دلچسپی لینی چاہیے۔ کیونکہ عالم اسلام کا مسئلہ شام کی حکومت نہیں، بلکہ فلسطین کی آزادی ہے۔ 

دوسری جانب جب مکہ کانفرنس کا اختتامی اعلامیہ پرنٹ و الیکڑانک میڈیا کی زینت بن رہا ہوگا پوری دنیا کی شاہراہیں یوم القدس کی ریلیوں، جلسوں، جلوسوں اور در و دیوار بیت المقدس، فلسطین، مسجد اقصٰی کی آزادی کے مطالبات کے بینرز سے مزین ہونگی۔ امریکہ و اسرائیل کے جھنڈے ترنگے امہ کے جذبات سے جل کر خاکستر ہو رہے ہونگے۔ مساجد و منبر سے خطباء و علماء یہودی ریاست کے وجود کو ختم کرنے کا درس دے رہے ہونگے۔ ملت کے نونہال حماس و حزب اللہ سے اپنی یکجہتی کا اظہار کر رہے ہونگے اور دنیا بھر کے مسلمان مظلوم فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے دعوے کر رہے ہونگے۔

ایسے وقت میں اسلامی دنیا کے حکمرانوں کی جانب سے جو اعلامیہ جاری ہو اور اس میں فلسطین، کشمیر کی آزادی کے بجائے شام میں حکومتی تبدیلی پر زور دیا جائے تو ایسا اعلامیہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان ایک بڑے خلاء کی نشاندہی کرے گا۔ جو اس جانب بھی ایک اشارہ ہوگا کہ اسلامی دنیا کے حکمران عوام کی نمائندگی کے بجائے سامراج اور طاغوت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کے لیے عوامی ترجیحات سے زیادہ امریکہ اسرائیل کی خواہشات اہمیت کی حامل ہیں۔
 
ایسا اعلامیہ جو فلسطین و کشمیر کی آزادی کو نقصان پہنچانے کی کوشش پر مبنی ہو، ان ہزاروں شہدا کے لہو سے بھی غداری کے مترادف ہوگا، جنہوں نے یہود و نصاریٰ اور ان کی پالیسیوں کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا،یا وہ جو سامراجی پالیسیوں کی مذمت میں تاریک راہوں پر مارے گئے یا وہ جو ان دیکھے ڈرونز کا نشانہ بنے اور وہ شہداء بھی جو صابرہ و شتیلا کے کیمپوں میں اسرائیلی بارود کا نشانہ بنے۔ 

امید ہے کہ مکہ کانفرنس عالم اسلام کو متحد کرنے کی جانب، فلسطین و کشمیر کی آزادی، شام میں بات چیت کے ذریعے مصالحت کرانے کی جانب اور اسلامی ملکوں میں بیرونی مداخلت کی روک تھام کی جانب مثبت پیش رفت کی جانب بڑھے گی۔ حکومت پاکستان بھی اپنے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے اتحاد بین المسلمین کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرے گی اور دنیا بھر کے مسلمان ہمیشہ کی طرح یوم القدس کے موقع پر آزادی فلسطین کے لیے نئے ولولے و عزم سے رشتہ استوار کریں گے۔ انشاءاللہ
خبر کا کوڈ : 186747
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iraq
yah saudia kk muslmanoo ko taqseem karny kk naii sazish hh na kh ithad kii maka or madina kk moqadas maqamat kk khidmat ka dhndhora pitny walyy arab badoo islam ko tabhii kk taraf dkhiil chokyy hh orr ab apny usa or israili aqaoo kk hukam par tamam muslims ko falsteen kk name par bolii janyy wali confrs kk name par tamam muslim mumalik ko gumrah karnyy kk koshish hh
منتخب